اسلام آباد(سب نیوز) نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے)نے بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد کی تیاری اور فروخت میں ملوث ایک بین الاقوامی چائلڈ پورنوگرافی نیٹ ورک بے نقاب کیا ہے۔ این سی سی آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر اسلام آباد سرکل محمد شعیب خان نے پریس کانفرنس کے دوران اس نیٹ ورک کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ چائلڈ پورنوگرافی کے کیس میں گرفتار ملزم اپنے 4 سے 6 سالہ بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنا کر فروخت کرنے میں ملوث تھا۔انہوں نے بتایا کہ ویڈیوز کی خرید و فروخت ٹیلی گرام کے خفیہ گروپس میں کرپٹو کرنسی کے ذریعے کی جاتی تھی۔
شعیب خان کے مطابق ملزم کا تعلق اسکردو سے ہے جسے بین الاقوامی اداروں کی معاونت سے گرفتار کیا گیا جبکہ اس سے تفتیش کے دوران جانوروں سے بدسلوکی کی ویڈیوز بھی برآمد ہوئیں۔انہوں نے اس کیس کو عجیب نوعیت کا قرار دیتے ہوئے کہ ایجنسی کی جانب سے پریس کانفرنسوں کے ذریعے ایسے کیسز کی تفصیلات سامنے لانے کا مقصد لوگوں میں زیادہ سے زیادہ آگاہی پھیلانا ہے۔ان کے مطابق تفتیش کے دوران اسلام آباد، ملتان اور جنوبی پنجاب سے بھی اہم روابط اور شواہد حاصل ہوئے جبکہ نیٹ ورک کے دیگر سہولت کاروں کی گرفتاری کے لیے بھی چھاپے مارے گئے۔محمد شعیب خان نے کہا کہ بچوں کے استحصال جیسے سنگین جرائم میں ملوث عناصر کو قانون کے مطابق کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔
پریس کانفرنس میں ایک اور کیس کی تفصیلات بتاتے ہوئے این سی سی آئی اے کے ترجمان نے کہا کہ کراچی کی رہائشی ایک کمسن بچی نے مسلسل ہراسانی سے تنگ آکر خودکشی کی کوشش کی تاہم اس وقت وہ زیرعلاج ہے۔ اور متاثرہ خاندان کی مدد سے کارروائی کرتے ہوئے صرف 13 گھنٹے میں مرکزی ملزم کو ٹریس کرکے اسلام آباد سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔این سی سی آئی اے کے مطابق ملزم گزشتہ 2، 3 سال سے بچی کو مسلسل ہراساں اور بلیک میل کر رہا تھا۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کرنا ادارے کی اولین ترجیح ہے اور خواتین و بچوں کو ہراساں کرنے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل جاری ہے۔شعیب خان نے سوشل میڈیا صارفین کو خبردار کیا کہ کوئی بھی نازیبا مواد اپ لوڈ کرنے سے پہلے اس کے قانونی نتائج پر غور کریں، کیونکہ غیر قانونی مواد اپ لوڈ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
