کابل ، افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد طالبان نے پہلی بار ملک کی سیاسی قیادت سے ملاقات کی ہے۔طالبان کے سیاسی دفتر کے رکن انس حقانی کی سربراہی میں طالبان کے وفد نے افغانستان کی قومی مصالحتی کمیشن کے سربراہ عبداللہ عبداللہ کے گھر پر سابق صدر حامد کرزئی سے اہم ملاقات کی۔ جس کے دوران افغانستان کی موجود صورت حال اور عبوری حکومت کے قیام پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس اہم ملاقات سے متعلق تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں تاہم طالبان کے برتاو اور رویے میں لچک کو دیکھتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ سیاسی مفاہمتی عمل کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے اور افغانستان میں قیام امن کا خواب پورا ہوسکے گا۔
علاوہ ازیں افغانستان کے معاملے پر اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کا اجلاس 24 اگست کو جنیوامیں ہو گا، اجلاس میں افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد انسانی حقوق کے معاملے پربحث ہو گی، اجلاس پاکستان، اسلامی تعاون تنظیم اور افغانستان کی درخواست پر بلایا جا رہا ہے، برطانیہ، جرمنی، اٹلی اور جاپان سمیت 89 ممالک درخواست کی حمایت کر چکے ہیں۔کینیڈا کے وزیراعظم نے کہا ہے کہ طالبان نے طاقت کے ذریعے ایک منتخب جمہوری حکومت پر قبضہ کیا ہے، یہ گروپ کینیڈا کے قانون کے تحت ایک تسلیم شدہ دہشت گرد تنظیم ہے، کینیڈا نے طالبان کو اس وقت بھی تسلیم نہیں کیا تھا جب وہ 20 سال قبل افغانستان پر قابض تھے، کینیڈا کا افغانستان میں طالبان کی حکومت تسلیم کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔افغان فورسز کی پسپائی کے بعد نہ صرف طالبان نے افغانستان میں سیاسی طاقت حاصل کر لی ہے بلکہ انہیں فراہم کردہ امریکی ہتھیار، اسلحہ بارود، ہیلی کاپٹرز اور دیگر ساز و سامان بھی طالبان کے ہاتھ لگنے کی اطلاعات ہیں۔ امریکی صدر جو بائیڈن کے مشیر برائے قومی سلامتی نے تصدیق کی ہے کہ افغان سیکیورٹی فورسز کو دیا گیا کروڑوں ڈالر کی مالیت کا فوجی ساز و سامان طالبان کے ہاتھ لگ گیا ہے۔امریکی صدر جو بائیڈن کے مشیر برائے قومی سلامتی جیک سلیوان نے کہا ہے کہ افغانستان سے انخلا کے فیصلے کی بنیاد 2020 میں طالبان کے ساتھ دوحا میں ہونے والا سمجھوتا ہے، افغان افواج ملکی دفاع کے فرائض انجام دے رہی تھیں، اور انہیں امریکا کی تربیت، اسلحہ اور فضائی مدد حاصل رہی۔ امریکا کے پاس دو ہی آپشن تھے کہ یا تو انخلا کیا جائے یا پھر افغانستان میں مزید فوج تعینات کئے جائیں۔ صدر نے انخلا کا فیصلہ کیا جو عین قومی مفاد میں تھا۔امریکی فوج نے افغانستان سے اب تک 3200 سے زائد افراد کو نکال لیا ہے، جن میں امریکی شہریوں، امریکہ کے مستقل رہائشیوں اور ان کے خاندان شامل ہیں۔ امریکا 31 اگست کو انخلا کی آخری تاریخ سے پہلے اپنے تمام شہریوں کو افغانستان سے منتقل کرنا چاہتا ہے۔دوسری طرف یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بورل کا کہنا ہے کہ طالبان رہنمائوں سے معاملات واضح نہ ہونے تک افغانستان کی ترقیاتی امداد معطل رہے گی تاہم افغان عوام کیلئے انسانی بنیادوں پر امداد جاری رہے گی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں جتنا جلد ممکن ہو طالبان سے بات کرنا پڑے گی کیونکہ وہ افغانستان میں جنگ جیت چکے ہیں۔ جوزف بورل نے کہا کہ طالبان حکومت کو تسلیم نہ کریں پھر بھی افغان عوام کے لیے طالبان سے بات کرنا پڑے گی ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم سے افغان فوج کی طالبان سے لڑنے کی صلاحیت جانچنے میں غلطی ہوئی ہے۔ انہوں نے طالبان پر زور دیا کہ وہ انسانی حقوق کا احترام کریں اور افغان عورتوں کوخاص طورپر تحفظ دیاجائے۔ایک جانب یورپی یونین طالبان کے ساتھ تعاون پر مشروط طور پر آمادہ ہوگئی ہے وہیں یونان حکومت نے اعلان کیا ہے کہ افغانستان سے فرار ہو کر آنے والے مہاجرین کو ملک میں داخل ہونے یا پھر ملکی سرزمین استعمال کرتے ہوئے دیگر یورپی ملکوں تک پہنچنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔علاوہ ازیں افغانستان میں طالبان کے نظم و نسق کے لیے اقدامات جاری ہیں، طالبان نے کہا ہے افغان شہریوں کو ہتھیار، گولہ بارود ان کے حوالے کرنا ہوں گے، افغان طالبان کے مزید رہنما منظر عام پر آئیں گے، دنیا ان کے رہنماوں کو بتدریج دیکھے گی، کوئی راز داری نہیں رہے گی۔طالبان رہنما عامر خان متقی نے کہا ہے کہ افغانستان میں جامع حکومت قائم کی جائے۔خبر ایجنسی کے مطابق کابل میں معمول کی زندگی شروع ہو چکی ہے، سڑکوں پر چہل پہل نظر آنے لگی ہے، دکانیں اور ریستوران کھل گئے ہیں۔ کابل کے دکانداروں کا کہنا ہے کہ سکیورٹی کے کوئی مسائل نہیں ہیں، کابل کے رہائشیوں نے امید ظاہر کی ہے طالبان لوگوں کی مدد کریں گے، لوگوں نے قیمتوں میں اضافے کی شکایت بھی کی۔افغان میڈیا کے مطابق غیر ملکیوں اور افغان باشندوں کی افغانستان سے نکلنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد کابل ائیرپورٹ پر موجود ہے، کچھ افراد کے پاس پاسپورٹ اور دیگر دستاویزات بھی نہیں ہیں ۔خبرایجنسی کے مطابق بھارتی سفارتی عملہ طالبان کے حصارمیں کابل ایئرپورٹ پہنچا،حفاظت کیلئے بھارتی سفارتخانے کے باہرمشین گنوں، گرینیڈ لانچر سے لیس طالبان کا گروہ موجود تھا، بھارتی سفارتخانے سے 2درجن گاڑیاں باہرنکلیں۔
افغان سیاسی مفاہمتی عمل کا آغاز،طالبان کی افغان سیاسی قائدین سے ملاقاتیں، یورپی یونین نے طالبان کے ساتھ تعاون پر مشروط طور پر آمادگی ظاہر کر دی
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
