ہومکالم وبلاگزدورِ حاضر کا نوجوان

دورِ حاضر کا نوجوان

جن حالات میں دور حاضرکے نوجوان سانس لے رہے ہیں اس دورکا نوجوان زندگی کی بنیادی حقیقتوں کے جمال پرور آدرش سے لے کر شدید ترین سیاسی ابتری اور معاشی بد حالی کی مسموم فضاں میں سانس لے رہا ہے ایسے حالات میں وجود کی تمام اکائیاں سمیٹ کر بھی جیون کو زندگی نہیں بنایا جا سکتا ،مایوسیوں کی چادریں تان کر سونے والی نسلیں غبار آلود سمتوں کے سراغ میں بھٹک بھٹک کر دم توڑ دیں تو بے معنویت کی یلغار روح اور بدن کو ہلا کر رکھ دیتی ہے،میں نا امید کیفیتوں کا دامن پکڑ کر بزدلانہ باتیں نہیں کر رہا بلکہ یہ عہد حاضر کا وہ تلخ اور کڑوا سچ ہے جو انتشار اور خلفشار کی وجہ بنا ہوا ہے_ اگر آپ معاشرت کا ناقدانہ جائزہ لیں تو سارا معاشرہ ایک مہیب جنگل میں بدل چکا ہے ان جنگلوں میں آج کا نوجوان غیر محفوظ راتوں کے نوحے نہیں لکھے گا تو کیا مدھر گیت لکھے گا_ منیر نیازی نے کیا خوب کہا تھا اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے کیاہے کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آج کے نوجوان کو کی مشکلات اور مسائل درپیش ہیں اپنے دیس خود ساختہ جلا وطنی کے قرب سے دوچار ہے اس سوہنی دھرتی سے ایسے بھاگ رہا ہے جیسے لوگ طاعون زدہ شہروں سے بھاگتے ہیں_ سیاسی جاہلوں اور مذہبی جنونیوں نے میرے دیش کی فضاوں کو زہر آلود کر دیا ہے ،قبلہ زر کے پجاریوں نے کسادبازاری عام کر رکھی ہے ،روز و شب میں زندگی کی سانسیں بحال رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے_ آج کا نوجوان ایک ناکام’ محروم’ اور مفلوک الحال ریاست کا گمنام شہری ہے جہاں آئینی اداروں سے لے کر شخصی آزادیوں تک ہر چیز نیلام گھروں کا روپ دھار چکی ہے_ انصاف اور عدل کی روایات عدالتی نظام کی تاریک گلیوں میں بھٹک رہی ہیں_ آمروں نے اس ملک میں جمہوری تصور حکومت کو ایسا برباد کیا کہ پورا ملک ایک رجمنٹ بن چکا ہے_ نوجوان آج کل جن حالات سے گزر رہا ہے آپ اگر غور کریں تو ہم نے مذہب اور جمہوریت کے نام پر اداروں اور روایات کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہمارے جذبہ حریت اور فلسفہ قومیت کی سطح ناقابل یقین حد تک گر چکی ہے_ میں اس عذاب سے روز گزرتا ہوں میرے اعصاب شل ہونے لگتے ہیں وجود لرز اٹھتا ہے نا امیدی حد سے گزرنے لگتی ہے تب شام ہوتے ہی میرا دل یہ پکاراٹھتا ہے کہ مایوسی کفر ہے گناہ ہے نوجوان نسل کو مسلسل جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے_ جگنو اپنا جسم جلا کر جنگل کو جگمگ کر سکیں_ تتلیاں لہکتے پھولوں کو گلے لگا کر شبنمی بلبلوں سے مکالمہ کر سکیں ہر طرف وادی میں دھوپ نکلی ہو پیار کا ابر چھایا ہو آج کا نوجوان خوابیدہ خوشبو کو جگا کر اپنا جہان رنگ و بو کو خود بسائے تب جاکر ویرانیوں سے جان چھڑائی جاسکتی ہے_ میں تمام تر کرب والم کے باوجود آج کے نوجوان کو کہتا ہوں کہ ہوا لے کر پیام امید جہاں سے بھی گزرتی ہے دریچے گوش بر آواز ہوتے ہیں ہوا سے دوستی رکھنا ان حالات میں نوجوان کرے بھی تو کیا کرے ؟ دعا کریں کے آج کے نوجوان کی نظروں سے’ دل سے’ غفلت اور ساہل پسندی کا غبار اترے ہر طرف چراغاں ہو ہر چراغ کی روشنی میں منزلوں کے نشان واضح نظر آئیں تب نوجوان میں زندگی بھر ے جذبات واپس لوٹ سکتے ہیں پھر چہرے مسکرانے لگ جائیں گے پھولوں کے رنگ نکھر جائیں گے تو پھر آج کا نوجوان ایسے چراغ کی آرزو کرے گا جو خون جگر سے روشن ہوا کریں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔