ہومپاکستانپی ٹی آئی میں اختلافات شدت اختیار کرگئے، علی امین گنڈاپور کا سلمان اکرم راجا کے نام کھلا خط، معافی کا مطالبہ

پی ٹی آئی میں اختلافات شدت اختیار کرگئے، علی امین گنڈاپور کا سلمان اکرم راجا کے نام کھلا خط، معافی کا مطالبہ

پشاور (سب نیوز)پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما و سابق وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا کے پارٹی رہنماوں سے متعلق سخت بیان کو انتہائی افسوسناک، غیر ذمہ دارانہ اور پارٹی کے اندرونی اتحاد کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے ان سے بیان واپس لینے، الزامات کے ثبوت پیش کرنے اور خیبرپختونخوا کے منتخب نمائندوں اور کارکنوں سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔
سوشل میڈیا پر سلمان اکرم راجا کے نام کھلے خط میں علی امین گنڈاپور نے کہاکہ ایسے وقت میں جب پاکستان تحریک انصاف کو غیر معمولی سیاسی چیلنجز کا سامنا ہے، اپنے ہی منتخب نمائندوں پر مبہم الزامات عائد کرنا اور ان کے لیے طنزیہ زبان استعمال کرنا ذمہ دارانہ قیادت کے شایان شان نہیں۔علی امین گنڈاپور نے سلمان اکرم راجا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے غیر جمہوری فیصلے کرنے والوں اور ایک مبینہ گروہ کی سازش کا ذکر کیا ہے، پہلے یہ واضح کریں کہ یہ لوگ کون ہیں؟۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کن ارکان اسمبلی پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ عمران خان اور سیاسی کمیٹی کی اجازت کے بغیر صوبائی صدر یا آئندہ وزیراعلی کا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں؟ اگر اس حوالے سے شواہد موجود ہیں تو متعلقہ افراد کے نام سامنے لائے جائیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ سنگین الزام کس بنیاد پر لگایا جا رہا ہے کہ ایک گروہ نے وزیراعلی محمد سہیل آفریدی اور ان کی ٹیم سے رابطے منقطع کیے تاکہ صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی راہ ہموار ہو سکے؟۔علی امین گنڈاپور نے کہاکہ سلمان اکرم راجا تحقیقات کی بات کر رہے ہیں، لیکن یہ واضح نہیں کہ کون سی تحقیقات، کس کے حکم پر اور کس مجاز فورم کے تحت کی جا رہی ہیں؟ اگر تحقیقات جاری ہیں تو پارٹی کو ان کے بارے میں علم کیوں نہیں؟
انہوں نے کہا کہ جنید اکبر ہمارے بھائی اور صوبائی صدر ہیں، جن کی جلد صحت یابی کے لیے ہم دعاگو ہیں۔ اگر ان کی غیر موجودگی میں علی اصغر خان کو قائم مقام صدر مقرر کیا گیا ہے تو اس کا باضابطہ نوٹیفکیشن کہاں ہے اور یہ اختیار کس نے استعمال کیا؟،علی امین گنڈاپور نے کہاکہ گزشتہ ایک سال کے دوران پارٹی قیادت کے متعدد فیصلوں اور سیاسی حکمت عملی کے نتائج پر سنجیدہ سوالات موجود ہیں۔ان کے مطابق ان فیصلوں کے اثرات صرف عمران خان اور جیلوں میں قید ساتھیوں تک محدود نہیں رہے بلکہ ملک بھر کے کارکنوں کو بھی ان کی قیمت ادا کرنا پڑی۔انہوں نے کہا کہ آج جب پارٹی شدید سیاسی اور تنظیمی بحران سے گزر رہی ہے تو ایک دوسرے پر انگلیاں اٹھانے کے بجائے قیادت کی کارکردگی، فیصلوں اور ذمہ داریوں کا شفاف جائزہ لینا ضروری ہے۔
علی امین گنڈاپور نے سوال اٹھایا کہ اگر خیبرپختونخوا کی پارلیمانی پارٹی موجودہ بحران کا آئینی اور سیاسی حل باہمی مشاورت سے تلاش کرنا چاہتی ہے تو چند افراد کو کس نے یہ اختیار دیا ہے کہ وہ ان منتخب نمائندوں کو غدار، سازشی یا غیر جمہوری قرار دیں؟،انہوں نے کہاکہ ایک بنیادی سوال کا جواب بھی دیا جانا چاہیے۔ جب قومی اسمبلی کے ارکان کے استعفوں کے معاملے پر یہ موقف اختیار کیا جا سکتا ہے کہ عمران خان کی واضح ہدایت کے بغیر سیاسی کمیٹی یا کور کمیٹی کا کوئی فیصلہ قبول نہیں کیا جائے گا تو یہی اصول خیبرپختونخوا کے ارکان اسمبلی پر کیوں لاگو نہیں ہوتا؟،ان کا کہنا تھا کہ اگر صوبائی اسمبلی کے ارکان یہ کہتے ہیں کہ عمران خان سے ملاقات اور براہ راست رہنمائی ملنے تک وہ صوبے کے اہم سیاسی اور پارلیمانی معاملات کے فیصلے اپنی پارلیمانی پارٹی کی مشاورت سے کریں گے تو اس پر اعتراض کیا ہے؟ ایک ہی جماعت میں سب کے لیے یکساں اصول کیوں نہیں اپنایا جاتا؟
علی امین گنڈاپور نے سلمان اکرم راجا سے کہاکہ آپ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران دوسری مرتبہ سانپ اور بچھو جیسے الفاظ استعمال کررہے ہیں، واضح کریں کہ ان الفاظ سے آپ کی مراد کون لوگ ہیں؟،انہوں نے کہاکہ اگر ان الفاظ کا اشارہ خیبرپختونخوا کے ارکان اسمبلی کی جانب ہے تو یہ ان لوگوں کی توہین ہے جو 20 سے 25 سال سے عمران خان کے ساتھ سیاسی جدوجہد کررہے ہیں اور آج بھی تمام مشکلات کے باوجود پارٹی کے ساتھ کھڑے ہیں۔علی امین گنڈاپور نے مزید کہاکہ یہ جماعت عمران خان کی ہے۔ ہمیں کسی سے وفاداری کے سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی کسی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ہماری سیاسی وفاداری کا فیصلہ کرے یا ہمیں غداری کے سرٹیفکیٹ جاری کرے۔انہوں نے کہا کہ پارٹی سے وفاداری کا تعین چند افراد کی پسند اور ناپسند سے نہیں بلکہ برسوں کی جدوجہد، قربانیوں اور عملی کردار سے ہوتا ہے۔
علی امین گنڈاپور نے سلمان اکرم راجہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بطور سیکریٹری جنرل آپ کی ذمہ داری ہے کہ پارٹی کے منتخب نمائندوں سے رابطہ برقرار رکھیں، ان کے اختلافات سنیں اور مسائل کو سیاسی بات چیت کے ذریعے حل کریں۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر اختلاف رائے کو سازش اور مشاورت کو بغاوت سمجھا جائے تو پارٹی کے اندر جمہوری انداز میں فیصلے کیسے ممکن ہوں گے؟علی امین گنڈاپور نے کہاکہ ہم سمجھتے ہیں کہ سلمان اکرم راجا کا بیان افسوسناک اور غیر ضروری تھا۔ انہیں چاہیے کہ وہ اپنا بیان واپس لیں، اپنے الزامات کے ثبوت پیش کریں اور خیبرپختونخوا کے منتخب نمائندوں اور کارکنوں سے معافی مانگیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔