ہومبریکنگ نیوزحج کے دوران کیسے انتظامات تھے؟ پاکستانی حجاج نے بتا دیا

حج کے دوران کیسے انتظامات تھے؟ پاکستانی حجاج نے بتا دیا

مکہ مکرمہ (سب نیوز )رواں سال کا حج دنیا بھر سے لاکھوں حجاج کرام کے لیے شدید گرمی کے باعث انتہائی سخت رہا۔ مکہ میں ہیٹ اسٹروک کے باعث کئی عازمین حج جاں بحق ہوگئے۔سعودی حکام کے مطابق رواں برس تقریبا 18 لاکھ افراد نے حج ادا کیا جن میں سے 16 لاکھ افراد بیرونی ملک سے فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے پہنچے تھے۔

سعودی میڈیا رپورٹ کے مطابق مناسک حج کے دوران گرمی سے ہلاک ہونے والے عازمین کی تعداد 922 بتائی گئی ہے۔ جن میں کم ازکم 35 پاکستانی عازمین ہیٹ اسٹروک سے ہلاک ہوئے۔پاکستان سے سرکاری اور نجی حج کرنے والے حجاج نے بی بی سی اردو کو مناسک حج کے دوران پیش آنے والے مسائل اور انتظامات سے متعلق بتایا۔

پاکستان کے شہر اسلام آباد سے فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے جانے والی خاتون نے بتایا کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ سرکاری حج کرنے گئیں مگر وہاں کے خراب انتظامات نے انہیں بہت دلبرداشتہ کیا۔خاتون نے بتایا کہ ہمیں وہاں کسی بھی چیز کے لیے شکایت کرنی ہوتی تو اہلکار ہماری بات کو نہیں سنتے۔

پاکستانی خاتون بتاتی ہیں کہ مزدلفہ میں پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے حجاج کو جگہ فراہم کی گئی تھی، اور وہ جگہ پہاڑوں کے درمیان گہرائی میں تھی۔ وہاں لوگ گھٹن کا شکار ہورہے تھے اور شدید گرمی کے باعث لوگ واش روم کے باہر سونے پر مجبور ہوگئے۔انہوں نے کہا کہ وہ رات میں نے کیسے گزاری صرف اللہ بہتر جانتا ہے۔ پوری رات میرے شوہر مجھے پنکھے سے ہوا دیتے رہے۔ میں صرف یہی دعا کرتی رہی کہ اللہ میاں بس فجر کی نماز پڑھ کر میں یہاں سے نکل جاں۔

وہیں بی بی سی سے گفتگو میں ایک اور پاکستانی خاتون منزہ انوار نے حج کے ایام سے پہلے انتظامات بہتر تھے لیکن مشاعر کے دنوں میں وہ بہت پریشانی کے عالم میں مبتلا ہوگئیں تھیں۔واضح رہے سوشل میڈیا پر حجام کرام کو بے یار و مددگار چھوڑنے سے متعلق بے خبریں سامنے آنے پر ڈی جی حج عبدالوہاب سومرو کا بیان سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی بے بنیاد افواہوں کو عوام نظرانداز کریں۔

ڈی جی حج کا کہنا تھا کہ ہم سعودی حکومت کی جانب سے مہیا کی گئیں معلومات پر بھروسہ کرتے ہیں جن کی ہم بعد ازاں خود بھی تصدیق کرتے ہیں۔بی بی سی اردو کی رپورٹ کے مطابق حج کے دوران اگر کوئی حاجی فوت ہوجائے تو اس کی تدفین کے مراحل اور ذمہ داری سعودی حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔

حجاج کرام حج کی تیاری کے دوران ایک حج درخواست فارم بھرتے ہیں جس میں وہ بتاتے ہیں کہ اگر ان کا انتقال سعودی عرب کی زمین یا فضا میں یوجائے تو انھیں وہیں دفنایا جائے اور اگر اس کے اہلخانہ اعتراض اٹھائیں تو اسے قبول نہیں کیا جائے گا۔ حاجی کی میت وطن واپس نہیں بھیجی جاتی بلکہ ان کی تدفین سعودی عرب میں ہی ہوتی ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔