ٹورنٹو، کینیڈاکے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے سپریم کورٹ آف کینیڈامیں پہلے بھارتی مسلم جج کی نامزدگی کردی ۔بین الاقوامی میڈیا کے مطابق کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے جسٹس محمد جمال کو سپریم کورٹ آف کینیڈاکا جج نامزد کیا ہے اور کینیڈاکی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی مسلم جج کی نامزدگی کی گئی ہے۔ جسٹن ٹروڈو نے جسٹس جمال کی نامزدگی پر اپنے بیان میں کہا کہ ” میں جسٹس جمال کو جانتا ہوں ، وہ بہترین قانونی اور اکیڈیمک ریکارڈ کے حامل انسان ہیں ، وہ ہمارے ملک کی سب سے بڑی عدالت کے لیے ایک اثاثہ ثابت ہوں گے “۔جسٹس جمال نے 2019 میں اونٹاریو کی کورٹ آف اپیل میں بھی جسٹس کے طور پر اپنی خدمات انجام دی تھیں ۔ جسٹس محمد جمال اب سپریم کورٹ میں جسٹس روزیلی ابیلا کی جگہ لیں گے ، جو اس وقت کینیڈین سپریم کورٹ میں سب سے لمبے عرصے تک خدمات انجام دینے والی جج ہیں ۔ جسٹس ابیلا اپنی 75 ویں سالگرہ پر سپریم کورٹ کے جج کے عہد سے ریٹائر ہوجائیں گی ۔محمد جمال نے اپنی نامزدگی کے حوالے سے کہا کہ ” زندگی کے اس حصے میں میرے لیے قانون میں کچھ حصہ ڈالنا اہم ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ” میں سکول دور میں ایک عیسائی ماحول میں پلابڑھا ہوں ، لیکن گھر پر قرآن پاک کی تعلیمات کی روشنی میں نماز پڑھتا رہا اور ایک باعمل مسلمان ہوں “۔جسٹس محمد جمال 1967 میں نیروبی میں پیدا ہوئے ۔ ان کا خاندان اچھے روزگار کے سلسلے میں 1969 میں انگلینڈ آگیا ۔ اور 1981میں ان کے خاندان نے ایڈ منٹن میں مستقل طورپر سکونت اختیار کرلی ۔ جہاں انہوں نے سکول میں داخلہ لیا اور اپنا تعلیمی سلسلہ شروع کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ کینیڈا میں رہتے ہوئے دوسرے مذاہب کے افراد کے ساتھ بات چیت کرنا ، ان کا کلچر اور انہیں سمجھنا آسان رہا ہے ۔ ان کی اہلیہ کا تعلق ایران سے ہے ، اہلیہ کے بارے میں ان کا کہناتھا وہ 1979میں ایران میں پیدا ہونے والی خون ریز تحریک کے دوران کیننڈا منتقل ہو گئیں تھیں ۔یاد رہے کہ سپریم کورٹ آف کینیڈا میں پہلے مسلم جج محمودجمال ممکنہ طور پر یکم جولائی کوعہدے کا چارج سنبھالیں گے۔
جسٹس محمد جمال سپریم کورٹ آف کینیڈا میں پہلے بھارتی نژاد مسلم جج نامزد
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
