تحریر : محمد صابر مسعود
@SabirMasood_
بے شک حسد نیکیوں کو تباہ و برباد کرتا ہے اورگناہوں کی طرف رغبت دلاتا ہے، حسد اس دور کا ایک ناسور ہے جس سے صوفیاء وعلماء بھی محفوظ نہیں عوام کا تو کہنا ہی کیا اسی حسد کا نتیجہ ہے کہ انسان اتنا اپنی پریشانی سے پریشان نہیں جتنا دوسرے کے سکھ و چین سے پریشان ہے یہ سکون کی روزی کیسے کھا رہا ہے، کسی طرح اس کی مال و دولت چھینی جائے، اسے برباد کیا جائے، اس کے لئے تعویذ گنڈے کرائے جاتے ہیں اور نعوذ باللہ مارنے تک کی کوشش کی جاتی ہے
چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ عرب’ عصبیت کی وجہ سے ، امراء’ ظلم کے باعث ، تاجر’ خیانت و بد دیانتی کے باعث علماء’ حسد کے باعث دوزخ کا ایندھن بنیں گے۔ اب سمجھنے کی بات یہ ہے کہ جو چیزعلماء کو بھی دوزخ تک پہنچا دے گی وہ کتنی سخت ہوگی اوراس سے بچنا کتنا ضروری ہوگا۔
مزید یہ کہ انسان حسد کے باعث ذلت و محرومی کی لعنت میں گرفتار ہوجاتا ہے اپنی کسی مراد میں بھی کامیاب نہیں ہوتا کیونکہ اس کی مراد تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے تمام بندوں سے دی ہوئی نعمتوں کو چھین لے اور وہ مجھے مل جائیں، اور نہ ہی اپنے دشمنوں پرغالب آسکتا ہے کیونکہ اس کے دشمن تو اللہ تعالیٰ کے نیک بندے ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو کبھی بھی مغلوب نہیں کرتا۔۔۔
اللہ تعالیٰ حاسدین کے حسد سے ہماری حفاظت فرمائے آمین یا ربّ العالمین۔
حسد ایک لعنت
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
