اسلام آباد (انٹرویو: آفتاب بھٹی )لکھنوی گھرانے سے تعلق رکھنے والی ناول نگار ، ڈرامہ نگار ، افسانہ نگار، اور شاعرہ افشاں عباسی نے کہا ہے کہ میری کامیابیاں محنت اور والدین کی دعائوں کی مرہون منت ہیں، اپنی پہلی کہانی پانچویں جماعت میں لکھنے والی ادیب نے روزنامہ سب نیوز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میری جائے پیدائش راولپنڈی ہے اورمیری ساری زندگی جڑواں شہروں میں ہی گزری ہے ۔ میں نے جس گھرانے میں پرورش پائی اس کا شمار لکھن کے بڑے خاندانوں میں ہوتا ہے ۔
میرے والد صاحب کا تعلق کاکول شریف کے عباسی خاندان سے ہے۔ کاکول میں علوی ہیں یا عباسی ۔ یہاں کے بسنے والوں کا ادب سے بہت گہرا تعلق ہے۔ محسن کاکولوی ادب میں ایک بڑا نام ہے۔ میرے والد کے سگے چچا نادر علی عباسی جو نادر کاکولوی کے نام سے جانے جاتے ہیں بڑی ادبی شخصیت تھے ۔ ان کی کتاب “جذبات نادر ” ہے ۔ “اکثر شب تنہائی میں ” یہ غزل انہی کی ہے۔ میری والدہ کا تعلق لکھن کے قریب واقع جیکور قصبہ سے ہے۔ میرے نانا آلہ آباد کے بی اے ایل ایل بی تھے اور بعد میں ڈپٹی کلکٹر بھی رہے۔ جب پاکستان بنا تو اس وقت وہ لکھن کے ڈپٹی کمشنر تھے ۔
استاد شوق کدوانی جن کی کتاب “فیضان شوق” ہے ۔ میرے ننہال میں سے تھے ۔ والدہ کے نانا صدیقی تھے جو 1905 میں لنکالین سے بار ایٹ لا کر کے آئے تھے ۔ یہ وہ وقت تھا جب قائداعظم بھی وہاں پر پڑھتے تھے۔ ان کی مشہور کتاب “فیضان شوق” کی شاعری ایم اے میں پڑھائی جاتی ہے۔ محمود آباد سٹیٹ کے بعد سب سے بڑا تعلقہ میری دادی کا تھا۔ محمود آباد اسٹیٹ کا ایک لاکھ آموں کے پیڑ کا باغ ختم ہوتے ہی۔ بیس ہزار آم کے پیڑوں کا باغ ہمارا شروع ہو جاتا تھا۔ اس تعلقہ دار میں آٹھ گاں تھے اور آدھا گھنٹہ ٹرین ہماری ہی زمینوں پہ چلتی تھی۔ ان کا شمار لکھن کے بااثر لوگوں میں ہوتا تھا۔ میرے نانا جو کہ والدین کی اکلوتی اولاد تھے۔
سرکاری ملازم ہوتے ہوئے بھی انھوں نے پاکستان کی حمایت کی مگر اپنی والدہ کی وجہ سے پاکستان نا آ سکے اور 1982 میں خالق حقیقی سے جا ملے۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ جہاں تک میرے لکھنے کا تعلق ہے۔ ابو شاعر اور امی افسانہ نگار تھیں ۔ ان کا ایک افسانہ چھپا بھی تھا ۔ بعد میں انہوں نے لکھنا چھوڑ دیا مجھے بھی ان کا صرف ڈیڑھ افسانہ ہی ملا ہے۔ مجھے لکھنے کی بجائے پڑھنے کا زیادہ شوق تھا۔ وہ اس لئے کہ امی کی لائبریری میں کتابوں کا بہت بڑا ذخیرہ موجود تھا ۔
اور ہم پر پابندی تھی کہ یہ کتاب پڑھنی ہے یہ نہیں کیونکہ ہم اس وقت بچے تھے۔ بچپن میں ہم سب کے لئے علیحدہ علیحدہ رسالے لگے ہوئے تھے جن میں تعلیم و تربیت، بچوں کا ڈائجسٹ، اور نونہال تھا۔ بچوں کی دنیا رسالہ بھی نہیں پڑنے دیا جاتا تھا کیونکہ ہمیں امی کہتی تھی کہ جھوٹی سچی اور جن بھوت کی کہانیوں سے بہتر ہے کہ وہ پڑھو جس سے کچھ حاصل ہو۔ کچی پکی گھر میں ہی پڑھی اور تیسری جماعت سے باقاعدہ سکول جانا شروع کیا۔ ہماری پڑھنے کی رفتار بھی کچھ ا لگ ہی تھی۔ انگریزی اور اردو امی خود ہی پڑھاتی تھیں۔ میں ہجوں کے ساتھ پوری کتاب پڑھ لیتی تھی ۔کئی ایسے الفاظ ہوتے تھے جن کے مطلب کا پتا نہیں ہوتا تھا ۔
مگر بار بار پڑھنے سے ان کے معنی بھی عیاں ہو جاتے۔ ہم لوگوں کو ڈانٹ بھی محاورں میں پڑھتی تھی۔ تو یہ محاورے ہماری روزمرہ زبان کا حصہ بن گئے۔ کہانی لکھنے کا شوق مجھے زبیدہ آپا کو دیکھ کر ہوا وہ ایک ناول نگار ہیں۔ بچپن میں ہم اکثر ہر اتوار ان کے گھر راولپنڈی لال کرتی جاتے تھے وہ کچھ نہ کچھ لکھتی ہی نظر آتی تھیں۔ آپا زبیدہ کے والد بھی ڈپٹی کلکٹر تھے پہلی جنگ عظیم میں وہ لڑے اور دوسری جنگ عظیم میں وہ لاپتہ ہو گے ۔ ان کی بیوی اے آر خاتون بڑی مہربان اور پیار کرنے والی تھیں ۔ میں نے پہلا افسانہ انہی کے گھر کے حوالے سے لکھا تھا۔ مگر میں نے ابتدا افسانے سے نہیں کی۔
میں نے تیسری جماعت سے ہی چھوٹی چھوٹی نظمیں لکھنا شروع کر دی تھیں۔ میں پانچویں جماعت میں تھی ایک دن ہماری استانی کلاس میں نہیں آئی تو ہم کو کہا گیا کہ منہ پہ انگلی رکھ کر بیٹھیں اور شورمت کریں۔ کلاس میں بیٹھے بیٹھے میں نے ایک کہانی لکھی جو کہ ،چمبیلی شہزادی، کے عنوان سے تھی اس پر مجھے بہت سراہا گیا مگر افسوس کہ وہ مجھ سے گم ہوگی۔ میں نے پہلا ناول پانچویں جماعت میں شروع کیا اور آٹھویں میں مکمل ہو گیا۔ میں نے اس کا نام ،روپے کی لالچ، رکھا مگر بھائی کے کہنے پر نام تبدیل کرکے زر پرست رکھ دیا۔ جو کہ اڑھائی سو صفحات پر مشتمل مکمل ناول ہے۔ مگر وہ چھپا نہیں۔ جنرل شفیق الرحمان نے مجھ سے کہا کبھی بھی اس ناول کو ضائع مت کرنا ۔ تم ایسا لکھنا چاہو بھی تو نہیں لکھ سکو گی وہ آج بھی میرے پاس موجود ہے۔
دوسرا ناول جس کا نام ،انتظار کرتے کرتے، گیارہویں جماعت میں شروع کیا اور ایک سال میں مکمل ہو گیا۔ میرے خیال میں یہ ایسا کارنامہ ہے جو نہ ایشیا پیش کر سکا اور نہ ہی یورپ۔میری تمام کتابیں پبلشر نے خود ہی پبلش کیں۔ اردو ڈائجسٹ میں میری ایک کہانی چھپی جس کا مجھے معاوضہ بھی ملا ۔اس کو بہت پسند کیا گیا اور میرے اعتماد میں مزید اضافہ ہوا۔ افسانہ لکھنے میں منشایاد کا بہت کردار ہے۔ میں ان سے ملی اور انہوں نے مجھے کہا کہ افسانے کی طرف کیوں نہیں آتی۔ اس کے بعد میں نیافسانے ہی لکھے۔ باقی تینوں کتابیں میری افسانوں کی ہی ہیں۔ کالج دور میں مضامین کے مقابلوں میں ہمیشہ پہلا انعام ہی لیا ۔
میں نے ایک ناول شروع کیا جو ابھی تک ادھورا ہے۔ میرے افسانے عشق و محبت کی بجائے معاشرتی ہوتے ہیں میرا ایک افسانہ ،چارہ ،جو کہ اوجڑی کیمپ میں مرنے والوں کے حوالے سے ہے ۔ پتا نہیں کون کس کام کے لیے نکلا تھا اور کون کس کا چارہ بن گیا۔ ایک افسانہ ،انٹیک، کے عنوان سے ہے۔ جس میں ایک شخص پرانی چیزوں کو اکٹھا کرنے کے ساتھ ساتھ پرانے لوگوں کو بھی اکٹھا کرنا شروع کر دیتا ہے۔ میری کتاب بچوں کی کہانیاں توبہ کے نام سے ہے۔ یہ کہانیاں چار سے چھ سال کے بچوں کے لئے ہیں۔ تعلیم تو سبھی حاصل کر لیتے ہیں مگر اس میں والدین کی تربیت کا کردار سب سے اہم ہے۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ کام کرنے والی خواتین کو چاہیے کہ وقت کو ترتیب میں لائیں اور اپنی زندگی کو منظم کریں۔ میں نے ڈرامہ اس طرح نہیں لکھا مگر جب پی ٹی وی نے کہا لکھ کر دیا ۔ جس میں مارننگ شو کے لئے ،بیگم کی ڈائری، الیکشن کے حوالے سے سکرپٹ، خاص دن جیسے 14اگست کے لئے ، دیے جلنے تک ، راہیں دل سے آگے ، ڈوبتی آنکھوں کی امید ، ہسپتال کلینک جو کہ بتیس اقساط پر مشتمل تھا۔ اس کے علاوہ STN کے لیے ٹیلی فلم ,جو چاہو تم, لیور برادرز کیلئے 19 اقساط پر مشتمل ، لپٹن ہمسفر ،کے نام سے لکھ کر دیا ۔ PTV کو ایک سیریل لکھ کر دی ۔ جو وہاں سے گم ہو گئی اس کا کیس عدالت میں چل رہا ہے۔ میری کتابیں توبہ ، کانٹوں پر سفر، رنگ خوشبو کانٹے، اعتراف، انتظار کرتے کرتے ہیں۔
