تحریر:محمد محسن
@Muhamad__Mohsin
تحریک پاکستان میں جہاں پنجاب، بنگال، یو پی وغیرہ پیش پیش تھے وہیں ایک اور صوبہ بھی اپنا رول ادا کرنے میں مصروف عمل تھا جس کو سندھ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ وہی صوبہ ہے جس نے ہمیشہ دوسرے صوبوں کی طرح برطانوی سرکار کے خلاف علم بغاوت بلند رکھا اور ہر سیاسی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا وہ چاہے مجاہدین کی تحریک ہو، افغانستان ہجرت کی تحریک ہو یا پھر الگ وطن حاصل کرنے کی تحریک۔
1843 میں انگریزی سرکار نے مسلمانوں کی اکثریت کو نظر انداز کرتے ہوئے سندھ کو بمبئی کا حصہ بنا دیا جس کے خلاف مسلمان سراپا احتجاج رہے اور آل انڈیا مسلم لیگ کے علم تلے اسے بمبئی سے الگ کرانے کی تگ و دو کرتے رہے۔ لہذا آل انڈیا مسلم لیگ کے بینر تلے 1925 میں سندھ کی بمبئی سے علیحدگی کی قرارداد منظور ہوئی اور مسلسل کوششوں کے بعد انڈین ایکٹ 1935 میں اسے بمبئی سے علیحدہ کرانے میں کامیاب ہو گئے۔
اگر تنقیدی نظر سے دیکھا جائے تو یہ برصغیر کے مسلمانوں کا آزادی کی جانب یہ پہلا کامیاب قدم تھا خیر جہاں سندھ میں اور بھی بہت ساری اہمیت کی حامل شخصیات تھیں وہیں ان میں ایک ایسا گمنام ہیرو بھی پوشیدہ ہے جس نے زندگی کے بہت مختصر وقت کے لیے مسلم لیگ کو جوائن کیا اس نے خود صرف سات سال کی رسمی تعلیم حاصل کی لیکن وہ سندھ کے لوگوں کے لیے بہت سارے تعلیمی، معاشی اور مزہبی ادارے قائم کر گیا۔ جو پہلے تو صرف کراچی کی میونسپلٹی کا رکن بنا لیکن بعد میں سندھ خلافت کمیٹی کے صدر سے ہوتا ہوا دہلی کی قانون ساز اسمبلی تک پہنچا۔
جو ایک معمولی سے سیاسی ورکر سے سندھ پروونشل مسلم لیگ کا کا صدر بنا اور آخر کار مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی کا ممبر بنا ۔ اس ہیرو کو ہم سرعبداللہ ہارون کے نام سے جانتے ہیں۔ سر عبداللہ ہارون 1872 میں کراچی کی ایک میمن فیملی میں پیدا ہوئے۔ ابھی وہ صرف چار سال کے ہی تھے کہ ان کے سر سے ان کے والد کا سایہ اٹھ گیا۔ خاندان پہلے ہی کسمپرسی کی حالت میں تھا اوپر سے والد کی وفات نے مزید صورتحال بگاڑدی۔
اب ان کی پرورش کی ساری ذمہ داری ان کی والدہ کے سر پر آن پڑی تھی جو ایک مذہبی خاتون تھیں۔ انہوں نے سر عبداللہ ہارون کی پرورش اس شاندار طریقے سے کی کہ بقول سر عبداللہ ہارون کے ” آج میں جو کچھ بھی ہوں اپنی ماں کی وجہ سے ہوں”. انہوں نے صرف سات سال تک ہی رسمی تعلیم حاصل کی اور غربت کی وجہ سے سائیکل ریپیرنگ کا کام کرنا شروع کر دیا جہاں اسے روزانہ چار آنے (انڈین روپے کا چوتھا حصہ) ملتے تھے۔ چوبیس پچیس برس کی عمر میں انہوں نے اپنا چھوٹا موٹا کاروبار شروع کیا اور پھر اس میں اتنی دلجمعی سے کام کیا کی کامیابی ان کے قدم چومنے لگی یہاں تک کہ انہیں سندھ میں شوگر کنگ کے نام سے جانا جانے لگا۔
جیسے جیسے وہ بزنس میں کامیاب ہوتا گیا ان کی مقبولیت بھی بڑھنے لگی جس کی وجہ سے انہوں نے بیسویں صدی کے اوائل سے ہی سیاسی معاملات میں حصّہ لینا شروع کر دیا۔ سیاسی کیرئیر کا آغاز انہوں نے اپنے شہر کراچی سے کیا جہاں سے 1913 میں وہ کراچی میونسپلٹی کے رکن منتخب ہوئے۔ یہ ان کی سیاست میں ایک باقاعدہ انٹری تھی جس کے بعد سر عبداللہ ہارون نے پیچھے مڑ کر نہ دیکھا اور سیاسیت کی مختلف منازل طے کرتے آگے بڑھتے چلے گئے۔
اس کے بعد پھر 1921 سے لیکر 1934 تک مسلسل کراچی میونسپلٹی کے رکن رہے۔ یہ تو تھی ان کی لوکل سیاست جس کے ساتھ ساتھ وہ قومی سیاست میں بھی اپنا کردار ادا کرتے رہے۔ شروع میں وہ 1917 میں کانگریس کا حصہ بنے اور آزادی کی تحریک میں حصہ لیا اسی دوران تحریک خلافت کا دور آیا تو اس کے چیدہ سپاہیوں میں ابھر کر سامنے آئے اور 1919 میں سندھ خلافت کمیٹی کے صدر منتخب ہوئے۔
لیکن جب معلوم ہوا کہ کانگریس کی ہمدردیاں ہندوؤں کے ساتھ منسلک ہیں تو اس کو خیر باد کہا اور بعد میں 1920 سے لیکر 1930 تک سندھ پروونشل مسلم لیگ کے صدر رہے۔ وہ 1924 سے 1926 تک تین سال قانون ساز کے طور پر بمبئی کی قانون ساز اسمبلی کا حصہ رہے۔ مزید تقریباً سترہ سال تک دہلی کی مرکزی قانون ساز اسملبی کے رکن رہے ۔ 1930 میں “سندھ یونائیٹڈ پارٹی” کے نام سے اپنی ایک سیاسی جماعت تشکیل دی جس نے 1937 کے الیکشن میں حصہ لیا۔ وہ خود تو منتخب نہ ہوسکے لیکن ان کی پارٹی کافی لوگ فاتح قرار پائے لیکن سندھ میں حکومت بنانے میں ناکام رہے۔
1937 کا الیکشن ان کے سیاسی کیرئیر میں ایک ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا جب انہوں نے اپنی پارٹی چھوڑ کر 1938 آل انڈیا مسلم لیگ کے بینر تلے آزادی کی تحریک شروع کی۔ اب وہ رسمی طور پر آل انڈیا مسلم لیگ کا حصہ بن گئے تھے۔ اسی دوران میں عبداللہ ہارون کو بادشاہ جارج ششم کی جانب سے “سر” کا خطاب دیا گیا جو بعد میں ان کے نام کا حصہ بن گیا۔ مسلم لیگ میں شمولیت کے بعد انہوں نے سندھ میں مسلم لیگ اور تحریک پاکستان کے لیے دن رات انتھک کوششیں کیں یہاں تک کہ وہ آل انڈیا مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی کا حصہ بن گئے جنہوں نے آگے چل کر قراداد لاہور جیسا شاہکار تیار کیا جو آزادی پاکستان کا موجد بنا۔
سر عبداللہ ہارون وہ پہلے انسان تھے جنہوں نے پاکستان کی آزادی کی تحریک 1938 سے قائد اعظم کی زیر قیادت سندھ سے شروع کی۔ یہ وہی ہیرو تھے جنہوں نے سندھ سے سب سے پہلے قراداد لاہور کو تسلیم کیا۔ انہوں نے 1942 میں مسلم لیگ کو الہ آباد کے سیشن کے دوران 10,000 کے فنڈز دئیے۔ سیاسی ورکر کے ساتھ ساتھ سر عبداللہ ہارون ایک سوشل ورکر بھی تھے جنہوں نے خاص طور پر کراچی اور سندھ کے لوگوں کے لیے بہت سارے فلاحی کام کیے جن میں تعلیمی، مزہبی اور معاشی ادارے قائم کیے۔ انہوں نے مختلف اداروں کو چندے دئیے تاکہ عام عوام ان سے مستفید ہو سکیں۔
وہ کیونکہ بذات خود غربت کو بہت قریب سے دیکھ چکے تھے لہذا وہ مزدوروں کی بہت عزت کرتے تھے اور ان کے لیے کسی نہ کسی فلاحی کام میں مشغول رہتے تھے۔ سب سے پہلے انہوں نے 1910 میں “سندھ محمڈن ایسوسی ایشن” قائم کی جس کا بنیادی مقصد عام لوگوں کے بچوں کو تعلیم فراہم کرنا تھا۔ انہوں نے لیاری کے لوگوں کے لیے “جامعہ اسلامیہ یتیم خانہ” قائم کیا۔ سر عبداللہ ہارون نے کراچی میں لڑکیوں کی تعلیم کے لئے ” کچی میمن سکول فار گرلز” قائم کیا۔ اور اس کے علاؤہ مسلم جم خانہ اور پلے گراونڈ بھی بنائے۔ انہوں نے کراچی میں غریب لوگوں کو صحت کی سہولیات مہیا کرنے کے لیے کئی ہسپتال اور ڈسپنسریاں قائم کیں تاکہ وہ غریب لوگ جو ہسپتالوں کے خرچے برداشت نہیں کر سکتے تھے یہاں سے مفت علاج کراسکیں
اس کے علاوہ انہوں نے کراچی اور سندھ میں مختلف مقامات پر مسلمانوں کے لیے مساجد بھی تعمیر کرائیں۔ انہوں نے پاکستان کے لیے اپنے تن، من دھن کی بازی لگائی لیکن زندگی نے اسے آزاد ملک میں سانس لینے کی مہلت نہ دی اور وہ 27 اپریل 1942 کو اس دنیا فانی سے رخصت ہوگئے۔
