ہومپاکستانایران امریکا تکنیکی مذاکرات کا اگلا مرحلہ14اور 15جولائی کواسلام آباد میں متوقع

ایران امریکا تکنیکی مذاکرات کا اگلا مرحلہ14اور 15جولائی کواسلام آباد میں متوقع

اسلام آباد /تہران (سب نیوز )ایران امریکا تکنیکی مذاکرات 14 اور 15 جولائی کو اسلام آباد میں متوقع ہیں،برگن اسٹاک اور دوحہ میں ایران امریکا تکنیکی مذاکرات کے دو دور ہوچکے ہیں، تکنیکی امور کے ایرانی اور امریکی ماہرین مذاکرات کے تیسرے دور میں شریک ہوں گے،پاکستان بطور ثالث ایران امریکا تکنیکی مذاکرات میں شریک ہوگا۔تفصیلات کے مطابق ایران امریکا تکنیکی مذاکرات کا اگلا مرحلہ اسلام آباد میں ہونیکا امکان ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق ایران امریکا تکنیکی مذاکرات 14 اور 15 جولائی کو اسلام آباد میں متوقع ہیں۔حکومتی ذرائع کے مطابق برگن اسٹاک اور دوحہ میں ایران امریکا تکنیکی مذاکرات کے 2 دور ہوچکے ہیں، تکنیکی امورکے ایرانی اور امریکی ماہرین مذاکرات کے تیسرے دور میں شریک ہوں گے، پاکستان بطور ثالث ایران امریکا تکنیکی مذاکرات میں شریک ہوگا۔

اس سے قبل سعودی میڈیا العریبیہ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور سابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی آخری رسومات مکمل ہونے کے بعد 11 جولائی سے شروع ہوں گے۔رپورٹ کے مطابق ان مذاکرات میں ایران پر پابندیوں، ایران کے منجمد اثاثوں سمیت جوہری پروگرام پر بات چیت کا امکان ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ دونوں ممالک کے درمیان بلاواسطہ مذاکرات بدھ کے روز دوحہ میں ہوئے تھے جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تعمیری قرار دیے گئے تھے۔سعودی میڈیا کے مطابق دوحہ مذاکرات کے بعد ایران کی جانب سے کہا گیا تھا کہ مذاکرات میں ایران کے منجمد اثاثوں میں کچھ ارب ڈالرز بحال کرنے پر اتفاق ہوا تھا تاہم امریکا کی جانب ایرانی دعوں کی تردید کی گئی تھی۔ واضح رہے کہ یکم جولائی کو بھی قطر کے دارالحکومت دوحہ میں دونوں ممالک کے نمائندوں کے درمیان بالواسطہ بات چیت ہوئی تھی، جہاں وہ رابطے جاری رکھنے پر راضی ہوئے تھے۔العربیہ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اس اہم ترین اجلاس میں شرکت کے لیے ایرانی وفد کے ناموں اور ارکان کا حتمی فیصلہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کے بعد کیا جائے گا۔دوسری جانب امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعوی کیا ہے کہ صدر مسعود پزشکیان نے مجتبی خامنہ ای کو واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا،صدر پزشکیان نے معاہدے پر دستخط سے قبل مجتبی خامنہ ای کو بتایا کہ بحری ناکہ بندی ایران کو مفلوج کر رہی ہے،گورنر ایرانی مرکزی بینک نے خبردار کیا تھا اگر محاصرہ جاری رہا تو اگست کے آخر تک خوراک اور ادویات ختم ہو جائیں گی،صدر پزشکیان نے یہ بھی کہا کہ اگر امریکہ کے ساتھ معاہدہ مسترد کیا گیا تو وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے،مجتبی خامنہ ای نے کہا کہ اگر سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے معاہدے کی حمایت کرے تو وہ اسے قبول کریں گے،ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے بھاری اکثریت سے اس منصوبے کی منظوری دی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔