اسلام آباد:مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر محمد کاشف چودھری نے حکومت کی جانب سے تاجر دوست بجٹ کے دعوی کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس دعوے کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ،ماضی کی طرح یہ بجٹ بھی خسارے کا بجٹ ہوگا اور نہ ہی عوام اور تاجروں کو اس بجٹ میں کوئی ریلیف دیئے جانے کا امکان ہے بجٹ میں نئے ٹیکسز لگائے جانے کی صورت میں مہنگائی کا ایک طوفان آ جائیگا ۔منگل کو جاری بیان کے مطابق محمد کاشف چوہدری نے کہا کہ سیاسی عدم استحکام اور موجودہ انتشاری صورتحال نے پہلے سے تباہ حال معیشت پر کاری ضرب لگائی ہے اور عوام سمیت کاروباری طبقہ کے لئے اپنی زندگیوں سے ناطہ برقرار رکھنا مشکل ہوگیا ہے
،کاروبار تباہ ہو رہے ہیں ،چھوٹے تاجر اپنے کاروبار بند کر رہے ہیں ۔بے جا ٹیکسز کی بھر مار کی وجہ سے تاجر ذ ہنی اذیت کا شکار ہو رہے ہیں جبکہ دوسری جانب آئی ایم ایف کے ایماء پر عوام پر مہنگائی کے بم گرائے جانے کے باوجود حکومت کو معاہدے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ ڈیفالٹ ہونے کی باز گشت پھر سے ہونے لگی ہے اور حکومت قرض لیکر معاملات چلا رہی ہے حالیہ رپورٹ کے مطابق حکومت نے ایک سال میں 14900ارب روپے کا قرض لیکر نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے
ایسے حالات میں عوام اور تاجر دوست بجٹ کے دعووں کا بیانیہ سچ نہیں لگ رہا ۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت تمام سٹیک ہولڈر سے مشاورت کرکے عوام اور تاجر دوست بجٹ پیش کرے تاکہ ملک و قوم مہنگائی کی دلدل سے نکل سکے ۔ہم نے بجٹ تجاویز پیش کیں ان تجاویز پر عملدرآمد کرکے معیشت کو بہتری کی جانب گامزن کیا جا سکتا ہے۔

