ہومسائنس و ٹیکنالوجیپانچ برس بعد چین کا انسان بردار مشن خلا کی جانب روانہ

پانچ برس بعد چین کا انسان بردار مشن خلا کی جانب روانہ

بیجنگ ، پانچ برس کے وقفے کے بعد جمعرات کی صبح چین کا ایک انسان بردار مشن خلا کی جانب روانہ ہو گیا ہے۔ چینی میڈیا کے مطابق تین خلا باز شینزو بارہ نامی خلائی جہاز پر سوار ہو کر چینی خلائی اسٹیشن کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ وہ وہاں آئندہ تین ماہ گزاریں گے اور ان کا مشن آئندہ سال کے اختتام تک چینی خلائی اسٹیشن کی تعمیر مکمل کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔ چین نے خلا میں اپنے ایک اسٹیشن کی تعمیر کا کام اسی سال شروع کیا تھا۔ اسی اسٹیشن کی تعمیر کے لیے اگلے ایک سال میں چین کئی اور مشن خلا کی جانب روانہ کرے گا۔ چین اقتصادی، عسکری اور دیگر میدانوں کے ساتھ ساتھ خلا اور تحقیق میں بھی اپنے حریفوں سے پیچھے نہیں رہنا چاہتا۔چینی حکام کے مطابق 17 جون جمعرات کی صبح جو ‘دی لانگ مارچ 2ایف’ راکٹ خلا میں کامیابی کے ساتھ روانہ کردیا گیا ہے اس میں تین چینی خلا باز سوار ہیں۔ شمال مغربی گوبائی صحرا کے جیکوان خلائی مرکزسے بیجنگ کے مقامی وقت کے مطابق صبح نو بج کر 22 منٹ پر اسے لانچ کیا گیا۔ تینوں خلا باز پہلے چینی خلائی مرکز کی تعمیر کے لیے تین ماہ تک فضا میں قیام کریں گے۔ چین کا ‘شینزو 12’ خلائی پروگرام گیارہ مشنوں پر مشتمل ہے اور یہ اس کڑی کا تیسرا مشن ہے۔ اس میں سے چار مشن خلائی ماہرین کے عملے پر مشتمل ہیں جن پر چین کے پہلے خلائی مرکز مکمل کرنے کی ذمہ داری ہے۔روانگی سے قبل چینی خلا بازمخصوص خلائی لباس میں ملبوس تھے جنہیں چین کے خلائی ادارے کے سربراہ اور تین دیگر فوجی افسران نے رخصت کہا۔ تینوں خلا بازوں نے خلائی ادارے کی طرف روانہ ہونے سے قبل وہاں موجود مداحوں کی بھیڑ کو دیکھ کر ان کی جانب ہاتھ ہلا یااور ان کا شکریہ ادا کیا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔