اسلام آباد (آئی پی ایس )گورنر راج کے نفاذ کے بعد خیبرپختونخوا کی نئی انتظامیہ نے سابق وزیراعلی سہیل آفریدی کے 10 ماہ کے دورِ حکومت میں مبینہ بدعنوانیوں کی بڑے پیمانے پر تحقیقات شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس سلسلے میں محکمہ مواصلات و تعمیرات محکمہ آبپاشی، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اور دیگر محکموں سے ترقیاتی منصوبوں کا ریکارڈ طلب کرلیا گیا ہے، تاکہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی اور مقدمات کا اندراج کیا جاسکے۔
خیبرپختونخوا حکومت کی ترجمان اور مشیر برائے اطلاعات ثمر ہارون بلور نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ سہیل آفریدی کے دورِ حکومت میں مائننگ، ترقیاتی فنڈز کے اجرا، سڑکوں کی تعمیر اور دیگر بڑے منصوبوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔
بہت جلد ان کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات درج کیے جائیں گے۔سہیل آفریدی کو 11 اکتوبر کو گورنر راج کے نفاذ کے بعد حفاظتی تحویل میں لیا گیا تھا۔ ثمر ہارون بلور کے مطابق وہ اس وقت بھی حفاظتی تحویل میں ہیں اور ان کا مکمل خیال رکھا جارہا ہے۔صوبائی حکومت کے مطابق سہیل آفریدی کے دورِ حکومت میں شروع کیے گئے متعدد بڑے ترقیاتی منصوبے تحقیقات کے دائرے میں شامل ہیں۔
ان میں ری وائیٹلائزیشن آف پشاور، شہری علاقوں میں سڑکوں کی تعمیر، سٹی امپروومنٹ پراجیکٹس، محکمہ زراعت کے منصوبے اور مائننگ کے ٹھیکوں کی تقسیم شامل ہیں۔ابتدائی مرحلے میں متعلقہ محکموں کو محکمانہ انکوائریاں شروع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ان تحقیقات کے نتائج سامنے آنے کے بعد متعلقہ معاملات قومی احتساب بیورو (نیب) اور محکمہ اینٹی کرپشن کو بھجوائے جائیں گے، تاکہ مبینہ بے ضابطگیوں میں ملوث افراد کے خلاف مزید کارروائی کی جاسکے۔
