ہومبریکنگ نیوزافغان عبوری وزیر خارجہ امیر خان متقی کا جلد دورہ پاکستان متوقع

افغان عبوری وزیر خارجہ امیر خان متقی کا جلد دورہ پاکستان متوقع

لاہور:افغانستان کے عبوری وزیر خارجہ امیر خان متقی کا آئندہ چند ہفتوں کے دوران دورہ پاکستان متوقع ہے۔امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے افغان وزیرخارجہ امیرخان متقی کو فون کیا اور افغانستان کے لیے نیک تمناں، دعاں کا اظہار کیا۔سراج الحق نے افغان سپریم کمانڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کو عید الفطر کی مبارکباد دی۔

سیکرٹری اطلاعات جماعت اسلامی قیصر شریف نے بتایا کہ سراج الحق نے نیک خواہشات کا پیغام بھی دیا جبکہ دونوں رہنماں نے خطے کی مجموعی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ امن اور ترقی کے قیام کیلئے دونوں ممالک کو ملکر کام کرنا ہو گا، دونوں ممالک کے عوام یک جان دو قالب اور ان کامستقبل شاندار ہے۔اس موقع پر امیر خان متقی نے کہا کہ عید کے بعد پاکستان کے دورے کا ارادہ ہے، امید ہے دورے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔

خیال رہے کہ افغانستان کے عبوری وزیر خارجہ امیر خان متقی نے اس سے قبل نومبر 2021 میں اسلام آباد کا پہلا دورہ کیا تھا۔پاکستان نے امید ظاہر کی تھی کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد دونوں ممالک میں سرحدی معاملات بہتر ہو جائیں گے اور دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کا مسئلہ حل ہو جائے گا لیکن توقعات کے برعکس کالعدم ٹی ٹی پی کے زیر اہتمام حملوں میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے دو طرفہ تعلقات میں تنا پیدا ہوا ہے۔

افغان طالبان کی جانب سے پاکستان اور ٹی ٹی پی کے درمیان امن معاہدے کی ثالثی کی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں۔ قومی سلامتی کمیٹی کے گزشتہ اجلاس میں ملک کی سول اور عسکری قیادت نے اعتراف کیا تھا کہ ٹی ٹی پی کے ساتھ امن قائم کرنے کی پالیسی دہشت گردی میں اضافے کا باعث بنی۔ حکومت کی طرف سے جو موقف اختیار کیا گیا تھا اس کا مطلب ہے پاکستان کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ مزید مذاکرات نہیں کرے گا۔

فروری میں وزیر دفاع خواجہ آصف کی قیادت میں اور ڈی جی آئی ایس آئی اور دیگر اعلی حکام پر مشتمل اعلی اختیاراتی وفد نے کابل کا دورہ کیا اور افغان طالبان کو کالعدم ٹی ٹی پی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے سخت وارننگ دی۔ پاکستان نے ٹی ٹی پی کی موجودگی اور ان کے ٹھکانے کے ثبوت کے ساتھ طالبان حکومت کا سامنا کیا۔ افغان انٹیلی جنس حکام نے پاکستانی وفد کے دورے کے بعد اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے اسلام آباد کا سفر کیا۔اس پس منظر میں آئندہ چند ہفتوں میں ہونے والا افغان وزیر خارجہ کا ممکنہ دورہ اہم ہوگا۔

افغانستان کے ہمسایہ ممالک کا میکنزم 2021 میں پاکستان کے اقدام پر قائم کیا گیا تھا جس کا مقصد افغانستان کی صورتحال پر علاقائی نقطہ نظر کو تیار کرنا تھا۔ خیال رہے کہ چند روز قبل وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر افغانستان میں کالعدم ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں پر افغان طالبان کی طرف سے کارروائی نہیں کی جاتی تو ہماری سکیورٹی فورسز خود ان کے ٹھکانوں پر نشانہ بنائیں گے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔