عنوان :فرقہ پرستی
تحریر : عمالقہ حیدر
اک پہاڑ کی چوٹی پر ہر نسل کے لوگ پہنچنا چاہتے ہیں اور ہر نسل مختلف انداز سے یہ مرحلہ طے کرنا چاہتی ہے کوئی تو پہاڑ پر آڑھے ترچھے راستوں کے ذریعے پہنچنے کی کوشش میں ہے اور کوئی اسی طرح پہاڑ کی چوٹی کو عبور کرنے کی لگن میں ہیں اک گروہ تو صرف دعا کے ذریعے کچھ دن تک پہنچ جائے گا اور اک گروپ مراقبہ کر کے روحانی طاقت کے طفیل منزل حاصل کرنے کا دعوی کر رہا ہے لیکن ہر نسل کا کا آدمی دوسرے کو گالیوں کے ساتھ برا بھلا بھی کہیے جا رہا کیونکہ اس کے خیال کے مطابق وہ پہاڑ کی چوٹ پر اس لیے نہیں پہنچ سکتا کیونکہ اسکا راستہ مشکل بھی ہے اور ناممکن بھی ہے ،یہی حال ہمارے مسلمان بھائیوں کا ہے اک اللہ، اک رسول اور اک کتاب ہے اور سب اسی کے پیرکار ہیں ،سب کی منشا اللہ کی رضا وہ بھی حضرت محمد کی اتباع کے ذریعے ہے اور سب اس منزل کی قدر اتنی ہی کرتے ہیں جتنی کہ دوسرے لیکن سب اپنے اپنے عقیدے اور مسلک میں اتنے مگھن ہیں کہ دوسرے عقیدے کے لوگ اسے ایک آنکھ نہیں بھاتے بریلوی دیو بندی کے خلاف گستاخ رسول کے فتوے دیے جارہا ہے اور دیو بندی بریلوی کے خلاف مشرک مشرک کا ورد کیے اپنے من کو تسکین و شانتی سے اطمینان دیتا ہے،لیکن سب کی منزل وہی پہاڑ کی چوٹی ہے سب اسے منزل کی طرف رواں دواں ہیں سب لڑتے جھگڑتے آخر اک جگہ اکٹھا ہو جائیں گے پھر اک دوسرے کی طرف سوالیہ نظروں سے اس لیے دیکھتے رہیں گے کہ ہم نے کیا کیا اور ہم نے کیوں ایسی بد اخلاقی جس سے آج ہم شرمسار ہیں اک گروہ تو اس لیے بھی نادم ہوگا کہ جو فتنہ ہم نے مذہب کی آڑ میںپھیلایا تھا اب اس کا حساب کون دے گا۔بے شک فتنہ قتل سے کہیں بڑھ کے ہے۔
سبھی تیرے در کے فقیر ہیں
سبھی تیرے در کے اسیر ہیں
کوءتجھے پکار ساز میں
کوءتجھے پکارے سوز میں
مذہب کو سب سے زیادہ نقصان پیٹ کے تقاضوں نے دیا ہے۔فروعی مسائل کی ایجاد کے پیچھے غریب ملا کی شکم پروری کھڑی ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ قتل و غارت مذہب کے نام پہ ہوئی ہے۔سر اور قافیے سے بھری نئی تقریر نے سادہ دل عوام کے دل لبھا لیے یوں مذہب کی نئی راہ نے نسل در نسل شفاف دلوں پر راج کیا ہے۔
خرد دیکھے اگر دل کی نگاہ سے
جہاں روشن ہے نور لا الہ سے
ہم جتنے اپنے مسلک و عقیدہ میں مطمئن ہیں ہمارے دوسرے مسلمان بھائی اتنے اپنے عقائد میں روح کی گہرائیوں سے اطمینان میں ہیں ہم ملا کی چند نفرت انگیز تقریروں سن کر دل و دماغ میں آتش فشاں بھرتے ہیں اور سالہا سال اسی آتش فشاں سے روح کو بلاسٹ کرتے رہتے ہیں۔یوں امت محمدیہ کے بھائی سے دور ہمیشہ دور رہتے ہیں یہی حال کم و بیش ہر آدمی کا ہے ،ہر آدمی کسی نہ کسی کے خلاف نفرت اس لیےرکھتا ہے کہ اس کے مسلک و عقائد میں یکسانیت نہیں ہے۔آج سے یہ کیوں ناں عہد کیا جائے کہ ہر وہ منفی اور تعصب سے بھری تقریر کو ترجیح نہیں دینی ہے۔جو شر پھیلانے میں مہارت رکھتا ہے۔۔ اور اس ملا سے نفرت ہوگی جو ہمیں اپنے مسلمان بھائی سے دوری سکھاتا ہے جو ہمارے ذہنوں میں نفرت کے وہ بیج بوتا ہے۔ جس کے شجر تلے ہماری نسل بیٹھ کر آنے والی نسلوں کو فرقہ پرستی کے اسباق دے کر اپنے لیے جنت میں محلات بناتی ہے۔ کیوں ناں اپنے گھروں میں رکھی کتابوں کو نظر آتش کیا جائے جو ہمیں اک چھوٹے سی نہر میں تیرنا سکھاتی ہیں اور ہمیں پڑوسی کی قدر اس لیے نہیں کرنا دیتی کہ وہ اذان سے پہلے دورد پڑھتا ہے اور ہم اذان کے بعد پڑھتے ہیں۔ اور وہ جنازہ کے بعد دعا مانگتے ہیں اور ہم سارے جنازے کو دعا کہتے ہیں ،اللہ ہم سب کو اس فرقہ پرستی سے دور رکھے جو ہمیں مسلمان بھاءسے دور کرتی ہے۔
رہے گا راوی و نیل و فرات میں کب تلک۔
تیرا سفینہ ہے بحر بیکراں کے لیے_
فرقہ پرستی
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
