اسلام آباد:پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی سینئر نائب صدر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ جی ایچ کیو کی نئی انتظامیہ کو جنرل باجوہ کی روانگی کے بعد بڑے پیمانے پر ڈیمیج کنٹرول کے لئے کافی کام کرنا پڑے گا۔
21 FIRs ag Azam Swati in Sindh & Balochistan, & SC remains blind to this mockery of its own judgement! The petulance of those doing this is dangerous bec this vendetta against Senator Swati can lead to his murder. No wonder with 1 man's departure so many feel#یوم_نجات_29_نومبر
— Shireen Mazari (@ShireenMazari1) November 29, 2022
اپنے ایک بیان میں ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ اس ڈیمیج کنٹرول میں اغوا،قتل کی سازش،ایف آئی آرز روکنے،حراستی تشدد، ویڈیوز پر بلیک میل کرنے کے معاملات شامل ہیں۔
There is massive damage control that the new GHQ set up will have to undertake post departure of Gen Bajwa. This does not begin by abductions, assassination plots & protection of suspects by preventing FIRs, custodial torture, blackmailing videos & seeing every critical tweet by
— Shireen Mazari (@ShireenMazari1) November 29, 2022
انہوں نے کہا کہ ہر تنقیدی ٹویٹ کو بغاوت پر اکسانے کی نظر سے دیکھنے سے ملزمان کے تحفظ تک کے معاملات پر نظرِ ثانی درکار ہے، جبری گمشدگیوں کا فوری خاتمہ اور لاپتہ افراد کے اہل خانہ کو ان کے پیاروں کے بارے میں معلومات کی فراہمی کی ضرورت ہے،ریاست حالیہ طرز عمل کے ساتھ نہیں چل سکے گی،سول ملٹری تعلقات کو آئین اور ہم آہنگی کے ساتھ مکمل طور پر دوبارہ ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔
