ہومپاکستانپاکستان اور روس کا مصنوعی ذہانت، کلاڈ ٹیکنالوجی اور سائبر سیکیورٹی میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

پاکستان اور روس کا مصنوعی ذہانت، کلاڈ ٹیکنالوجی اور سائبر سیکیورٹی میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

اسلام آباد (سب نیوز)پاکستان اور روس نے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی)کے شعبے میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے، مصنوعی ذہانت، کلاڈ ٹیکنالوجی اور سائبر سیکیورٹی کے شعبوں میں مشترکہ منصوبے شروع کرنے اور تعاون کا دائرہ نجی شعبے اور کاروباری اداروں تک بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ممالک کی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان سرمایہ کاری، مشترکہ مصنوعات کی تیاری اور عالمی منڈیوں تک رسائی کے نئے مواقع پیدا کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے پاکستان اور روس کے درمیان انفارمیشن ٹیکنالوجی(آئی ٹی)کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک مصنوعی ذہانت، کلاڈ ٹیکنالوجی اور سائبر سیکیورٹی سمیت مختلف شعبوں میں مشترکہ منصوبوں اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔پاکستان اور روس کے درمیان آئی ٹی تعاون کے حوالے سے منعقدہ ویبینار سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ دونوں ممالک نے ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کو نجی شعبے اور کاروباری اداروں تک وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ ویبینار کا بنیادی مقصد عملی شراکت داری اور مشترکہ منصوبوں کو فروغ دینا ہے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور روس کی 5 کمپنیوں کے پاکستانی اداروں کے ساتھ اب تک 16 کاروباری اجلاس ہو چکے ہیں۔ دونوں ممالک کی کمپنیوں کے درمیان مشترکہ منصوبوں اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان نے 2035 تک ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے، جبکہ ای پاکستان منصوبہ قومی معاشی پروگرام اڑان پاکستان کے 5 بنیادی ستونوں میں شامل ہے۔احسن اقبال کے مطابق پاکستان ہر سال 75 ہزار سے زائد گریجویٹس تیار کر رہا ہے اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تربیت یافتہ انسانی سرمایہ ملک کی ایک بڑی طاقت ہے۔انہوں نے بتایا کہ قومی مصنوعی ذہانت پالیسی کے تحت 2030 تک 10 لاکھ اے آئی ماہرین تیار کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان میں مصنوعی ذہانت کے 7 نئے مراکز قائم کیے جا رہے ہیں، جو تحقیق، تربیت، کاروبار اور صنعت کو ایک دوسرے سے منسلک کریں گے۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان اور روس مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل گورننس اور سائبر سکیورٹی کے شعبوں میں اپنی مشترکہ صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ نادرا کا شناختی نظام اور راست فوری ادائیگیوں کا نظام پاکستان کے ڈیجیٹل تجربے کی نمایاں مثالیں ہیں۔
احسن اقبال نے کہا کہ دونوں ممالک کی ٹیکنالوجی کمپنیاں مشترکہ مصنوعات اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تیار کر سکتی ہیں، جبکہ ان کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی کے نئے مواقع بھی موجود ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ پاکستان اور روس کے درمیان آئی ٹی تعاون کی کامیابی کا اصل پیمانہ تجارت، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوگا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔