ہومبریکنگ نیوزمقبوضہ کشمیر: عمر عبداللہ کو اپنی ہی جماعت کے 24 ارکان اسمبلی کی مخالفت کا سامنا

مقبوضہ کشمیر: عمر عبداللہ کو اپنی ہی جماعت کے 24 ارکان اسمبلی کی مخالفت کا سامنا

سری نگر(آئی پی ایس )مقبوضہ جموں و کشمیر کے وزیراعلی عمر عبداللہ کو اپنی جماعت نیشنل کانفرنس کے اندر اختلافات اور بغاوت کی صورت حال کا سامنا ہے، جہاں 24 ارکان اسمبلی نے قیادت کے سامنے مطالبات پیش کرتے ہوئے تبدیلیوں کے لیے دبا بڑھا دیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق جمعے کی شام سری نگر میں کم از کم 18 ارکان اسمبلی نے اجلاس کیا، جبکہ 6 ارکان ویڈیو کانفرنس کے ذریعے شریک ہوئے۔ اجلاس میں پارٹی کے اندر جمہوریت، حکومتی کارکردگی میں جواب دہی اور حالیہ کابینہ میں ردوبدل کے طریقہ کار میں شفافیت کا مطالبہ کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق ناراض ارکان نے وزیراعلی کے مشیر ناصر اسلم وانی کو عہدے سے ہٹانے، نائب وزیراعلی سریندر چودھری سمیت بعض وزرا کو کابینہ سے نکالنے اور وزارتی کونسل کی ازسرنو تشکیل کا مطالبہ کیا ہے۔ ارکان اسمبلی چاہتے ہیں کہ پارٹی منشور پر عمل درآمد کے لیے واضح لائحہ عمل بنایا جائے اور منتخب نمائندوں کو زیادہ اختیارات دیے جائیں۔ایک ناراض رکن کے مطابق ان کا مقصد پارٹی کو کمزور کرنا نہیں بلکہ اسے مضبوط بنانا ہے۔

نیشنل کانفرنس کے 90 رکنی اسمبلی میں 41 ارکان ہیں اور اس نے کانگریس، 6 ارکان اسمبلی، چھوٹی جماعتوں اور آزاد امیدواروں کی حمایت سے حکومت قائم کی تھی۔ یہ اختلافات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب پارٹی کے سری نگر سے رکن پارلیمنٹ آغا روح اللہ بھی پارٹی اور پارلیمانی نشست چھوڑنے کا اعلان کرچکے ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔