اسلام آباد (سب نیوز)پاکستان اور چین کے اعلی حکومتی عہدیداروں، سفارت کاروں، ماہرین اقتصادیات اور ترقیاتی شعبے سے وابستہ شخصیات نے جنوبی ایشیا میں غربت کے خاتمے، پائیدار اقتصادی ترقی اور علاقائی تعاون کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے جبکہ پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زائی ڈونگ نے کہا کہ غربت کا خاتمہ عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور چین اس مقصد کے حصول کے لیے پاکستان سمیت دیگر ترقی پذیر ممالک کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا چینی سفیر نے پاک چین اقتصادی راہداری(سی پیک)کو پاکستان کی معاشی ترقی میں اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کے تحت پاکستان میں تقریبا 25.9 ارب ڈالر کی براہ راست سرمایہ کاری ہوئی، آٹھ ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوا جبکہ دو لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد روزگار کے مواقع پیدا ہوئے وزیر مملکت برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات چوہدری ارمغان سبحانی کا کہنا تھا کہ غربت کے مستقل خاتمے کے لیے تعلیم، فنی تربیت، روزگار کی فراہمی اور سماجی تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانا ضروری ہے، معاشی ترقی کے ثمرات عام آدمی تک پہنچانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے ۔وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی برائے امور چین ڈاکٹر ظفر الدین محمود نے کہا کہ غربت کے خاتمے میں چین کی کامیابی ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک قابل تقلید مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقی کے لیے معاشی استحکام کے ساتھ موثر طرز حکمرانی، مضبوط اداروں، تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ناگزیر ہے۔ تفصیلات کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے چائنا انٹرنیشنل کمیونیکیشنز گروپ (سی آئی سی جی)اور انڈرسٹینڈنگ چائنا فورم کے اشتراک سے مشترکہ خوشحالی کے لیے ترقی کے مواقع پیدا کرنا کے عنوان سے جمعرات کو یہاں اسلام آباد ک مقامی ہوٹل میں 2026 چین جنوبی ایشیا فورم برائے تخفیف غربت و ترقیاتی تعاون کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کیا ۔
ڈیلی اتحاد میڈیا گروپ نے تقریب کے خصوصی میڈیا پارٹنر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں کانفرنس میں پاکستان اور چین کے اعلی حکام، مختلف ممالک کے سفارتی نمائندوں، بین الاقوامی اداروں، تحقیقی تنظیموں اور ترقیاتی شعبے کے ماہرین نے شرکت کی شرکا نے غربت کے خاتمے کے لیے چین کے کامیاب تجربات، معاشی ترقی کے نئے امکانات اور جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے کے مختلف پہلووں پر تبادلہ خیال کیا تقریب کی افتتاحی نشست سے چائنا انٹرنیشنل کمیونیکیشنز گروپ کے نائب صدر یو تاو، وزیراعظم پاکستان کے نمائندہ خصوصی برائے امور چین اور انڈرسٹینڈنگ چائنا فورم کے صدر ڈاکٹر ظفر الدین محمود، پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زائی ڈونگ اور وزیر مملکت برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات چوہدری ارمغان سبحانی نے خطاب کیا۔ نشست کی نظامت سی آئی سی جی سینٹر فار یورپ اینڈ ایشیا کی نائب صدر یو شان شان نے کی افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے چائنا انٹرنیشنل کمیونیکیشنز گروپ کے نائب صدر یو تاو کا کہنا تھا کہ چین نے غربت کے مکمل خاتمے کے لیے ایک کامیاب اور موثر حکمت عملی اختیار کی جس سے ترقی پذیر ممالک بالخصوص جنوبی ایشیائی ممالک فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غربت کے خاتمے کے لیے مشترکہ منصوبوں، ادارہ جاتی تعاون اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے یو تاو نے مصنوعی ذہانت، جدید زرعی ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل سہولیات کو معاشی ترقی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین جنوبی ایشیائی ممالک کے ساتھ ترقیاتی تجربات اور جدید ٹیکنالوجی کے تبادلے کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زائی ڈونگ نے کہا کہ غربت کا خاتمہ عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور چین اس مقصد کے حصول کے لیے پاکستان سمیت دیگر ترقی پذیر ممالک کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا چینی سفیر نے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کو پاکستان کی معاشی ترقی میں اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کے تحت پاکستان میں تقریبا 25.9 ارب ڈالر کی براہ راست سرمایہ کاری ہوئی، آٹھ ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوا جبکہ دو لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد روزگار کے مواقع پیدا ہوئے انہوں نے کہا کہ سی پیک کا دوسرا مرحلہ صنعتی ترقی، زراعت، معدنیات اور دیگر پیداواری شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دے گا، جس سے پاکستان کی معیشت کو مستحکم بنانے میں مدد ملے گی وزیر مملکت برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات چوہدری ارمغان سبحانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ غربت کے مستقل خاتمے کے لیے تعلیم، فنی تربیت، روزگار کی فراہمی اور سماجی تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانا ضروری ہے انہوں نے حکومت پاکستان کے ترقیاتی پروگرام اڑان پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ معاشی ترقی کے ثمرات عام آدمی تک پہنچانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیر مملکت نے پاکستان میں سماجی و اقتصادی ترقی کے مختلف منصوبوں میں چین کے تعاون کو سراہا اور دونوں ممالک کے درمیان ترقیاتی شراکت داری مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا
وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی برائے امور چین ڈاکٹر ظفر الدین محمود نے کہا کہ غربت کے خاتمے میں چین کی کامیابی ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک قابل تقلید مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقی کے لیے معاشی استحکام کے ساتھ موثر طرز حکمرانی، مضبوط اداروں، تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ناگزیر ہے ڈاکٹر ظفر الدین محمود نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، ٹیکنالوجی اور علاقائی روابط کے شعبوں میں تعاون بڑھانے سے پاکستان میں معاشی ترقی اور عوام کے معیار زندگی میں بہتری کے نئے امکانات پیدا ہوں گے کانفرنس کے دوران چین کی حکمرانی اور غربت کے خاتمے سے متعلق اہم کتابوں کی تقریب رونمائی بھی منعقد ہوئی۔ اس موقع پر چینی نمائندوں نے جنوبی ایشیائی ممالک کے معزز مہمانوں کو صدر شی جن پھنگ کی کتاب شی جن پھنگ: چین کا نظام حکمرانی کی پانچویں جلد کے انگریزی ایڈیشن، دوسری جلد کے اردو ایڈیشن اور غربت کے خاتمے سے متعلق کتاب اپ اینڈ آوٹ آف پاورٹی کے انگریزی ایڈیشن کی کاپیاں پیش کیں اس موقع پر چین میں غربت کے خاتمے کی کامیابیوں، فلسفے اور تجربات کے بارے میں عالمی رائے عامہ پر مبنی ایک خصوصی رپورٹ بھی جاری کی گئی۔ رپورٹ سی آئی سی جی سینٹر فار یورپ اینڈ ایشیا کے ڈائریکٹر نیو میڈیا آپریشنز چیاو ڑن چی نے پیش کی افتتاحی تقریب کے بعد کانفرنس میں دو خصوصی نشستوں کا انعقاد کیا گیا، جن میں غربت کے خاتمے، جامع ترقی، علاقائی اقتصادی تعاون اور معاشی روابط کے فروغ سے متعلق مختلف پہلووں پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ دونوں نشستوں کی نظامت انڈرسٹینڈنگ چائنا فورم کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر حسن داود بٹ نے کی پہلی نشست غربت کے خاتمے کے عملی اقدامات اور جامع ترقی کے عنوان سے منعقد ہوئی، جس میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پی آئی ڈی) کے وائس چانسلر ڈاکٹر ندیم جاوید، سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ (ایس ڈی پی آئی) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری، اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خواتین کے پاکستان میں نمائندے جمشید قاضی اور چائنا تھری گورجز ساوتھ ایشیا انویسٹمنٹ لمیٹڈ کے اسسٹنٹ چیف ایگزیکٹو آفیسر اور پاکستان میں چیف نمائندے لیو یونگ گانگ نے شرکت کی نشست میں غربت کے خاتمے کے لیے موثر معاشی پالیسیوں، سماجی تحفظ، خواتین کی معاشی خودمختاری، روزگار کے مواقع اور انسانی وسائل کی ترقی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ شرکا نے اس بات پر زور دیا کہ معاشی ترقی کے فوائد معاشرے کے تمام طبقات خصوصا کم آمدنی والے اور پسماندہ علاقوں کے عوام تک پہنچنے چاہئیں دوسری نشست ترقی کی رفتار اور علاقائی تعاون کے موضوع پر منعقد ہوئی، جس میں بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر معید یوسف، انرجی چائنا انٹرنیشنل گروپ لمیٹڈ پاکستان کے منیجنگ ڈائریکٹر وانگ ہوئی ہوا اور معروف ماہر معاشیات ڈاکٹر وقار احمد نے شرکت کی اس نشست میں علاقائی اقتصادی روابط، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، صنعتی تعاون، سرمایہ کاری اور تجارت کے فروغ سے متعلق امور زیر بحث آئے شرکا نے سی پیک کے دوسرے مرحلے کے تحت صنعتی ترقی، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور علاقائی تجارت میں اضافے کے امکانات پر بھی روشنی ڈالی کانفرنس کے شرکا نے اس امر پر اتفاق کیا کہ غربت کے پائیدار خاتمے کے لیے حکومتوں، بین الاقوامی اداروں، تحقیقی تنظیموں اور نجی شعبے کے درمیان مضبوط شراکت داری ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ معاشی ترقی، جدید ٹیکنالوجی اور علاقائی روابط کے فروغ کے ثمرات عام شہریوں کی زندگیوں میں حقیقی بہتری کی صورت میں سامنے آنے چاہئیں۔
