اسلام آباد(خبر نگار خصوصی )وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان امریکا اور چین دونوں کا دوست ہے، پاکستان کے ساتھ جڑے رہنا امریکا کے مفاد میں ہے۔وزیر خارجہ نے یہ بات غیر ملکی خبر رساں ادارے الجزیرہ کو دیئے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی طاقتیں افغان مسئلے کے مذاکرات کے حل پر متفق ہیں۔ افغانستان میں امن کیلئے کردار ادا کیا اور کر رہے ہیں۔اسرائیل اور فلسطین کے تنازع پر پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ امریکی ردعمل سست تھا، بائیڈن انتظامیہ کئی جانیں بچا سکتی تھی۔ غزہ میں اسرائیلی کارروائی بربریت پر مبنی تھی۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اسرائیل کو پہلی بار ملک کے اندر سے بھی دبا کا سامنا رہا۔ اسرائیل جان چکا تھا کہ وہ میڈیا کی جنگ ہار رہا ہے۔ جنگ بندی سے خوشی ہوئی، امید ہے برقرار رہے گی۔اپنے انٹرویو کے دوران وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکا کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ انسانی حقوق پر یقین رکھتا ہے۔دوسری جانب وزیر خارجہ اور پاکستان کے دورے پر آئے صدر جنرل اسمبلی وولکان بوزکیر کے مابین وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے۔ ان مذاکرات میں فلسطین اور جموں و کشمیر کی صورتحال، اقوام متحدہ سلامتی کونسل اصلاحات، افغان امن عمل ،اور کورونا ویکسین کی دستیابی سمیت باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر دہائیوں سے اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر ہیں۔پاکستان، اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر کے مستقل منصفانہ حل کا متمنی ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ قیام امن، سلامتی کونسل کی بنیادی ذمہ داری ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل اصلاحات کے حوالے سے بھی تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان، اقوام متحدہ سلامتی کونسل کو مزید موثر اور فعال بنانے کیلئے اصلاحات کو ناگزیر گردانتا ہے۔وزیر خارجہ نے صدر جنرل اسمبلی کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی تفصیلات سے آگاہ کیا اور کہا کہ ہندوستان کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادیاتی تناسب کی تبدیلی کا اقدام، اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی صریحا خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ غزہ اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو رکوانے اور مظلوم فلسطینیوں اور کشمیریوں کو جبرو استبداد سے نجات دلانے کیلئے اقوام متحدہ سلامتی کونسل کو موثر کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔وزیر خارجہ نے افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے پاکستان کی مصالحانہ کاوشوں سے صدر جنرل اسمبلی کو آگاہ کیا ۔وزیر خارجہ نے کہا کہ خطے میں امن و استحکام اور روابط کے فروغ کیلئے افغان امن عمل کا نتیجہ خیز ہونا انتہائی ضروری ہے۔ پاکستان، افغانستان سمیت خطے میں قیام امن کیلئے اپنی مخلصانہ کوششیں جاری رکھنے کیلئے پر عزم ہے۔وزیر خارجہ نے کورونا وائرس کی وبا سے بچائو اور ویکسین کی دستیابی کیلئے صدر جنرل اسمبلی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ تمام ممالک بالخصوص ترقی پذیر ممالک کو کورونا ویکسین کی فراہمی کیلئے بین الاقوامی سطح پر مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی وبا کے معاشی مضمرات سے نمٹنے کیلئے، وزیر اعظم عمران خان کے قرضوں کی ادائیگی میں سہولت کے اقدام سے آگاہ کیا۔صدر جنرل اسمبلی نے پرتپاک خیر مقدم اور میزبانی پر وزیر خارجہ کا شکریہ ادا کیا۔صدر جنرل اسمبلی وولکان بوزکیرنے فلسطین کے حوالے سے منعقدہ جنرل اسمبلی کے ہنگامی اجلاس میں، پاکستان کے واضح موقف اور وزیر خارجہ کی بھرپور شرکت کو سراہا۔وولکان بوزکیر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ کشیدگی سے جو آگ بھڑکی ہے وہ ابھی پوری طرح بجھی نہیں ہے، اس آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے صدر جنرل اسمبلی اپنا کردار ادا کریں اور اس آگ کو بجھانے کا واحد حل مذاکرات اور اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کے مطابق دو ریاستی حل ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ‘میرا مصر کے ہم منصب سے بھی رابطہ کرنے کا ارادہ ہے اور میں یہاں مصر کی قیادت کے تعمیری کردار کا اعتراف کرنا چاہتا ہوں جن کی گزشتہ روز وزیر اعظم عمران خان سے خوشگوار ماحول میں گفتگو ہوئی’۔انہوں نے کہا کہ ‘اس ٹیلی فونک گفتگو میں موجودہ صورتحال اور آنے والے دنوں میں اٹھائے جانے والے اقدامات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا’۔وزیر خارجہ نے کہا کہ ‘میں نے وولکان بوزکر کی اسلام آباد میں موجودگی کا فائدہ اتھاتے ہوئے انہیں مقبوضہ جموں و کشمیر کی سنگین صورتحال اور انہیں مقبوضہ فلسطین اور مقبوضہ کشمیر میں مماثلت سے آگاہ کیا’۔انہوں نے کہا کہ ‘مقبوضہ کشمیر کے عوام بھی حق خودارادیت مانگ رہے ہیں اور کہہ رہے کہ وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں، اقوام متحدہ نے ہم سے وعدہ کیا تھا جو وفا نہ ہوا’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘فلسطین اور کشمیر دونوں کے حوالے سے اقوام متحدہ کو اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے’۔شاہ محمود نے کہا کہ ‘میں نے صدر جنرل اسمبلی کو افغانستان میں بدلتے ہوئے حالات اور افغان امن عمل میں پاکستان کے کردار اور سہولت کاری کے متعلق آگاہ کیا’۔انہوں نے کہا کہ ‘اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے ملاقات کے دوران انہوں نے کہا کہ طاقت کا مرکز تبدیل ہو رہا ہے، آج عالمی برادری پاکستان کو مسئلے کے حصے کے طور پر نہیں بلکہ مسئلے کے حل کے طور پر دیکھ رہی ہے، یہ گزشتہ چند سالوں میں آنے والی ڈرامائی تبدیلی ہے۔
پاکستان سے جڑے رہنا امریکا کے مفاد میں ،بھارت ضرب لگائے ہم خاموش رہیں، یہ نہیں ہو سکتا، شاہ محمود
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
