اسلام آباد(سب نیوز ) پاکستان میں کرغزستان کے سفیر اولان بیگ کا کہنا ہے کہ بشکیک کی صورتحال مکمل کنٹرول میں ہے اور پاکستانی طلبہ واپس کرغزستان جا سکتے ہیں۔وفاقی دارالحکومت میں اولان بیگ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 13 مئی کی شام بشکیک کے ایک ہاسٹل میں مقامی اور غیرملکی طلبہ میں جھگڑا ہوا جس میں ملوث تمام افراد کو تھانے لے جایا گیا۔انہوں نے کہا کہ 17 مئی کو سوشل میڈیا پیج پر لڑائی اور زخمی کرغز شہریوں کی ویڈیو وائرل ہوئی جس کے بعد 18 مئی کی رات بشکیک میں لوگوں کا ایک ہجوم اکٹھا ہو گیا اور مطالبہ کیا کہ غیر ملکیوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
کرغز سفیر نے مزید کہا کہ واقعے میں شریک افراد میں کوئی شدید زخمی نہیں ہے لہذا ذرائع ابلاغ کے نمائندے غیر معتبر اور غیرتصدیق شدہ معلومات پھیلانے سے گریز کریں۔اولان بیگ نے مزید کہا کہ صدرکرغزستان نے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے فوری طور پر واقعے پر بریفنگ بھی لی اور ساتھ ہی صدر نے ایسے لوگوں کو فورا سزا دینے کا بھی کہا۔اولان بیگ نے بتایا کہ فسادات کے بعد پولیس افسران سمیت چیف اور داخلی امور کے ڈائریکٹوریٹ کے 9 افسران کو عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کرغز حکومت نے پاکستانی حکومت سے رابطہ کرکے اپنا نمائندہ مقرر کرنے کا بھی کہا ہے جبکہ کرغز وزیر خارجہ نے پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات بھی کی ہے۔انہوں نے کہا کہ بشکیک کی صورتحال اب مکمل کنٹرول میں ہے، پاکستانی طلبہ کو واپس جانے کی اجازت ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کرغزستان آنے والیخوفزدہ نہ ہوں کیونکہ کرغز لوگ مہمان نوازی کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اور کرغزستان میں بہت سی چیزیں مشترک ہیں، امید ہے ہم خطے کی خوشحالی ہے لیے مل کر کردار ادا کریں گے۔
