ہومپاکستانپی اے آر سی کی مشینی کاشت ونامیاتی طریقہ کار کے فروغ کیلئے کاوشیں رنگ لانے لگیں

پی اے آر سی کی مشینی کاشت ونامیاتی طریقہ کار کے فروغ کیلئے کاوشیں رنگ لانے لگیں

اسلام آباد /سکھیکی (ارمان یوسف) پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کی مشینی کاشت اور آرگینک (نامیاتی) طریقہ کار کے فروغ کیلئے کاوشیں رنگ لانے لگیں ،سکھیکی سے تعلق رکھنے والے کاشتکار سلطان احمد بھٹی نے نامیاتی طریقہ کار اور جدید مشینر ی کی مدد سے گندم کاشت کر کے حکومتی اداروں اور عوام کی توجہ حاصل کر لی ، چیئرمین پی اے آر سی ڈاکٹر عظیم نے سلطان احمد بھٹی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے انکی تیار کردہ زرعی آلات و مشینری کی انکے نام پر رجسٹر یشن کرانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ صرف فنکاروں کو اعلیٰ ایوارڈ دیئے جانے کی بجائے ایسے کاشتکاروں کو بھی ایوارڈ سے نوازنا چاہیے جو کاشتکاری کے نامیاتی طریقہ کار کے فروغ کیلئے تحقیق اورشبانہ روز محنت کر رہے ہیں ، سلطان احمد بھٹی کے فارم ہاوسز زرعی شعبے میں سیکھنے کیلئے کسی یونیورسٹی سے کم نہیں ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کی طرف سکھیکی میں گندم کی پیدوار میں اضافے کے قومی ایمرجنسی پروگرام کے تحت نامیاتی طریقہ کاشت اپنانے والے کاشکار سلطان احمد بھٹی کے فارم ہاوسز پرسمینار کا انعقاد کیا گیا ۔ جس کا مقصد کاشتکاروں کو نامیاتی طریقہ کار اور مشینی کاشت کی افادیت سے آگاہ کرنا تھا۔ سمینار میں چیئرمین پی اے آر سی ڈاکٹر محمد عظیم، ممبر پلانٹ اینڈ سائنسز غلام محمد علی ، پی اے آر سی افسران ، پنجاب ایگریکلچر ڈیپارٹمنٹ کے ایگریکلچر ایکسٹینشن آفیسر انجم علی بٹر سمیت کاشتکاروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔سیمینار میں کاشتکار سلطان احمد بھٹی نے نامیاتی طریقہ کار اور جدید مشینر ی کی مدد سے گندم کی کاشت کی افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ نامیاتی طریقہ کار اختیار کرنے کے آغاز پر تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا لیکن مستقل مزاجی سے ڈٹا رہا، اب پانچ سال بعد میرے کھیت دوبارہ صحت مند ہو چکے ہیں ، نامیاتی طریقہ کار کی وجہ سے گندم کی فی ایکڑ فصل پر میرے اخراجات کم ہو کر صرف دو سے تین ہزار روپے تک محدود ہو چکے ہیں جبکہ فی ایکڑ پیداوار 40سے 45من فی ایکڑ تک پہنچ چکی ہے۔ سیمینار سے خطاب میں چیئرمین پی اے آر سی ڈاکٹر محمد عظیم نے لوگوں سے کاشتکاری کے نامیاتی طریقہ کار کو اپنانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ایسے کاشتکاروں کو بھی ایوارڈ سے نوازنا چاہیے جو کاشتکاری کے نامیاتی طریقہ کار کے فروغ کیلئے تحقیق اورشبانہ روز محنت کر رہے ہیں ، سلطان احمد بھٹی کے فارم ہاوسز زرعی شعبے میں سیکھنے کیلئے کسی یونیورسٹی سے کم نہیں ہیں، میری کوشش ہے کہ انکی تحقیق اور محنت دوسرے لوگوں کیلئے مشعل راہ بنے ۔انہوں نے کہا کہ فنکاروں کو اعلیٰ ایوارڈ دیئے جاتے ہیں لیکن زرعی تحقیق کرنے والوں کو کوئی پوچھتا نہیں ،ایسے کاشتکاروں کو بھی ایوارڈ سے نوازنا چاہیے جو کاشتکاری کے نامیاتی طریقہ کار کے فروغ کیلئے تحقیق اورشبانہ روز محنت کر رہے ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔