سید عمیر شیرازی
@SyedUmair95
انسان کو اللہ نے علم و حکمت سے سرفراز فرما کر اس دنیا میں اشرف المخلوقات بنا کر بھیجا اور اسے اس کائنات میں خلیفہ مقرر کیا اسے تسخیر کائنات کی دعوت دی جس کیلئے اسے طرح طرح کی صلاحیتیں عطا کیں سائنس نے موجودہ دور میں انسانی زندگی میں مرکزی حیثیت اختیار کرلی ہے
زندگی کے مختلف گوشے ہیں مختلف جہتیں ہیں اور اس کے بسر کرنے کے لئے انسان نے اپنی سوچ اورسمجھ کے مطابق شعبہ اختیار کررہے ہیں اس میں پیش آنے والی مشکلات کا حل سائنس کی ایجادات نے کی صورت میں پیش کیا ہے اور موجود دور میں تو اس کے ڈھیر لگے ہیں اور ہر روز نت نئی ایجادات سامنے آرہی ہیں
مسلمانوں نے چھٹی صدی عیسوی سے لے کر سولہویں صدی تک علم کی شمع کو روشن کئے رکھا کئی بنیادی نظریات پیش کئے اور ایجادات کیں جس آج کی بڑی ایجادات کی بنیاد بنی ۔ اسلام میں علم کو بنیادی اہمیت ہے اور پہلی وحی بھی اسی کے بارے میں تھی۔
موجود دور سائنس اور ٹیکنالوجی ترقی کا دورہے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہونے کے لئے سائنسی اور تکنیکی تعلیم نہایت ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر کوئی ملک خوشحالی کا تصور نہیں کرسکتا اس کے علاوہ ہنر مند افراد قوی اور قدرتی ذرائع اور وسائل کو بہتر طور پر استعمال میں لاتے ہیں جس سے ملک میں صنعتی انقلاب برپا ہوتا ہے اور اس طرح قومی معیشت مستحکم ہوجاتی ہے اور معیار زندگی بھی بلند ہوجاتا ہے۔
پاکستان ابھی تک ایک ترقی پذیرملک ہے اس میں بے روزگاری کا مسئلہ سنگین صورتحال اختیار کرچکا ہے نیز بہت سی مشینری باہر سے منگوانا پڑتی ہے ہمارا ملک زرعی اور صنعتی لحاظ سے بھی بہت پسماندہ ہے ان مسائل کے حل کیلئے ہمارے ملک کو فنی تعلیم کی سخت ضرورت ہے اس کے بغیر پاکستان ترقی یافتہ ممالک میں شامل نہیں ہوسکتا۔ اس کے لیے ہماری حکومت کا اولین فرض یہ ہے کہ ملک بھر میں زیادہ سے زیادہ جدید سائنسی و فنی تعلیم کے لئے نئے اور معیاری ادارے قائم کرے اور پرانے اداروں میں توسیع کرکے فنی تعلیم کا دائرہ وسیع کرے تاکہ زیادہ سے زیادہ فنی ماہرین تیارکرکے بیروزگاری،زرعی اور صنعتی مسائل پر قابو پایا جاسکے۔
پاکستان کے پاس بے شمار قدرتی وسائل بھی ہیں اور افرادی قوت بھی اس لیے صرف سائنسی و فنی تربیت کی ضرورت ہے کیونکہ عملی تربیت کے بغیر ہم نہ تو ترقی کرسکتے ہیں اور نہ ہی غربت و افلاس سے نجات پا سکتے ہیں ہمارے ہاں ٹیکنیکل تعلیم کی کمی کی وجہ سے آج ہمارے بازار اور منڈیاں غیرملکی اشیاء سے بھری پڑی ہیں اور لوگ انہیں خریدنے اور فروخت کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں اگر ہم نے فنی تعلیم کی طرف توجہ دی ہوتی تو آج ہم خود ہر قسم کے اشیاء اور سامان بنانے کے اہل ہو جاتے اور ہمیں دوسرے ملکوں سے سامان منگوانے کے لئے کروڑوں روپے زرمبادلہ کی صورت میں ادا کرنے نہ پڑتے۔
اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس ضمن میں ٹھوس اقدامات کئے جائیں اور کام کی رفتار کو تیز کیا جائے۔
معاشرے پر جدید علوم کے اثرات
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

