اسلام آباد،وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے امورِ سی ڈی اے اور رکنِ قومی اسمبلی علی نواز اعوان نے کہا ہے کہ دنیا کو چاہیے کہ وہ افغانستان میں امن کو ایک موقع دے افغان عوام گزشتہ 40 سال سے جنگ اور دہشت کے ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو اپنے ایک بیان میں کیا۔ علی نواز اعوان نے کہا کہ طالبان نے اپنے مخالفین کو معاف کرنے ، خواتین کو بنیادی حقوق دینے اور ملک میں امن اور خوشحالی کے قیام کے لیے دنیا کے ساتھ چلنے کا اعلان کیا ہے جس کا خیر مقدم کیا جانا چاہیے اور افغان عوام کی بہتری اور امن کو ایک موقع دینے کے لیے طالبان کے ساتھ مل کر چلنا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے بھی واضح طور پر کہا ہے کہ ہمیں افغانستان میں ہونے والی تبدیلیوں کو قبول کرنا چاہیے اور دنیا افغانستان میں اپنے مفادات نہ دیکھے بلکہ افغان عوام کی بہتری کو مقدم رکھے ہمیں سوویت کیانخلا کے بعد والی صورتحال پیدا ہونے سے بچنا ہے اور افغان قیادت اور عوام کے ساتھ چلنا ہے۔ پاکستان کا اصولی موقف ہے کہ یہ وقت افغانستان کو تنہا چھوڑنے کا نہیں بلکہ ساتھ دینے کا ہے۔ علی نواز اعوان نے کہا کہ افغانستان میں طالبان کی آسان فتح سے ہمیں ایک اور سبق ملا ہے کہ عوام ہو یا فوج کبھی کرپٹ حکومت کا ساتھ نہیں دیتے اشرف غنی کی قیادت بدعنوانی میں مبتلا تھی یہی وجہ ہے کہ جب عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کا موقع آیا تو اشرف غنی اپنے ڈالرز بچا کر ملک سے بھاگ نکلا ۔ کرپشن میں لتھڑے لیڈرز ملک کا دفاع نہیں کر سکتے ۔ انہوں نے کابل ائیرپورٹ پر دھماکوں کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ دھماکے ہر لحاظ سے قابلِ مذمت ہیں 40 سال سے جنگ زدہ ماحول میں زندگی گزارنے والی عوام کے لیے یہ ایک اور امتحان کی گھڑی ہے۔ اگر دنیا افغان مسئلے پر مثبت رویہ اپنائے تو ہم توقع کرسکتے ہیں کہ بہت جلد یہ ملک بھی امن کا گہوارہ بن سکے۔
دنیا افغانستان میں امن کیلئے طالبان کو ایک موقع دے، علی نواز اعوان
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
