ہومبریکنگ نیوزجرائم اور دہشت گردی، طالبان دور میں پوست کی کاشت 4 گنا بڑھ گئی، اقوام متحدہ

جرائم اور دہشت گردی، طالبان دور میں پوست کی کاشت 4 گنا بڑھ گئی، اقوام متحدہ

کابل (آئی پی ایس )افغانستان میں 2026 کے دوران پوست کی کاشت کا رقبہ بڑھ کر 43 ہزار ہیکٹر ہو گیا، جبکہ افیون کی پیداوار 5 گنا اضافے کے ساتھ 1500 ٹن تک پہنچ گئی۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ متبادل روزگار اور معاشی معاونت کے بغیر منشیات کی کاشت میں کمی برقرار رکھنا مشکل ہے۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم (یو این او ڈی سی) کی رپورٹ کے مطابق، طالبان رجیم کی جانب سے 2022 میں پوست کی کاشت پر پابندی عائد کیے جانے کے باوجود افغانستان میں اس کی کاشت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ 2025 میں پوست کی کاشت کا رقبہ 10 ہزار ہیکٹر تھا، جو 2026 میں بڑھ کر 43 ہزار ہیکٹر ہو گیا۔ اسی عرصے میں افیون کی پیداوار بھی 300 ٹن سے بڑھ کر 1500 ٹن تک پہنچ گئی۔

افغانستان طویل عرصے تک دنیا میں پوست پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک رہا، تاہم پابندی کے بعد میانمار اس سے آگے نکل گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق، افغانستان میں غربت اور بنیادی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات نے کسانوں کو دوبارہ پوست کی کاشت کی طرف راغب کیا ہے۔صوبہ بدخشان، جو اب ملک میں پوست کی کاشت کا اہم مرکز بن چکا ہے، کے ایک کسان محمد کا کہنا ہے کہ افیون کی آمدن کے بغیر ان کے لیے خوراک جیسی بنیادی ضروریات پوری کرنا بھی مشکل ہے۔

کسانوں کے مطابق، گندم کی کاشت سے ہونے والی آمدن اخراجات پورے کرنے کے لیے ناکافی ہے۔اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق، 2023 میں ایک ہیکٹر گندم سے 770 ڈالر سے کچھ زیادہ آمدن ہوئی، جبکہ اتنے ہی رقبے پر پوست کی کاشت سے تقریبا 10 ہزار ڈالر کمائے جا سکتے تھے۔طالبان حکام کا دعوی ہے کہ وہ 22 ہزار ہیکٹر سے زیادہ رقبے پر پوست کی فصل تلف کر چکے ہیں، تاہم اقوام متحدہ کے مطابق کئی مقامات پر پوست کی کاشت کو اناج کی فصلوں کے درمیان یا دیواروں کے پیچھے چھپایا جاتا ہے، جس کے باعث اس کی نشاندہی مشکل ہو جاتی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2026 میں افیون کی قیمت 570 ڈالر فی کلوگرام سے کم ہو کر 500 ڈالر رہ گئی، تاہم یہ اب بھی پابندی سے پہلے کی 100 ڈالر فی کلوگرام سے کم قیمت کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق، کسانوں کو متبادل فصلوں کے ساتھ منڈیوں تک رسائی، سڑکوں، آبپاشی اور ذخیرہ کرنے کی سہولتیں فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم کے افغانستان میں نمائندے پولیک اوک سریئی کے مطابق، کسانوں کے لیے پائیدار متبادل ذرائع معاش پیدا کرنے کے منصوبوں پر تقریبا 50 کروڑ ڈالر خرچ ہونے کا تخمینہ لگایا گیا تھا،

اس رقم کا صرف 10 فیصد فراہم کیا جا سکا ہے۔ افغانستان کو 2021 میں طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد سے بینکاری کی تنہائی، بیرونی امداد میں کمی، موسمیاتی آفات اور 2023 سے اب تک 66 لاکھ افغان شہریوں کی واپسی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ نے زور دیا ہے کہ افغانستان میں منشیات کی پیداوار روکنے کے لیے عالمی تعاون اور منشیات کی طلب میں کمی لانے کی حکمت عملی بھی ضروری ہے، کیونکہ افغان افیون یورپی یونین میں ہیروئن کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔