Saturday, June 13, 2026
spot_img
spot_imgspot_img
ہومدنیا"سردجنگ"

“سردجنگ”

 

تحریر: محمد محسن
@Muhamad__Mohsin

کمیونیزم کی تاریخ ویسے تو آپ کو بیسویں صدی کے اوائل سے بھی ملے گی لیکن تب یہ نظریہ اتنا مشہور نہ تھا اور نہ ہی سوویت یونین۔۔  دوسری جانب سامراجیت کو بھی اتنا نہیں جانا جاتا تھا جتنا کہ آج کی دنیا میں۔ جب بھی کسی ملک یا قوم کی طاقت کا ڈنکا بجتا ہے نظریہ بھی اسی کا چلتا ہے۔ اس کی بات کو دنیا میں اہمیت دی جاتی ہے حتیٰ کہ چھوٹی چھوٹی باتوں کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

جب جرمنی ہٹلر کے دورمیں دوسری جنگ عظیم سے پہلے اپنے عروج پر تھا تو ہر کوئی ہٹلر ہی کی بات کرتا تھا کسی کی جرات نہ تھی کہ اس کے سامنے بولے لیکن دوسری جنگ کے بعد ہٹلر کا باب تمام ہوا اور اب اس کو دنیا تاریخ میں ہی کھوجتی پھرتی ہے۔

سوویت یونین جو دوسری جنگ عظیم کے دوران پہلے پہل ہٹلر کے ساتھ معاہدے میں تھا اور ہٹلر والی سائیڈ پہ تھا لیکن جب ہٹلر نے اپنی طاقت کے نشے میں دھت یورپ کے بیشتر ممالک کو فتح کرلیا یہاں تک کہ فرانس کی بھی اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھ دی تو وہ بھول گیا کہ دشمن کون اور دوست کون۔

اسی عالم میں اس نے بیک وقت فرانس، برطانیہ اور سوویت یونین کی افواج کے سامنے اپنی افواج کو لاکھڑا کیا۔ یہ ہٹلر کے عروج کی انتہا تھی جو تھوڑی دیر کے لیے قائم رہی اور دیکھتے ہی دیکھتے نازی ازم ریت کی دیوار ثابت ہوا اور اتحادی ممالک نے ہٹلر کو چاروں خانے چت کردیا جس کے ساتھ ہی نازی نظریات کا خاتمہ ہوا اور اگلی نسلوں کے لیے نئے نظریات کی شروعات ہوئی۔

اس کے بعد دو بڑی طاقتیں (امریکہ اور سوویت یونین) جو ملکر ہٹلر کے خلاف صف آراء ہوئیں دیکھتے ہی دیکھتے اک دوسرے کی دشمن بن گئیں۔ دونوں ممالک نے اپنے نظریات کو فروغ دینا شروع کردیا جس میں امریکی سامراجیت اور سوویت یونین کی اشتراکیت نے دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کو نظریات کی ایک نئی جنگ میں دھکیل دیا۔ اس سے پہلے دنیا سلطنتوں کے الحاق سے جڑی ہوئیں تھیں جو کہ اب تبدیل ہو کر نظریات کے ساتھ ڈھل گئی۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد کالونیوں کے نظام کا بھی خاتمہ ہوا اور نت نئے ممالک معرضِ وجود میں آئے دونوں نظریاتی طاقتوں نے ان نئے ممالک کو اپنے اپنے ڈھانچہ میں ڈھالنے کی تحریکیں شروع کردیں جن کی بدولت کسی ایک کو چنا جس میں پاکستان کا جھکاو امریکا کے طرف تھا

دوسری جانب کئی چیدہ چیدہ ممالک اشتراکیت کے دلدادہ بنے جن میں چین اور کیوبا سرفہرست تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ کئی ممالک ایسے بھی تھے جو نہ تو واضح طور پر سامراجیت کی جانب مائل ہوئے اور نہ ہی انہوں نے اشتراکیت کو چنا۔ ان ممالک نے مل کرغیرجانبدار تحریک بنائی اور دونوں بڑی طاقتو کو آگاہ کیا وہ کسی کے ساتھ نہیں ہیں۔ 1991 میں سوویت یونین کے زوال کے ساتھ ہی اس کے اشتراکی نظریات کو بھی اچھا خاصا دھچکا لگا اور اس میں وہ سکت نہ رہی جو پہلے تھی۔ لیکن اس کے باوجود اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ آج بھی روس کی ایک خاص اہمیت ہے جسے قطعاً نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ ہاں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایک فرق ضرور آیا کہ پہلے جہاں اشتراکیت کے نظریات کی بڑی طاقت سوویت یونین کو سمجھا جاتا تھا اب اس کی جگہ چین لے چکا ہے۔
چین جس کو دنیا افیون کے نام سے جانتی تھی کہ چینی لوگ افیون کھاکر سوئے رہتے ہیں اور دنیا سے بے خبررہتے تھے، اسی چین نے گزشتہ 50 برس میں خوب دلجمعی کے ساتھ محنت کی اور دنیا میں اپنا سکہ منوایا۔ ماضی میں چین ایک بڑی سلطنت تھی جس کو دنیا بادشاہت کے نام سے جانتی تھی وہیں چین نے سب سے پہلے کاغذ اور کرنسی متعارف کرائی۔ بعد میں زوال کا شکار ہوئے اور پھر کبھی انگلینڈ کے ظلم برداشت کیے اور کبھی جاپانیوں کے دکھ سہے۔ کسی بھی قوم کو ایک بنانے کے لیے محنتی اور طاقتور لیڈر کی ضرورت ہوتی ہے جو ان سب کو متحد کرکے ایک قوم بنا دیتا ہے۔ چین کو بھی ماوزے تنگ کی شکل میں ایک ایسا ہی لیڈر ملا جس نے چین کو ایک ایسے ٹریک پر چڑھایا کہ جس کو دنیا میں کوئی نہیں جانتا تھا وہ بڑی طاقتوں میں سے ایک بن گیا۔ وہ اشتراکیت کا نظریاتی نظام جس کو پہلے سوویت یونین چلا رہا تھا اب چین کے ہاتھ میں آگیا جس کی وجہ جہاں امریکہ سوویت یونین کے خلاف تھا اب کھل کر چین کے سامنے آچکا ہے۔

اگر آپ تاریخ کے صفحات کو کھنگالیں تو پتہ چلتا ہے کہ سترکی دہائی میں پہلی بارامریکہ اور چین کے درمیان تعلقات استوارہوئے۔ چین حالانکہ تب بھی کمیونیزم کا حامی تھا لیکن ماؤزے تنگ کے دور سے ہی چین کی ایک پالیسی رہی ہے کہ اس نے ہمیشہ ہارڈ پاور کی بجائے سافٹ پاور کو ہی چنا۔ اسی بنا پر نظریاتی اختلاف ہونے کے باوجود چین نے امریکہ کے ساتھ ہاتھ ملایا اور چپکے سے اپنے مشن پر قائم رہا یہاں تک کہ اکیسویں صدی کے آغاز تک چین کو ایک بڑی معاشی طاقت کے طور پر جانا جانے لگا۔
جب افغانستان میں سوویت یونین اورامریکی نظریاتی جنگ چل رہی تھی تب بھی چین نے نیوٹرل رستہ ہی اختیار کیا چین معاشی پالیسی کے ساتھ ساتھ دنیا میں اپنے روابط قائم کرنے پرلگارہا جس میں پاکستان نے مسلم ممالک میں چین کے تعلقات قائم کرنے میں خاصی مدد کی شاید یہی وجہ ہے کہ چین نے شروع دن سے ہی پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کیے۔

دوسری جانب چین انڈیا کی 1962 کی جنگ نے پاکستان اور چین کو ایک دوسرے کے قریب کیا۔ پاکستان اورچین تعلقات میں اصل موڑ تب آتا ہے جب چین نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام میں مدد کے ساتھ ساتھ جب امریکی پریسلر ترمیم کے تحت پاکستان پر معاشی پانبدیاں لگیں تو دل کھول کر پاکستان کی مدد کی۔  

ماضی میں جو خطرات امریکہ کو سوویت یونین سے تھے آج وہی خطرات اسے چین سے لاحق ہیں۔ آج سوویت یونین کی جگہ چین لے چکا ہے لیکن اس کی بڑی خوبی اسکا سافٹ امیج اور منظم سسٹم ہے۔جو لوگ امریکہ کی افغانستان کی موجودگی کو صرف افغانستان اور طالبان کے پس منظر میں دیکھتے ہیں انہیں حالات کی سنگینی اور دوراندیشی کی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ میرے خیال کے مطابق یہ صرف افغانستان یا طالبان کا مسئلہ نہیں تھا کہ امریکہ بیس سال افغانستان میں بیٹھا رہا اگر ایسی بات تھی تو پھر آج اچانک یہاں سے نکل کیوں رہا ہے؟

نجیب اللہ جو سوویت یونین کی کٹھ پتلی حکومت کا سربراہ تھا کیا کوئی افریقی تھا؟ امریکہ نواز حکومت میں شامل حامد کرزئی یا اشرف غنی کوئی ایلینز ہیں؟ یہ سب کے سب افغانی ہی تھے جو دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر اپنے لوگوں پرحکومت کرکے مزے کرتے رہے۔ تو اصل بات جو یہاں بیان کی جا رہی ہے وہ ہے نظریاتی جنگ۔

امریکہ کے ساتھ تب بھی انہی یورپی ممالک کا گروپ شامل تھا جب یہ سوویت یونین کے خلاف تھے اور آج پھر وہی یورپی ممالک امریکہ کے ساتھ چین کے خلاف پنجہ آزمانے کے لیے تیار ہیں بس مسئلہ ہے تو چین کی طرف سے جو کسی ملک کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا خاص طور پر امریکہ سے۔ اب امریکہ افغانستان سے نکل کر ہمسایہ ممالک سے افغان لوگوں کی حفاظت کے لیے اڈے چاہتا ہے؟

قطعاً نہیں کیونکہ اس کے پیچھے اصل وجہ چین کے جنوبی ایشیاء میں بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کی ہے۔ پچھلے کوئی بیس برس میں امریکہ اور اس کے حامیوں نے مل کر انڈیا کی خوب مدد کی تاکہ یہ جنوبی ایشیاء میں چین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو روک سکے لیکن پچھلے برس سکم کے علاقے میں انڈیاچین کی معمولی سی جھڑپ نے ہی انڈیا کی پول کھول دی کہ انڈیا کتنے پانی میں ہے۔

انڈیا جو پچھلے بیس برس سے ایران، افغانستان اور بنگلہ دیش میں سرمایہ کاری تھا اس پر اچانک سے پانی پھر گیا۔ جب سے سی پیک شروع ہوا ہے پاکستان کی مدد کے ساتھ ساتھ چین دوسرے جنوبی ایشیائی ممالک کو اس شامل کرنے کے منصوبے بنا رہے ہیں جو نہ انڈیا کو منظور ہیں اور نہ ہی امریکہ کو۔

انڈیا نے اپنے بڑے حجم، بڑی معیشت اور فوج کی وجہ جنوبی ایشیاء کے تمام چھوٹے ممالک پر اپنا تسلط قائم کیا ہوا تھا سوائے پاکستان کے جو اب یک دم سے ختم ہو گیا۔ اب چین نے نیپال، برما، بنگلہ دیش، پاکستان اور ایران میں ڈھیروں سرمایہ کاری کرکے انڈیا کو پرے دھکیل دیا ہے اور وہی نظریات جو ایک وقت سوویت یونین جنوبی ایشیاء میں پھیلا رہا تھا اب چین پھیلا رہا ہے۔

دوسری جانب وہی امریکہ اپنے حامیوں کے ساتھ سوویت یونین کی بجائے اب چین کے گرد گھیرا تنگ کرنا چاہ رہا ہے۔ امریکہ کی یہاں بیس برس سے موجودگی اسی کی اک کڑی تھی اور اب اگر وہ اس خطے میں دوبارہ آنا چاہ رہا تو اس کی بڑی چین ہے۔ یہ وہی نظریات کی جنگ ہے جو 1945 میں شروع ہوئی تھی اور اب تک جاری و ساری ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔