Monday, June 1, 2026
spot_img
spot_imgspot_img
ہومکالم وبلاگزبلاگزعورت۔۔۔۔۔۔۔ انقلابی عزم و ہمت کا پیکر

عورت۔۔۔۔۔۔۔ انقلابی عزم و ہمت کا پیکر

‏تحریر : محمد حنظلہ شاہد
‎@Hanzalamalik92
دورقدیم تا دور جدید تمام شعبہ حیات سیاسی، معاشی، سماجی و ثقافتی تاریخ میں عورت کا بڑا کردار رہا ہے۔اگرچہ عورت کو بہت سے ایسے ادوار سے گزرنا پڑا جہاں ان کے حقوق کی پامالی کی گئی مگر صنف نازک نے ہمت نہیں ہاری بڑے صبر و تحمل اور بہادری سے کام لیا اور زندگی کے ہر شعبے میں اپنی بات کا لوہا منوایا، کبھی رضیہ سلطان کبھی جھانسی کی رانی بن کر ملک سے محبت اور بہادری کا ثبوت دیا تو کبھی مدر ٹریسا بن کر انسانیت کی خدمت کے لئے اپنی زندگی وقف کر دی، ماں کے روپ میں قوم کے مستقبل کی پروش کی،بیوی کے روپ میں بہترین دوستی کی مثال قائم کی تو بہن اور بیٹی کے روپ میں گھر کی رونق اور زینت کو دوبالا کیا غرض یہ کہ عورت کا ہر روپ ایثار و محبت اور شفقت کا حامل رہا ہے۔ بلا شبہ روئے زمین پر انسان کی بقا ایک ہی صنف کے دائرے اختیار سے باہر ہے۔ سماج کی تشکیل و ترقی میں جتنا ہاتھ مرد کا رہا ہے اتنا ہی عورت کا بھی ہے۔ انسان کسی بھی منصب و حیثیت کا حامل ہو زندگی کے سفر میں کسی نہ کسی مرحلے پر کسی خاتون کا مرہون منت ضرور ہوتا ہے۔ بارہا سننے میں آتا ہے کہ ہر کامیاب انسان کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہےیہ بات عورت کے مقام کو بلندکرتی ہے بھلے ہی تاریخ مردوں کی تاریخ ہو مگر جیسے جیسے قدیم تہذیب کے آثاردریافت ہورہے ہیں ویسے ویسے یہ بات ثابت ہو رہی ہے کہ معاشرے میں مرد کی موجودہ حیثیت ہمیشہ سے نہیں تھی گورڈن چائلڈ نے اپنی کتاب “تاریخ میں کیا ہوا؟”آثار قدیمہ کے شواہد کی بنیاد پر ان تمام کاموں کی تفصیل دی ہے جن کی ابتدا عورتوں نے کی تھی مثلا پتھر کے زمانے میں عورتیں اناج پیستی تھی، انہیں دھاگہ بنانے کے فن سے واقفیت تھی وغیرہ ۔۔
دور حاضر پر نظر ڈالیں تو صنف نازک کی قیادت قابل ستائش ہے،گھر کی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ تمام شعبہ حیات میں اپنی ذہانت کا ثبوت پیش کررہی ہیں۔ اپنے حقوق کے لئے بیدار ہیں، سماجی برائیوں اور ناانصافیوں پرسخت ردعمل کا اظہارکرتی ہیں۔ 8 مارچ 1957 عالمی سطح پر وہ اہم تاریخ ہے جب امریکہ کے ایک کپڑا مل میں مزدور خواتین نے کام کے اوقات کو سولہ گھنٹے سے دس گھنٹے کرنے اور اجرت بڑھانے کے لئے پہلی بار صدائے احتجاج بلند کیا تھا۔ اعتراض اور احتجاج کا سلسلہ جاری رہا آخر کار ان مزدور خواتین کو جدوجہد کا صلہ ملا۔ 8 مارچ1951 کو ناروے کی خواتین نے پہلی عالمی جنگ میں ہوئی انسانی تباہی و بربادی پر سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا۔8مارچ 1917 کو روس کی خواتین نے امن و بقائے باہمی کے لیے آواز اٹھائی تھی اس طرح دھیرے دھیرے 8 مارچ عالمی سطح پر خواتین کے لیے حق،خود اختیاری اور عزت و افتخار کا دن بن گیا اسی مناسبت سے ہر سال 8 مارچ کو عالمی سطح پر یوم خواتین منایا جاتا ہے۔
صنف نازک کہلانے والی یہ مخلوق اپنے آہنی ارادوں اور انقلابی عزم و ہمت کا پیکر ہونے کے باوجود وسیع القلبی، شفقت و مہربانی اور در گزر جیسی خصوصیات کا مجموعہ ہے۔ یہ خواص کسی خاص قوم کی خواتین کی ملکیت نہیں بلکہ تمام خواتین کی اجزائے ترکیبی میں شامل ہیں۔ لیکن عورت کی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ اسی صورت میں جاسکتا ہے جب عورت کو اس کے بنیادی حقوق دیئے جائیں جس میں پہلا حق تعظیم ہے جن اقوام نے اپنی خواتین کو معزیز جانا ان کا احترام کیا، ان کے حقوق کی پاسداری کی ان کے نام افق کی بلندیوں تک پہنچے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔