اسلام آباد (آئی پی ایس )قطر کی جانب سے مائع قدرتی گیس کی فراہمی پر عائد ہنگامی صورتحال میں 29 دسمبر تک توسیع کے بعد پاکستان میں سردیوں کے دوران گیس کی شدید قلت کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق حکومت کو دسمبر اور جنوری میں گیس کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے کے لیے اضافی ایل این جی کارگوز کا انتظام کرنا ہوگا، تاہم عالمی منڈی میں رسد محدود ہونے کے باعث یہ ہدف حاصل کرنا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے ماطبق وفاقی وزیر پیٹرولیم نے تصدیق کی ہے کہ قطر نے ایل این جی کی فراہمی سے متعلق فورس میجر کی مدت دسمبر کے اختتام تک بڑھا دی ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق حکومت سردیوں کے 2 اہم مہینوں میں 20 کے بجائے صرف 10 ایل
این جی کارگوز کا انتظام کرنے کی منصوبہ بندی کررہی ہے، جن میں دسمبر کے لیے 9 اور جنوری کے لیے 11 کارگوز درکار ہوں گے۔ گیس کی کمی کے باعث بجلی گھروں، صنعتوں، کھاد اور سیمنٹ کے کارخانوں اور سی این جی اسٹیشنز کو فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ گھریلو صارفین کو ترجیح دیے جانے کا امکان ہے۔سوئی گیس کمپنیوں کے حکام کے مطابق دسمبر اور جنوری میں پنجاب اور خیبرپختونخوا میں گھریلو گیس کی طلب 500 ملین مکعب فٹ یومیہ سے بڑھ کر 1500 ملین مکعب فٹ تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ سندھ اور بلوچستان میں یہ طلب 300 ملین مکعب فٹ سے بڑھ کر 600 ملین مکعب فٹ یومیہ ہونے کا امکان ہے۔
