ہومپاکستانافغانستان میں غلامی کی زنجیریں توڑ دی گئیں،وزیراعظم

افغانستان میں غلامی کی زنجیریں توڑ دی گئیں،وزیراعظم

اسلام آباد،وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افغانستان میں غلامی کی زنجیریں توڑ دی گئیں۔ملک میں یکساں تعلیمی نصاب کے اجرا کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اصل غلامی سے زیادہ بری ذہنی غلامی ہوتی ہے، ایک غلام ذہن کبھی بڑا کام نہیں کر سکتا۔انہوں نے کہا کہ ذہنی غلامی میں جو کپڑے وہ پہنتے ہیں آپ کو بھی وہی کپڑے پہننے پڑتے ہیں، ذہنی غلامی میں آپ ان کا سارا فیشن لے لیتے ہیں کیونکہ آ پ سمجھتے ہیں وہ آپ سے بہتر ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ملک میں یکساں نصاب تعلیم نہ لا کر بڑی ناانصافی کی گئی، دنیا میں صرف اوریجنل سوچ جاتی ہے، ہم انگلش زبان نہیں سیکھتے بلکہ ان کا پورا کلچر لے لیتے ہیں، یہ سب سے بڑا نقصان ہے، یکساں نظام میں نوجوانوں کی ایک ہی سمت ہو گی۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ یکساں تعلیمی نصاب پہلا قدم ہے ، صرف اچھی تعلیم سیکھنا کافی نہیں اس راستے پر چلنابھی ضروری ہے، مشکلات کے باوجود یکساں تعلیمی نظام سے ہم ایک قوم بنائیں گے۔وزیراعظم نے یکساں تعلیمی نصاب کے اجراکی تقریب سے خطاب میں وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود اور ان کی ٹیم کوخراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا 25سال سے میرا وژن تھاکہ ملک میں یکساں تعلیمی نصاب ہو، لوگ کہتے تھے کہ یکساں تعلیمی نصاب ناممکن ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ فیصلے کرنیوالے صاحب اقتدار کے بچے انگلش میڈیم میں پڑھتے تھے، انگلش میڈیم والوں کو صرف نوکریاں ملتی تھیں، معاشرے میں عزت تھی ، ماضی کے نصاب کی وجہ سے معاشرہ دو حصوں میں تقسیم ہوچکا تھا۔عمران خان نے کہا کہ پاکستان آزاد ہوا تو یکساں تعلیمی نصاب نہ لاکر ہم نے ظلم کیا، آج انگلش میڈیم اسکول بڑھ گئے اور معاشرے میں تقسیم بھی بڑھ گئی ، کوئی ملک ایسا نہیں کہ کرتا کہ تعلیمی نصاب کو تقسیم کر دے۔انہوں نے کہا کہ یکساں تعلیمی نصاب پہلا قدم ہے ، بڑی مشکلات کا سامنا آئے گا ، اسٹیٹس کو کے لوگ کہیں گے کہ یہ ناممکن ہے سسٹم تباہ ہوجائیگا ، کامیابی کا صرف ایک راز ہے ، بڑا قدم کشتیاں جلا کر اٹھاتے ہیں، مشکلات کے باوجود یکساں تعلیمی نظام سے ہم ایک قوم بنائیں گے۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ جب آپ کسی کی ثقافت اپنا لیتے ہیں تو اس کے ذہنی غلام بن جاتے ہیں، اصل غلامی سے زیادہ بری ذہنی طورپر غلامی ہے، افغانستان میں غلامی کی زنجیریں توڑ دی گئیں مگر ذہنی غلامی کا سامنا ہے، ایک غلام ذہن کبھی بڑے کام نہیں کرسکتا، غلامی کی زنجیریں توڑنا بہت ضروری ہیں۔عمران خان نے کہا کہ 10،9،8ویں جماعت میں سیرت نبیۖپڑھائی جائیگی اور 5سے6ماہ کے اندرسیرت نبیۖپڑھانے کیلئے اقدامات کریں، اللہ نے حکم دیا ہے کہ مسلمان نبیۖکی زندگی سے سیکھیں ، نبیۖکی زندگی سے سیکھیں گے تو اچھائی اور برائی کا پتہ چلے گا۔انہوں نے کہا کہ صرف اچھی تعلیم سیکھنا کافی نہیں اس راستے پر چلنابھی ضروری ہے، پیسہ بنانے کیلئے جاہل لوگ دین کا نام استعمال کرتے ہیں، کوئی بھی دین انسانوں کی بہتری کیلئے ہے اچھے برے کی تمیز سکھاتے ہیں، اقلیتوں کو موقع ملناچاہیے کہ وہ اپنے دین کو سمجھ سکیں۔خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے سندھ کے علاوہ ملک بھر میں یکساں نصابِ تعلیم کا اجرا کر دیا ہے یعنی مدرسے، سرکاری اسکول اور پرائیویٹ اسکول کے بچے ایک ہی نصاب پڑھیں گے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔