ہومپاکستانآذربائیجان کا چھٹا یومِ فتح، اسلام آباد میں شاندار تقریب کا انعقاد

آذربائیجان کا چھٹا یومِ فتح، اسلام آباد میں شاندار تقریب کا انعقاد

اسلام آباد (سب نیوز): آذربائیجان کے یومِ فتح کی چھٹی سالگرہ کے موقع پر اسلام آباد میں آذربائیجان کے سفارت خانے کے زیر اہتمام ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں پاکستان کی سیاسی، سفارتی، عسکری، کاروباری اور صحافتی شخصیات سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

تقریب اسلام آباد کے میریٹ ہوٹل میں منعقد ہوئی، جس میں مختلف ممالک کے سفیروں، ہائی کمشنرز، سفارت کاروں، دفاعی اتاشیوں، سیاست دانوں، کاروباری شخصیات، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور میڈیا کے ارکان نے شرکت کی۔

وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ تقریب کی مہمانِ خصوصی تھیں۔ انہوں نے آذربائیجان کے سفیر ایچ ای عرفان داؤدوف اور دیگر معزز شخصیات کے ہمراہ یومِ فتح کا کیک کاٹا۔ اس موقع پر پاک فوج کے کمانڈر ایئر ڈیفنس جنرل سرفراز احمد بھی موجود تھے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آذربائیجان کے سفیر عرفان داؤدوف نے یومِ فتح کی تقریب میں شرکت پر پاکستانی حکومت، عوام اور تمام معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ 8 نومبر آذربائیجان کی تاریخ کے عظیم اور یادگار ترین دنوں میں سے ایک ہے، جسے ہر سال قومی فخر اور جذبے کے ساتھ منایا جاتا ہے۔

سفیر نے ملک کی آزادی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے آذربائیجانی شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ قوم اپنے بہادر شہدا کی قربانیوں، جرأت اور وطن سے محبت کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔

انہوں نے کہا کہ دوسری جنگِ قاراباغ، جسے آذربائیجان میں جنگِ وطن (پیٹریاٹک وار) کہا جاتا ہے، کے نتیجے میں ملک کے ان وسیع علاقوں کو آزاد کرایا گیا جو تقریباً 30 برس سے قبضے میں تھے۔ اس کامیابی نے خطے میں امن، تعاون اور سلامتی کے قیام کے لیے نئی راہیں بھی ہموار کیں۔

عرفان داؤدوف نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 1993 میں چار قراردادیں منظور کی تھیں، جن میں آذربائیجان کے مقبوضہ علاقوں سے قابض افواج کے فوری، غیر مشروط اور مکمل انخلا کا مطالبہ کیا گیا تھا، تاہم یہ قراردادیں تین دہائیوں تک عملدرآمد کی منتظر رہیں۔

انہوں نے آذربائیجان کی تاریخی کامیابی کو مسلح افواج کی بہادری، صدر اور سپریم کمانڈر انچیف الہام علییف کی سیاسی، سفارتی اور عسکری بصیرت اور سب سے بڑھ کر آذربائیجانی قوم کے اتحاد کا نتیجہ قرار دیا۔

سفیر نے بتایا کہ آذربائیجان کے ثقافتی دارالحکومت اور قاراباغ کے اہم ترین تزویراتی شہر شوشا کی آزادی کی یاد میں صدر الہام علییف نے 8 نومبر کو سرکاری طور پر یومِ فتح قرار دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ جنگ کبھی بھی آذربائیجان کی ریاست اور عوام کا انتخاب نہیں تھی بلکہ ملک نے تقریباً 30 برس تک تنازع کے پُرامن حل کے لیے مذاکرات اور سفارتی ذرائع اختیار کیے۔ تاہم بین الاقوامی قراردادوں پر عملدرآمد نہ ہونے اور مسلسل اشتعال انگیز کارروائیوں کے باعث فوجی کارروائی ناگزیر ہوگئی۔

آذربائیجانی سفیر نے اس بات پر زور دیا کہ ہر جنگ کا اختتام امن کے ذریعے ہونا چاہیے اور فوجی کامیابی کے بعد پائیدار امن کا قیام خطے کے مستقبل اور آنے والی نسلوں کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ آذربائیجان نے جنگِ وطن کے خاتمے کے فوراً بعد آرمینیا کے ساتھ امن معاہدے کی تجویز پیش کی اور آج بھی خودمختاری، علاقائی سالمیت، باہمی احترام، اچھے ہمسایہ تعلقات اور علاقائی تعاون کی بنیاد پر مذاکرات کے لیے پرعزم ہے۔

مقبوضہ علاقوں کی بحالی اور تعمیر نو کے حوالے سے سفیر نے کہا کہ جنگ کے بعد آزاد کرائے گئے علاقوں میں تعمیر نو کا عمل تیزی سے جاری ہے، جہاں رہائشی بستیاں، سڑکیں، پل اور دیگر بنیادی ڈھانچے تعمیر کیے جا رہے ہیں، جبکہ مذہبی اور ثقافتی ورثے کی بحالی پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان علاقوں میں بارودی سرنگوں کی صفائی کا عمل بھی جاری ہے۔ ان کے مطابق قبضے کے دوران ان علاقوں میں 10 لاکھ سے زائد بارودی سرنگیں بچھائی گئی تھیں، جنہیں صاف کرنے کے لیے بھاری مالی وسائل اور طویل وقت درکار ہے۔

سفیر نے مزید کہا کہ آذربائیجان کی حکومت کے خصوصی پروگرام کے تحت بے گھر ہونے والے شہریوں کی اپنے تاریخی آبائی علاقوں میں واپسی کا عمل کامیابی سے جاری ہے۔ اس وقت 120 ہزار سے زائد افراد، جن میں وہاں کام کرنے والے افراد اور سابق اندرونی طور پر بے گھر ہونے والے شہری شامل ہیں، ان علاقوں میں مستقل رہائش اختیار کر چکے ہیں یا خدمات انجام دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آزاد کرائے گئے علاقوں میں امن، استحکام اور معمولاتِ زندگی کی بحالی آذربائیجان کی خارجہ اور داخلی پالیسی کی اہم کامیابی ہے، جس کی بنیاد قومی رہنما حیدر علییف نے رکھی اور صدر الہام علییف نے اسے مزید آگے بڑھایا۔

پاکستان اور آذربائیجان کے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے سفیر عرفان داؤدوف نے حکومتِ پاکستان اور پاکستانی عوام کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان نے مشکل وقت میں آذربائیجان کو مسلسل سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت فراہم کی۔

انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر دوہرے معیارات اور امتیازی رویوں کے باوجود پاکستان نے سیاسی جرأت، سفارتی بصیرت اور بین الاقوامی قوانین کے اصولوں سے وابستگی کا مظاہرہ کیا، جسے آذربائیجان کی قیادت اور عوام انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

سفیر کے مطابق پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان باہمی احترام، تعاون اور یکجہتی پر مبنی تعلقات اس وقت اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ اعلیٰ سطح کے دوروں، بین الاقوامی فورمز پر باہمی تعاون، میڈیا، سائنس و تعلیم، سرکاری اداروں، غیر سرکاری تنظیموں اور کاروباری شعبے کے درمیان روابط نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنایا ہے۔

انہوں نے دفاعی اور عسکری تکنیکی شعبوں میں بڑھتے ہوئے تعاون کو بھی دونوں ممالک کی شراکت داری کا اہم حصہ قرار دیا۔

عرفان داؤدوف نے اسلام آباد میں آذربائیجان کے تعاون اور معاونت سے قائم ہونے والی آسان سروس (ASAN Service) کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے اسے پاکستان اور آذربائیجان کی دوستی اور برادرانہ تعلقات کی ایک خوبصورت علامت قرار دیا۔

تقریب کے اختتام پر آذربائیجان کے سفیر نے تمام مہمانوں، سفارت خانے کے عملے اور میریٹ ہوٹل اسلام آباد کی انتظامیہ کا تقریب کے کامیاب انعقاد پر شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے اپنے خطاب کا اختتام پاکستان اور آذربائیجان کی دوستی اور بھائی چارے کے لیے نیک خواہشات کے اظہار کے ساتھ کرتے ہوئے کہا: پاکستان، آذربائیجان دوستی اور بھائی چارہ زندہ باد۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔