اسلام آباد(سب نیوز )اکادمی ادبیات پاکستان کے زیرِ اہتمام قائدِ ملت شہید لیاقت علی خان کی 75ویں برسی کے موقع پر خراجِ عقیدت قائدِ ملت لیاقت علی خان کے عنوان سے تقریب جمعہ، 16 اکتوبر 2026 کو سہ پہر 3 بجے شیخ ایاز کانفرنس ہال، اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔ تقریب کی صدارت معروف شاعر و ادیب افتخار عارف نے کی، جبکہ وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی مہمانِ خصوصی تھے۔ پروفیسر جلیل عالی اور وفاقی سیکرٹری قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اسد رحمان گیلانی مہمانانِ اعزاز تھے۔ تقریب میں معروف ادیبوں، شاعروں، دانشوروں اور اہلِ قلم کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ کنٹری ڈائریکٹر، امریکن انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان اسٹڈیز/ سابق وائس چانسلر ڈاکٹر عالیہ سہیل اور معروف صحافی و دانشور جبار مرزا نے تقریب میں کلیدی خطابات پیش کیے،وفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی نے اپنے خطاب میں کہا کہ قائدِ ملت لیاقت علی خان کی 75ویں برسی کے موقع پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنا اور ان کی قومی خدمات کو یاد کرنا ہمارے لیے باعثِ فخر ہے۔
انھوں نے اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے قائدِ ملت کی قومی خدمات کو اجاگر کرنے کے لیے تقریب کے انعقاد کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسی علمی و ادبی سرگرمیاں قومی تاریخ اور اکابرین کی قربانیوں کو نئی نسل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن نے اپنے ذیلی اداروں کو ہدایت کی ہے کہ ملک کے چاروں صوبوں میں قائدِ ملت کی خدمات کے اعتراف میں تقریبات منعقد کی جائیں۔ انھوں نے کہا کہ لیاقت علی خان نے قیامِ پاکستان کے ابتدائی اور مشکل دور میں جس بصیرت، محنت اور سیاسی تدبر کے ساتھ ملک کی قیادت کی، وہ ہماری قومی تاریخ کا قابلِ تحسین باب ہے۔ ان کی جدوجہد، قومی یکجہتی اور پاکستان کے استحکام کے لیے خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ڈاکٹر عالیہ سہیل نے اپنے خطاب میں کہا کہ لیاقت علی خان نے اپنی سیاسی بصیرت، تدبر اور دوراندیشی کے ذریعے نظری پاکستان کو قومی تشخص، ثقافت اور تہذیبی اقدار کے ساتھ مربوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انھوں نے اکادمی ادبیات پاکستان کی اس کاوش کو قابلِ تحسین قرار دیا کہ اس نے ایک اہم قومی رہنما کی خدمات کو علمی و ادبی حلقوں میں زیرِ بحث لانے کا اہتمام کیا۔معروف صحافی و دانشور جبار مرزا نے کہا کہ قائدِ ملت لیاقت علی خان کی شہادت پاکستان اور پاکستانی قوم کے لیے ایک عظیم سانحہ اور ناقابلِ تلافی نقصان تھا۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ 75 برس گزرنے کے باوجود ان کے قتل کے محرکات مکمل طور پر منظرِ عام پر نہیں آ سکے۔
انھوں نے کہا کہ قائدِ ملت کی زندگی، سیاسی جدوجہد اور شہادت کے تاریخی پہلوں پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ ان کی قومی خدمات اور تاریخ کے اہم واقعات کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔معروف ادیب پروفیسر جلیل عالی نے کہا کہ کسی بھی نظریے کے فروغ اور استحکام کے لیے تہذیبی و ثقافتی اقدار کی سرپرستی ضروری ہے۔ پاکستان مختلف زبانوں، ثقافتوں اور روایات کا حامل ملک ہے، انھوں نے قراردادِ مقاصد کی منظوری کے حوالے سے لیاقت علی خان کی خدمات کو ناقابلِ فراموش قرار دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے پاکستان کے نظریاتی تشخص اور قومی مستقبل کے لیے اپنی صلاحیتیں وقف کر دیں۔ انھوں نے اس نوعیت کی علمی و ادبی تقریبات کو قومی شعور، تاریخی آگہی اور فکری مکالمے کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا۔تقریب کے صدر افتخار عارف نے اپنے صدارتی خطاب میں قیامِ پاکستان سے قبل اور بعد میں قائدِ ملت لیاقت علی خان کی سیاسی جدوجہد اور قومی خدمات پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے کہا کہ قراردادِ مقاصد نے پاکستان کے نظریاتی تشخص اور آئینی سمت کے تعین میں بنیادی کردار ادا کیا۔ انھوں نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے قیام سمیت قومی اداروں کی تشکیل اور استحکام کے لیے کی جانے والی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قائدِ ملت کی زندگی، سیاسی بصیرت، جدوجہد اور قومی خدمات پر تحقیق، تصنیف اور علمی کام کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے تاکہ نئی نسل اپنے قومی رہنماں کی قربانیوں اور کارناموں سے آگاہ ہو سکے۔ انھوں نے اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے اس تقریب کے انعقاد کو ایک مثبت علمی و ادبی اقدام قرار دیا، جو قومی تاریخ کے اہم کرداروں کو یاد رکھنے اور ان کی خدمات کا جائزہ لینے کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ تقریب کے اختتام پر قائدِ ملت شہید لیاقت علی خان کے ایصالِ ثواب اور بلندیِ درجات کے لیے دعا کی گئی۔
