لاہور /اسلام آباد، مینار پاکستان پر خاتون کو سینکڑوں افراد کی جانب سے ہراساں کیے جانے کی ویڈیو منظر عام پرآنے کے بعد ملک بھر میں غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے، وزیراعظم عمران خان نے واقعے کا نوٹس لے لیا ہے جبکہ سیاسی رہنمائوں نے واقعہ کو انتہائی شرمناک اور بہیمانہ فعل قرار دیتے ہوئے ملزمان کے خلاف سخت کارروائی پر زور دیا ہے ،پولیس نے واقعے میں ملوث400افراد کیخلاف مقدمہ درج کر کے ملزمان کی کیمروں اور نادرا کی مدد سے شناخت کی کوشش شروع کر دی ہے ،پنجاب حکومت نے واقعے میں ملوث ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کیا ہے ، ترجمان پنجاب حکومت فیاض الحسن چوہان نے متاثرہ لڑکی سے ٹیلیفونک رابطہ کر کے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے ۔
تفصیلات کے مطابق خاتون ٹک ٹاکر سے بدتمیزی، دست درازی اور ہراساں کرنے کا وزیراعظم نے سخت نوٹس لیا ہے۔ انہوں نے آئی جی پنجاب سے رابطہ کیا، انعام غنی نے عمران خان کو واقعے سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا اور اب تک کی تفتیش سے متعلق بریف کیا۔ زلفی بخاری نے ٹویٹر پیغام میں کہا کہ پولیس واقعے میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کیلئے کارروائی کر رہی ہے۔یاد ررہے کہ یوم آزادی پر مینار پاکستان گرانڈ میں عوام کے جم غفیر نے ٹک ٹاکر لڑکی کو زدوکوب کیا، ہجوم نے کھینچا تانی کی حد کر دی، خاتون کے کپڑے تک پھٹ گئے، ٹک ٹاکر کے ساتھ آئے اس کے 6 ساتھی بھی حملے سے نہ بچ پائے اور موبائل، نقدی اور طلائی زیورات سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ گریٹر اقبال پارک میں پیش آئے دست درازی کے واقعہ نے سبھی کو ہلا کے رکھ دیا، ویڈیو وائرل ہوئی تو سخت ردعمل سامنے آیا۔ایک انٹرویو کے دوران سوشل میڈیا سے شہرت پانے والی عائشہ اکرم کا کہنا تھا کہ میں نے آج تک کوئی فحش ویڈیو نہیں بنائی، فحش کپڑے نہیں پہنے، واقعے والے روز میں نے مکمل کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ میرے کچھ کہنے سے پہلے میرا سب کچھ اتار دیا گیا۔اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجھے جنگلے اور تاروں والی جگہ پر سکیورٹی گارڈ نے رکھا تھا تاہم شہریوں کے بڑے ہجو م نے تاریں اور جنگلے توڑدیئے اور اندر گھس گئے، اس دوران میرے پاس ایک ایسی آپشن بھی آئی کہ مینار پاکستان میں موجود پانی والے تالاب میں کود جاں، میری ٹیم نے بھی کہا تھا کہ آپ بچ جائیں گی، میں اس لیے نہیں کودی کیونکہ وہاں پانی بہت گہرا تھا۔خاتون کا مزید کہنا تھا کہ میں نے اور میری ٹیم نے 15 پر پولیس کو کال بھی کی، پولیس کو 2 بار کال کی گئی تھی، تاہم مجھے کوئی ریسپانس نہیں ملا، میں ساڑھے 6 بجے سے لیکر 9 بجے تک ٹارچر ہوتی رہی، لوگ میرے بالوں کو کھینچتے تھے اور لوگ کہتے تھے اٹھو ناٹک مت کرو۔عائشہ اکرم کا کہنا تھا کہ واقعہ میں ملوث لوگوں کی مجھے شکلیں یاد ہیں، میں پہچان سکتی ہوں، وہاں پر 3 سے 4 ہزار لوگ موجود تھے، ایسے لگا ساری دنیا میرے پاس آ گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک عورت پاکستان اور شہر میں محفوظ نہیں ہے تو وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں محفوظ نہیں ہے، مانتی ہوں کہ میں وہاں گئی ہوں، میرے دل چاہ رہا تھا کہ میں وہاں جاں کیونکہ میں یوٹیوبر ہوں، میں کام کے لیے گئی تھی لیکن کسی کا حق نہیں تھا مجھے مکمل طور پر برہنہ کرے۔ جب ایک عورت کو سر عام برہنہ کیا جاتا ہے تو اس کے پاس کچھ بھی نہیں بچتا۔ کیا پاکستان کی بیٹی ہونے کی یہ سزا ہے، میں وہاں فحاشی والے کپڑے نہیں پہن کر گئی تھی، میں نے آج تک کوئی فحاش ویڈیو نہیں بنائی۔ان کا کہنا تھا کہ میں دنیا کے سامنے اگر بول رہی ہوں تو اپنے لیے نہیں بول رہی، میرے ساتھ جو ہونا تھا ہو گیا، چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد خان اور وزیراعظم عمران خان سے اپیل ہے کہ کچھ ایسا کیا جائے چھوٹی چھوٹی بچیوں کے ساتھ ریپ کیا جاتا ہے ایسا واقعات نہ ہوں، میرا مطالبہ ہے اقبال پارک کو 14 اگست کو بند کیا جائے یا کچھ ایسا ہو کہ فیملی کے بغیر انٹری بالکل نہ ہو، آج اگر میرے ساتھ ہوا ہے تو کل کسی اور کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ لاڑی اڈہ پولیس نے گریٹر اقبال پارک میں خاتون سے بدتمیزی کرنے والے ہجوم کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا، مقدمہ گریٹر اقبال پارک میں موجود 300 سے 400 افراد کے خلاف درج کیا گیا۔علاوہ ازیں آئی جی پنجاب انعام غنی نے چئیر مین نادرا محمد طارق ملک سے ٹیلی فون پر بات کی ہے اور ملزموں کی فوری شناخت کرکے انکے شناختی کارڈ مانگ ہیں۔گریٹر اقبال پارک میں خاتون پر تشدد اور دست درازی کرنے والے ملزمان کو گرفتار کرنے کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔ آئی جی پنجاب نے چئیر مین نادرا سے ٹیلی فون پر بات کی ہے۔ ملزموں کی شناخت کا عمل فوری شروع کرنے کیلئے کہا۔چیئرمین نادرا کو ملزمان کی شناخت کے لیے ان کی تصاویر پولیس نے بھجوا دی گئی ہیں۔ نادرا کا عملہ چھٹی کے باوجود ملزموں کی شناخت کے عمل میں مصروف ہے۔آئی جی پنجاب انعام غنی کا کہنا ہے کہ ملزمان کے خلاف تمام ثبوت اور شواہد اکٹھے کر کے انہیں گرفتار کیا جائے گا تاکہ ملزمان سزاں سے سے نہ بچ سکیں۔ ملزمان کے خلاف دفعہ 354-Aت پ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے جس کی سزا عمر قید یا سزائے موت ہے۔آئی جی پنجاب کا کہنا ہے کہ تمام ملزمان کو سخت سے سخت سزائیں دلوائی جائیں گی۔ آئی جی پنجاب کی سی سی پی او لاہوراور ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کو مقدمہ کی براہِ راست نگرانی کا بھی حکم دے دیا ہے ۔معاون خصوصی وزیر اعظم ڈاکٹر شہباز گل نے کہاہے کہ واقعہ میں ملوث ملزمان کو پولیس گرفتار کر کے سخت ترین کارروائی کرے گی، پولیس ویڈیوز کی مدد سے ملزمان کی شناخت کر رہی ہے۔گورنر پنجاب چو دھری سرور نے کہا کہ خاتون پر تشدد میں ملوث افراداپنے انجام سے بچ نہیں سکیں گے،ترجمان حکومت پنجاب فیاض الحسن چوہان نے متاثرہ لڑکی سے فون پر رابطہ کرلیا ،فیاض الحسن چوہان کاکہناہے کہ واقعے میں ملوث ملزمان قانون کے شکنجے سے بچ نہیں سکیں گے۔دوسری جانب اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے بھی واقعہ پر اظہار تشویش کیا ، شہبازشریف کاکہناہے کہ خاتون کو ہراساں کرنا تشویش ناک ہے، اس سے زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ کس سمت جارہا ہے۔چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کاکہناہے کہ نوجوان لڑکی سے ہوئے واقعے کے بعد پاکستانی خواتین خود کو غیرمحفوظ سمجھ رہی ہیں، یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم خواتین کے تحفظ اور مساوی حقوق کو یقینی بنائیں۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک بیان میں پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا تھا کہ لاہور کے مینار پاکستان پر دل دہلا دینے والے مناظر سامنے آئے، واقعہ کے بعد ہمیں اجتماعی طور پر سوچنا ہو گا، ہمیں بطوروالدین،استاد اور رہنما نوجوانوں کی ذہن سازی کرنی چاہیے۔مریم نواز کا کہنا تھا کہ واقعہ میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایاجائے، مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے اقدامات ضروری ہیں۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک پیغام میں وزیراعلی پنجاب کا کہنا تھا کہ خاتون سے دست درازی کے شرمناک اور دل دہلا دینے والے واقعے میں ملوث تمام افراد کی نادرا اور ویڈیو فوٹیجز کے ذریعے نشاندہی کروائی جا رہی ہے۔اپنی بیان میں انہوں نے مزید کہا کہ نادرا کا عملہ چھٹی کے دن بھی ان افراد کی شناخت کے عمل میں مصروف ہے، متاثرہ خاتون کو انصاف کی فراہمی کے لئے آخری حد تک جائیں گے۔ادھر ترجمان پنجاب حکومت فیاض چوہان نے گریٹر اقبال پارک واقعے کی متاثرہ لڑکی سے ٹیلیفونک رابطے میں ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کرادی۔وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے اپنے ٹویٹر پیغام میں واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا اور پنجاب حکومت سے واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کو یقینی بنانے پر زور دیا۔
،یوم آزادی پر خاتون سے دست درازی ،وزیراعظم کا نوٹس،سیاسی قائدین نے شرمناک اور بہیمانہ فعل قرار دیدیا
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
