ہومکالم وبلاگزکالمزسردار ایاز صادق: سیاسی تقسیم کے درمیان پارلیمان کا پل

سردار ایاز صادق: سیاسی تقسیم کے درمیان پارلیمان کا پل


تحریر:محمد محسن اقبال


پاکستان کے ہنگامہ خیز سیاسی منظرنامے میں پارلیمان وہ واحد ادارہ ہے جہاں اختلاف کو مکالمے میں، کشمکش کو مفاہمت میں اور سیاسی فاصلے کو باہمی گفت و شنید میں بدلا جا سکتا ہے۔ پارلیمان دراصل وہ ایوان ہے جہاں مختلف سیاسی تصورات ایک دوسرے کے سامنے آتے، اپنے مؤقف کا دفاع کرتے اور بالآخر کسی مشترکہ راستے کی تلاش کرتے ہیں۔ ایسے نازک اور پُرآشوب حالات میں اسپیکر کا منصب محض ایوان کی کارروائی چلانے تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کی ذمہ داری کہیں زیادہ وسیع ہو جاتی ہے۔ اسپیکر کو ایوان کے وقار کا محافظ، حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لیے مساوی اظہارِ رائے کا ضامن اور سیاسی کشیدگی کے ماحول میں مکالمے کے دروازے کھلے رکھنے والا کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔


سردار ایاز صادق ایک بار پھر اسی اہم اور کٹھن پارلیمانی ذمہ داری کے مرکز میں دکھائی دے رہے ہیں۔ 2 اکتوبر 2026 کو حکومت، پاکستان پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کے نمائندوں نے پارلیمنٹ ہاؤس میں ان کی زیرِ صدارت مذاکرات کے پہلے باقاعدہ دور میں شرکت کی۔ فریقین نے اپنے اپنے مؤقف پیش کیے اور اگلے روز مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق یہ نشست خوشگوار اور تعمیری ماحول میں ہوئی اور اس امر پر زور دیا گیا کہ قومی معاملات کا حل مکالمے، مشاورت اور سیاسی گفت و شنید کے ذریعے تلاش کیا جائے۔
اس پیش رفت کی اہمیت صرف ان معاملات تک محدود نہیں جن پر فریقین کے درمیان اختلاف ہے، بلکہ اس حقیقت میں بھی پوشیدہ ہے کہ ایک دوسرے کے سیاسی حریف ایک بار پھر پارلیمان کی چھت تلے ایک میز پر بیٹھے ہیں۔ ایسے وقت میں جب سیاسی اختلافات گہری خلیج اختیار کر چکے ہوں اور لہجوں میں تلخی بڑھتی جا رہی ہو، گفتگو کی بحالی بھی ایک اہم پارلیمانی کامیابی بن جاتی ہے۔ 3 اکتوبر کو مذاکرات کا دوسرا دور بھی سردار ایاز صادق کی زیرِ صدارت شروع ہوا، جہاں سیاسی فریقین نے اپنے اپنے مؤقف پر مزید تبادلۂ خیال کیا۔
سردار ایاز صادق کا سیاسی سفر پاکستان مسلم لیگ (ن) سے گہری وابستگی رکھتا ہے، تاہم اسپیکر کی حیثیت سے ان کی ذمہ داری بارہا انہیں جماعتی حدود سے بلند ہو کر ایوان کے وسیع تر مفاد کو سامنے رکھنے کا تقاضا کرتی رہی ہے۔ قومی اسمبلی کے ریکارڈ کے مطابق وہ تین ادوار میں اسپیکر کے منصب پر فائز رہے ہیں: 2013-15، 2015-18 اور مارچ 2024 سے موجودہ دور تک۔ طویل پارلیمانی تجربہ، قواعد و ضوابط سے واقفیت اور محتاط طرزِ عمل ان کی موجودہ ذمہ داریوں کا اہم حصہ ہیں۔
ان کے سابقہ دورِ اسپیکرشپ کو بھی شدید سیاسی دباؤ کا سامنا رہا۔ تحریکِ انصاف کے ارکان کے استعفوں کے معاملے میں استعفوں کی آئینی حیثیت اور طریقۂ کار سے متعلق سوالات ایوان کے سامنے آئے۔ ایسے واقعات اس حقیقت کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ اسپیکر کی ذمہ داری صرف تقاریر سننے یا کارروائی چلانے تک محدود نہیں ہوتی؛ اسے آئینی تقاضوں، پارلیمانی روایات، سیاسی حساسیت، قواعد و ضوابط اور تحمل و تدبر کو بھی پیشِ نظر رکھنا پڑتا ہے۔
پاکستان کی سیاسی جماعتیں پالیسیوں، شخصیات، اداروں اور طرزِ حکمرانی کے حوالے سے ایک دوسرے سے شدید اختلاف رکھ سکتی ہیں، مگر پارلیمانی جمہوریت اس تصور پر زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی کہ ہر اختلاف کا انجام تصادم ہی ہو۔ اختلاف جمہوریت کا لازمی حصہ ہے، لیکن سیاسی تعطل اس کا مقدر نہیں ہونا چاہیے۔ آئینی جمہوری نظام کا بنیادی تقاضا یہی ہے کہ اختلافات کو ادارہ جاتی طریقۂ کار، بحث، مشاورت اور سیاسی مکالمے کے ذریعے سنبھالا جائے۔
اسپیکر ایاز صادق بارہا اس امر پر زور دے چکے ہیں کہ سیاسی مسائل کے حل کے لیے پارلیمان ہی موزوں ترین فورم ہے۔ اسپیکر کا کردار یہ نہیں کہ وہ مذاکرات کے کسی فریق کا حصہ بن جائے، بلکہ اس کا کام یہ ہے کہ وہ ایسا ماحول فراہم کرے جہاں متحارب سیاسی قوتیں اپنے اپنے مؤقف پر قائم رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے کو سن سکیں۔ حالیہ مذاکرات اسی اصول کی عکاسی کرتے ہیں۔ کسی فریق نے فوری طور پر اپنا مؤقف ترک نہیں کیا، لیکن دونوں نے بات چیت جاری رکھنے پر آمادگی ظاہر کی۔ مفاہمت کا سفر اکثر کسی فوری معاہدے سے نہیں بلکہ اس لمحے سے شروع ہوتا ہے جب گفتگو کا دروازہ بند ہونے سے بچا لیا جائے۔
ایک مؤثر ثالث کے لیے ضروری ہے کہ وہ پہلے سنے اور پھر بولے، فریقین کے تحفظات کو سمجھے اور ایسا اعتماد پیدا کرے کہ سیاسی مخالفین ایک ہی میز پر بیٹھے رہنے پر آمادہ ہوں۔ سردار ایاز صادق کا طویل پارلیمانی تجربہ انہیں پاکستانی سیاسی طبقے کے مزاج، پارلیمانی روایات اور سیاسی حساسیت سے بخوبی آگاہ کرتا ہے۔ اسپیکر کا منصب ایک ایسا ادارہ جاتی ماحول فراہم کر سکتا ہے جہاں سیاسی رہنما اپنے تحفظات بیان کریں، اپنے مؤقف کا دفاع کریں اور کسی ممکنہ مفاہمت کی راہ تلاش کریں، بغیر اس کے کہ انہیں اپنی سیاسی شناخت سے دستبردار ہونا پڑے۔
آج پاکستان کو معاشی دباؤ، سلامتی کے مسائل، سماجی تقسیم اور پیچیدہ علاقائی حالات کا سامنا ہے۔ ایسے مسائل اس وقت مؤثر انداز میں حل نہیں ہو سکتے جب سیاسی توانائی مسلسل باہمی محاذ آرائی میں صرف ہوتی رہے۔ معاشی پالیسی کو تسلسل، خارجہ پالیسی کو قومی ہم آہنگی، سلامتی کو ادارہ جاتی تعاون اور جمہوری نظام کو عوامی اعتماد درکار ہوتا ہے۔ ان مقاصد کے لیے ضروری نہیں کہ سیاسی جماعتیں ہر معاملے پر ایک ہی رائے رکھیں؛ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ وہ یہ تسلیم کریں کہ قومی مفاد کسی ایک جماعت، شخصیت یا وقتی سیاسی تنازع سے کہیں بڑا ہوتا ہے۔
اسی تناظر میں ایک پارلیمانی مفاہمتی کمیٹی کے قیام کی تجویز سنجیدہ غور کی مستحق ہے، جس میں بڑی سیاسی جماعتوں کے نمائندے شامل ہوں اور جس کی رہنمائی اسپیکر کرے۔ ایسا فورم سیاسی شکایات، معاشی مسائل اور قومی اہمیت کے معاملات کو روزمرہ سیاسی بیان بازی کی گرمی سے قدرے دور رکھ کر زیرِ بحث لانے کا موقع فراہم کر سکتا ہے۔ اس کا مقصد اختلافات کو مٹانا نہیں بلکہ انہیں تصادم کے بجائے مکالمے کے ذریعے سنبھالنا ہونا چاہیے۔
پارلیمان اس وقت مضبوط نہیں ہوتی جب تمام آوازیں ایک ہی لہجے میں بولیں، بلکہ اس وقت مضبوط ہوتی ہے جب مختلف آوازوں کو سنا جا سکے اور اختلاف کے باوجود وہ ادارہ محفوظ رہے جو ان آوازوں کو جگہ دیتا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کو ایک میز پر لانے کی سردار ایاز صادق کی موجودہ کوشش اسی وسیع تر پارلیمانی تصور کی عکاس ہے۔ یہ محض ایک مذاکراتی عمل نہیں بلکہ پارلیمان کے اس بنیادی کردار کی تجدید بھی ہے کہ سیاسی مسابقت اور قومی ذمہ داری ایک دوسرے کی ضد نہیں۔
دو روزہ پارلیمانی مفاہمتی عمل وہ بڑی پیش رفت تو نہ لا سکا جس کی بہت سے حلقوں کو توقع تھی، لیکن اس نے ایک اہم مقصد ضرور حاصل کیا: سیاسی تعطل کو توڑنے میں مدد دی اور حکومت و اپوزیشن کو ایک ہی میز پر لا بٹھایا۔ گہرے سیاسی عدم اعتماد کے ماحول میں مکالمے کے لیے جگہ پیدا کرنا بھی ایک اہم پارلیمانی پیش رفت ہے۔ اسپیکر نے مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے، اور امید کی جا سکتی ہے کہ وہ اسی تسلسل، تحمل اور سیاسی تدبر کے ساتھ اس عمل کو آگے بڑھائیں گے۔
مفاہمت کی منزل بالآخر تمام سیاسی فریقوں کی اس آمادگی سے وابستہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کو سنیں، جہاں ممکن ہو سمجھوتہ کریں اور سیاسی مقابلے کو قومی مفاد سے الگ رکھیں۔ اسپیکر کسی فریق پر اتفاق مسلط نہیں کر سکتا؛ وہ صرف ایسا ماحول پیدا کر سکتا ہے جس میں اتفاقِ رائے کا امکان جنم لے۔
مکالمہ اعتماد بحال کر سکتا ہے، کشیدگی کم کر سکتا ہے اور سیاسی تعطل کا راستہ روک سکتا ہے۔ ہر پائیدار سمجھوتا گفتگو سے جنم لیتا ہے اور ہر بامعنی گفتگو کے لیے ایک ایسی جگہ ضروری ہے جہاں اختلاف رکھنے والے فریق ایک دوسرے کے سامنے بیٹھ سکیں۔ مخالف سیاسی قوتوں کو دوبارہ ایک میز پر لا کر اسپیکر نے پارلیمانی جمہوریت کے ایک بنیادی اصول کو اجاگر کیا ہے: اختلافات کتنے ہی گہرے کیوں نہ ہوں، مؤقف کتنے ہی مضبوط کیوں نہ ہوں، مکالمے کا دروازہ کبھی بند نہیں ہونا چاہیے۔ پارلیمان کو پل کا کردار ادا کرتے رہنا چاہیے اور اسپیکر کو اس پل کا امین۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔