راولپنڈی(آئی پی ایس )بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان نے کہا ہے کہ عمران خان 8 ماہ سے قید تنہائی میں ہیں، جاوید ہاشمی اور اعتزاز احسن نے کہا جو ظلم عمران خان نے برداشت کیا آج تک کسی سیاسی قیدی نے برداشت نہیں کیا۔راولپنڈی اڈیالہ روڈ پر میڈیا ٹاک میں انہوں نے کہا کہ عمران خان کو گرفتاری سے قبل چار اگست کو بیرون ملک جانے کا کہا گیا، بانی نے بیرون ملک جانے کے بجائے عدالتوں میں مقدمات کا سامنا کرنے کا کہا، اٹک جیل میں بانی کو انتہائی برے حالات میں رکھا گیا، بانی کے خلاف پاکستان کا مہنگا ترین سائفر کیس چلایا گیا جو جھوٹا ثابت ہوا، بانی کے خلاف توشہ خانہ کیس بھی جھوٹا ثابت ہوا بانی کو سزا ملی مگر جج کو کوئی سزا نہیں دی گئی۔انہوں نے کہا کہ 26ویں ترمیم کے تحت ججوں کو اپنا ماتحت بنایا گیا، جسٹس ڈوگر کو عہدے پر بٹھاتے ہی بانی کو 190ملین پاونڈ ریفرنس میں سزا سنائی گئی، جج ڈوگر نے بانی کی اپیل ڈیڑھ سال سے سننے سے انکار کردیا، جج ڈوگر کا نام تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔
علیمہ خان نے کہا کہ بانی کو 8 ماہ سے قید تنہائی میں رکھا گیا ہے، جاوید ہاشمی اور اعتزاز احسن نے کہا جو ظلم بانی نے برداشت کیا آج تک کسی سیاسی قیدی نے برداشت نہیں کیا، 26نمبر چونگی احتجاج پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ نورین نیازی جیل سپرنٹنڈنٹ کو درخواست بھیجے تو ملاقات ہو جائے گی مگر نورین نیازی کو حکومت، محسن نقوی، اسٹیبلشمینٹ نے ملاقات سے روکا ہے جیل سپرنٹنڈنٹ نے نہیں۔انہوں نے کہا کہ بانی کو 18 لوگ مل سکتے ہیں لیکن یہ ملاقاتیں ختم کرنا چاہ رہے ہیں کہا گیا کہ بانی سے ملاقات کے بعد باہر آکر میڈیا سے بات نہیں کرسکتے، ہم نے کہا ہمیں یہ قبول نہیں، آپ بانی سے ملاقات سے قبل ان کا علاج کرائیں جو ہماری ڈیمانڈ ہے، بشری بی بی کی فیملی سے دو مرتبہ ملاقات کرائی گی لیکن انھوں نے کوئی بات نہیں کی اب ان کی ملاقات بھی بند کردی، یہ سب کچھ جان بوجھ کرکررہے ہیں، یہ لوگ ایک ملاقات اس لیے کروانا چاہ رہے ہیں تاکہ پریشر ختم ہوسکے۔انہوں ںے کہا کہ کے پی حکومت نے کہا کہ وفاقی حکومت جو 175 ارب کا حصہ مانگ رہی ہے تب تک نہیں دیں گے جب تک یہ فاٹا کا حصہ نہ دیں، جب تک بانی کا علاج ان کی فیملی کی موجودگی میں نہ کرایا جائے، عدالتی حکم کے مطابق ہمارے ساتھ ایم او یو سائن کیا جائے، ہمارے ساتھ ایک گارنٹیر ہونا چاہیے جو گارنٹی کرے گا کہ ایم او یو کی پاس داری کرائے گا، اگر یہ کے پی حکومت کے پریشر کے باوجود نہیں کریں گے ان کو بانی سے اتنا خوف ہے کہ یہ 175 ارب بھی چھوڑ دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اگر یہ ہمیں گارنٹی نہیں دیں گے تو پھر آئندہ کا لائحہ عمل کارکنوں کی چاہت کے مطابق ہوگا، جب ہم آپ کے ساتھ مل کر اڈیالہ جیل آئیں گے تو صرف بانی کے حقوق بحال نہیں ہوں گے، بلکہ ہم بانی کو رہا کرائیں گے، سیاسی معاملات کو محمود اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس ہینڈل کرلیں گے، وزیراعظم بے چارے سے کیا بات کریں گے وہ تو خود کہتے ہیں ہمارے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ بیرسٹر گوہر کو محسن نقوی نے فون کیا تھا، بانی کے لیے پوری قوم ایک پیج پر ہے جو کہتی ہے ان کو رہا کیا جائے پاکستان کو ان کی ضرورت ہے، آپ گھر میں مار پیٹ کریں اور ساتھ والے محلے میں ثالثی کریں اسے کوئی نہیں مانتا، یہ آپ کا مذاق بنے گا آپ کی عزت نہیں ہورہی، آپ پہلے ملک میں دیکھیں کیا کررہے ہیں، پاکستان کے منتخب وزیراعظم ہیں یہاں پر آپ دیکھیں کیا کررہے ہیں پہلے اپنے ملک کا خیال رکھیں یہاں پر آپ ظلم کررہے ہیں۔علیمہ خان نے کہا کہ کشمیر کے اندر آپ نے کربلا بنادیا، پانی خوراک بند کردی، ماہ رنگ بلوچ کو عمر قید دے دی ، کس چیز کے لیے؟ آپ ملک میں ظلم کررہے ہیں کیا آپ دنیا میں ایسے نام روشن کریں گے؟۔نورین نیازی نے کہا کہ بانی سے ملاقات کے لیے مجھ سے کسی نے رابطہ نہیں کیا، مجھے ملاقات کا ادھر ادھر سے پتا چل رہا ہے،میں کیوں درخواست دوں؟ درخواست ان کو دی جاتی جو اس کے قابل ہوں، 26 ویں اور 27 ویں ترامیم ختم ہوں گی تو بانی کے آنے کے بعد یہ جیلیں ان سے بھری ہوں گی، یہاں ایک تماشا ہوگا، یہ جھوٹ بولتے ہیں جو بانی کے ساتھ کر رہے ہیں ان کا عبرت ناک انجام ہوگا۔نورین نیازی نے کہا کہ آپ کشمیر کے راستے بند کرکے لوگوں کو بھوکا مار رہے ہیں، ان کو شکریہ اس بات کا کہیں کہ یہ پاکستان کے مقبول ترین لیڈر پر ظلم کررہے ہیں، شکریہ کوئی بھی نہیں کرے گا، اللہ تعالی ان کو عبرت کا نشان بنائے۔

