تھانہ کورال کی حدود ترامڑی سے ساڑھے 12 سال کی بچی اغوا 24 دن گزرنے کے باوجود اسلام آباد کی ماڈل پولیس بچی کو تلاش نا کرسکی،
تھانہ کورال کی تفتیش میں غفلت یا کو ئی اور معاملہ، محمد مشتاق کی ساڑھے 12 سال کی بیٹی 16 اپریل کو گھر سے اچانک لاپتہ ہو ئی جس کو تلاش کرنے کے بعد تھانہ کورال میں محمد مشتاق نے نامعلوم ملزمان کے خلاف پرچہ درج کروایا اغوا کے 9 دن بعد پولیس کی کاروای کے خوف سے محمد مشتاق کے اوپر پورشن پررہنے والی کراے دار خاتون نے محمد مشتاق کو حقیقت خود بیان کردی
،محمد مشتاق کے مطابق خاتون نے مجھے قرآن کی قسم دیکر کہا کہ آپ کی بچی اگر لا دیں تو آپ ہمارے خلاف کاروای نہیں کرینگے اور محمد مشتاق سے سادے کاغذ پر تحریر بھی لکھوای جس کے بعد محمد مشتاق نے تھانہ کورال کے SSOIU کے تفتیشی محمد آصف کو ساری کہانی بیان کرکے خاتون اور اس کے بیٹے وحید کو نامزد کیاتھانہ کورال کے SSOIU کے تفتیشی محمد آصف نے محمد مشتاق کو غیر قانونی عمل کرنے پر قال کیا اور کہا کہ ہم گرفتار کر لینگے لیکن پھر یہ دونوں ضمانت پر باہر آجاے گےآپ کی بچی پھر کیسے ملی گی ان پر دبا ڈالو اور اپنی بچی واپس لو اگر آپ نے ان کے خلاف کاروای کی تو میں آپ کی فیملی کو بھی اس سب میں شامل کرواں گا ساقہ کے غریب مزدور والد محمد مشتاق نے کہا کہ میری چھٹی جماعت کی طالبہ ساڑھے 12 سال کی بچی ہے نا بالغ ہے اس کے ساتھ انہوں نے کیا کیا ہوگا پیسے نا ہونے پر ترامڑی چوک سے تھانہ کورال پیدل آتا ہوں لیکن تھانے والے ملزمان کے خلاف کوی کاروای نہیں کر رہے ساقہ کے والد نے آی جی اسلام آباد احسن یونس اور وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہبازشریف سے اپیل کی ہے کہ مجھے انصاف دیا جاے اور میری بیٹی کو بازیاب کروایا جائے

