Tuesday, May 19, 2026
ہومپاکستانوزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت کوئٹہ میں نیشنل ایکشن پلان کی صوبائی ایپکس کمیٹی کا اجلاس ،اہم فیصلے

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت کوئٹہ میں نیشنل ایکشن پلان کی صوبائی ایپکس کمیٹی کا اجلاس ،اہم فیصلے

کوئٹہ (سب نیوز)وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت کوئٹہ میں نیشنل ایکشن پلان کی صوبائی ایپکس کمیٹی کا اجلاس ،اجلاس میں وزیراعظم کو بلوچستان میں سیکیورٹی، ترقیاتی منصوبوں کی پیشرفت، منصوبہ بندی اور دیگر امور پر بریفنگ دی گئی ،وزیراعظم کی بلوچستان اور باقی ملک میں انسداد دہشتگری کے لیے اقدامات کے لیے چیف آف ڈیفنس فورسز سید عاصم منیر اور پاک افواج کو خراج تحسین ،وزیراعظم کی بلوچستان میں عوامی فلاح و بہبود کے لیے متعدد اقدامات پر وزیر اعلی میر سرفراز بگٹی اور ان کی ٹیم کی پزیرائی،وزیراعظم کی بلوچستان کی رخشان ڈویژن میں فرنٹیئر کور تعینات کرنے کی ہدایت۔

انہوں نے کہا کہ اس امر سے بلوچستان میں معدنیات کے تحفظ کے لیے ایک راہداری قائم ہو گی،اس سیکیورٹی راہداری میں فرنٹیئر کور کے اضافی ونگز، شاہراہوں پر سیکیورٹی چیک پوسٹس، سرویلنس گرڈ، سرحدوں پر پوسٹس وغیرہ شامل ہوں گی ۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل بالخصوص معدنیات سے مالامال ہے، بلوچستان میں محفوظ ماحول فراہم کرنا معدنیات سے منسلک منصوبوں پر کام کرنے والی مقامی اور بین الاقوامی کمپنیوں کا ملک میں اعتماد برقرار رکھنے کے لیے نا گزیر ہے، وزیراعظم نے حکومت بلوچستان کی جانب سے ضلعی انتظامیہ میں تعیناتیوں کے لیے شفافیت اور میرٹ برقرار رکھنے کی کاوشوں کی پزیرائی کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کی عفریت کے مکمل خاتمے کے لیے پولیس اور دیگر فورسز کی بہترین ٹریننگ اور نئی ٹیکنالوجی انتہائی اہم ہے،حکومتِ پاکستان بلوچستان کے نوجوانوں کو قومی دھارے میں موثر انداز میں شامل کرنے، انہیں بااختیار بنانے اور مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے

ان اقدامات میں تعلیمی مواقع میں اضافہ، فنی و پیشہ ورانہ تربیت، روزگار کے مواقع کی فراہمی، اسپورٹس اور یوتھ پروگرامز کا فروغ، اسکالرشپس، ڈیجیٹل اسکلز ٹریننگ، اور نوجوانوں کی فیصلہ سازی کے عمل میں شمولیت شامل ہیں،بلوچستان میں انفراسٹرکچر، تعلیم، صحت اور مواصلات کے شعبوں میں ترقیاتی منصوبوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ نوجوانوں کو بہتر سہولیات اور ترقی کے مساوی مواقع فراہم کیے جا سکیں، حکومت نوجوانوں کے ساتھ تعمیری رابطے اور موثر شمولیت کے ذریعے انہیں قومی ترقی میں فعال کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کرنے کے لیے بھی کوشاں ہے۔ اجلاس میں وزیراعظم کو بلوچستان میں سیکیورٹی صورتحال، انسداد دہشتگری کے لیے اقدامات کی پیشرفت، گورننس کے نظام میں بہتری کے لیے اقدامات، ڈیجیٹائزیشن، کیش لیس اکانومی کے لیے اقدامات اور دیگر امور پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے تمام ادارے سرگرم عمل ہیں، بلوچستان میں نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لیے یوتھ سکلز پروگرام اور دیگر منصوبوں پر کام جاری ہے،نومبر 2024سے اب تک ایک بھی پولیو کیس رپورٹ نہیں ہوا،کینسر انسٹیٹیوٹ ، ڈائلیسس سینٹر، ٹراما سینٹر اور اس جیسے شعبہ صحت کے متعدد منصوبے فعال ہو چکے ہیں اور مزید کی تعمیر پر کام جاری ہے،بلوچستان میں اس وقت 99 فیصد سکول کھلے ہیں اور تعلیمی سر گرمیاں جاری ہیں ، شمسی توانائی کے منصوبے سے بلوچستان میں 15000 سے زائد گھروں کو فائدہ پہنچا ہے جس کی بدولت اب تک تقریبا 105 ارب روپے کی بچت رپورٹ ہو چکی ہے، اجلاس میں آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی، وفاقی وزرا خواجہ آصف، احسن اقبال، سید محسن رضا نقوی، عطا اللہ تارڑ، خالد مگسی، جام کمال خان، وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ اور متعلقہ اداروں کے اعلی افسران شریک تھے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔