ہومتازہ ترینایران امریکا ثالثی کے حوالے سے ’ہم محتاط انداز میں پرامید ہیں‘، ترجمان پاک فوج

ایران امریکا ثالثی کے حوالے سے ’ہم محتاط انداز میں پرامید ہیں‘، ترجمان پاک فوج

راولپنڈی: پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا رواں ماہ دو مرتبہ تہران کا دورہ کرنا مثبت پیشرفت کی علامت ہے اور ایران امریکا ثالثی کے حوالے سے ’ہم محتاط انداز میں پرامید ہیں‘۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے رواں ماہ ایران کا دو مرتبہ دورہ کیا۔ پیر کو کیے جانے والے دورے میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے رکن ممالک شامل تھے، جس میں سعودی عرب کی نمائندگی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترکیے کے انٹیلی جنس چیف ابراہیم قالن شامل ہوئے۔

یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا جب ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ آٹھویں ماہ میں داخل ہو چکی ہے جبکہ سعودی اتحاد اور یمنی حوثیوں کے درمیان تنازع شدت اختیار کر چکا ہے جس کے باعث خطے میں وسیع تر تصادم کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔

دوسری جانب امریکی کی جانب سے ایران پر دوبارہ حملوں کی تیاریوں کی رپورٹس بھی سامنے آ رہی ہیں جس پر “ایران نے ہر طرح کی صورتحال” کیلیے تیار رہنے اور سفارتکاری کے دروازے کھلے رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ اگر فیلڈ مارشل عاصم منیر دو مرتبہ تہران گئے ہیں تو اس کے پیچھے یقیناً کچھ مثبت امکانات موجود ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز قطری ثالثوں کے ایران پہنچنے پر امریکی سفیر ٹام باراک نے پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششوں اور ثالثی کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا تھا کہ ان ممالک نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان سیاسی عمل اور بات چیت پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں بلاشبہ کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ امریکا، ایران ثالثی میں کام بگاڑنے والے ایسے طاقتور عناصر بھی موجود ہیں جو نہیں چاہتے کہ تنازع ختم ہو، کیونکہ ان کے خیال میں کشیدگی جاری رہنے میں ان کے مفادات وابستہ ہیں۔

ترجمان پاک فوج نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ ایرانی حکام کے ساتھ ملاقاتوں میں کن امور پر بات ہوئی اور آیا امریکا نے اس دورے کی حمایت کی تھی یا نہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی شرائط نئے ارکان کی شمولیت پر پابندی عائد نہیں کرتیں۔

اس سوال پر کہ کیا ایران بھی اس معاہدے میں شامل ہو سکتا ہے؟ پر انہوں نے کہا کہ مکہ معاہدے میں علاقائی امن کے مشترکہ وژن پر یقین رکھنے والے ممالک کو خوش آمدید کہیں گے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس بارے میں فیصلہ تینوں بنیادی فریقوں کی سیاسی قیادت کرے گی۔

سعودی عرب میں مزید پاکستانی فوجی تعینات کیے جانے سے متعلق سوال پر ترجمان پاک فوج نے کہا کہ اس کا انحصار حالات اور دونوں ممالک کی سیاسی قیادت کے فیصلے پر ہو گا۔ پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے لیے پُرعزم ہے اور مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ سمیت مقدس مقامات کی حفاظت کو اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان یمن کے تنازع کا حصہ نہیں ہے کیونکہ یہ یمن کے اندرونی فریقوں کے درمیان جاری کشمکش ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں انسداد دہشتگردی کارروائیوں کا دائرہ مزید بڑھایا جائے گا۔ دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی جاتی ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔