نام: ضیغم ایاز
@zaghamayaz
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں مہنگائی جتنی بھی ہے وہ ہماری فی کس آمدن کے لحاظ سے بہت کم ہے۔ ہم بڑی آبادی ( جو وائٹ کالر جاب نہ ملے تو فارغ بیٹھ جانے کا مزاج رکھتی ہے) والا ملک ہیں۔ پچھلے بیس برس سے ہماری معیشت کا فارمولہ ایمپورٹ بیسڈ جی ڈی پی گروتھ رہا ہے۔ یعنی ہم مال باہر سے ڈالردیکر خریدتے ہیں اور روپے کے عوض مقامی آبادی کو بیچ دیتے ہیں۔ ڈالروں میں خریدا ہوا مال چونکہ ڈالروں کی بجائے روپے میں بکتا ہے اس لئے ہر اگلی خریداری کے لئے ڈالروں کی مانگ یا قیمت بڑھتی رہتی ہے۔ اس طرح روپے کی قیمت ڈالر کے مقابلے میں مسلسل گرتی چلی جاتی ہے اور روپے کے لحاظ اگلی خریدی جانے والی چیزیں مہنگی ہوتی جاتی ہیں۔ اگر اگلی خریداری کے لئے ڈالرز میسر نہ ہوں تو ڈالرز ادھار لینا پڑتے ہیں اور پھر سود سمیت اصل کو بھی ڈالروں میں لوٹانا ہوتا ہے۔
پاکستان میں معیشت ( حتی کہ زرعی ملک ہونے کے باوجود زرعی اجناس تک بھی ) درآمدات سے چلتی ہےاس لئے اگر ڈالر کی قیمت روپے کے لحاظ سے زیادہ ہوجائے یا پھر ڈالر کسی وجہ سے ساری کرنسیوں کے مقابل مضبوط ہونے لگے تو مہنگائی بڑھنے لگتی ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود 2021 کے سال میں پاکستان دنیا کا سستا ترین ملک قرار دیا گیا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہاں مہنگائی نہیں ہے بلکہ اس کا یہ مطلب ہے کہ یہاں دنیا میں سب سے کم مہنگائی ہے۔ ان کی اس رپورٹ کے مطابق 2021 کے سال میں پاکستان دنیا کا سب سے سستا ترین ملک رہا ہے۔ لیکن ہمیں پھر بھی یہ مہنگائی بہت زیادہ اس لئے محسوس ہوتی ہے کہ لوگوں کی آمدنی بہت کم ہوگئی ہےآمدن کم ہونے میں جہاں ایک جانب ملک کے معاشی سطح پر کچھ مسائل ہیں تو دوسری جانب ہمارے مزاجوں کا بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ہم ایکڑوں کے رقبے بیابان چھوڑ کر وائٹ کالر جاب کو ترجیح دیتے ہیں۔

