اسلام آباد (سب نیوز)پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔ پی ٹی آئی کے اعلامیے کے مطابق پارلیمانی پارٹی کا تین گھنٹے طویل اجلاس ہوا، جس میں ایمرجنسی کے نفاذ کو متفقہ طور پر مسترد کیا گیا۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ایمرجنسی کا نفاذ عوامی مینڈیٹ پر براہ راست حملہ، غیر آئینی اور غیر جمہوری اقدام ہے، جو حقائق کے منافی اور عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے۔ منتخب صوبائی حکومت کو غیر موثر بنانا وفاقی نظام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ ایسے فیصلوں سے سیاسی عدم استحکام، عوامی بے چینی اور وفاق و صوبے کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔
سیاسی اختلافات کا حل طاقت اور جبر کے بجائے آئینی اور جمہوری طریقہ کار میں ہے۔پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی نے بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی امن و امان کی صورتحال کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے وفاقی حکومت کے طرزعمل پر سوالات اٹھائے ہیں۔ اعلامیے میں سوال کیا گیا ہے کہ اگر دہشت گردی ایمرجنسی کے نفاذ کا جواز ہے تو بلوچستان کو کیوں نظرانداز کیا جا رہا ہے، جہاں صورتحال زیادہ سنگین ہے، اور ایک ہی آئینی معیار کا اطلاق تمام صوبوں پر یکساں کیوں نہیں کیا جا رہا۔ پی ٹی آئی نے الزام عائد کیا کہ ایمرجنسی کا اصل مقصد امن کا قیام نہیں بلکہ پی ٹی آئی کی حکومت کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانا ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی دہشت گردی کی ہر شکل کی غیر مشروط مذمت کرتی ہے اور اس کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔ انسداد دہشت گردی کے اقدامات میں خیبرپختونخوا اسمبلی کی قرارداد اور امن جرگے کی سفارشات کو اہمیت دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی نے منتخب وزیراعلی سہیل آفریدی کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ منتخب وزیراعلی ہیں اور ان کے اختیارات سلب کرنا عوامی مینڈیٹ کی توہین اور ایک خطرناک نظیر ہے۔
اعلامیے میں صوبائی صدر جنید اکبر خان کی گرفتاری کی بھی مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ دیگر منتخب نمائندوں اور کارکنوں کی گرفتاریوں اور انہیں ہراساں کیے جانے پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔پی ٹی آئی نے آئی جی پولیس خیبرپختونخوا کے کردار اور پولیس کے اقدامات کی سخت مذمت کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ وفاقی حکومت کے دبا پر پی ٹی آئی رہنماوں کے خلاف بلاجواز گرفتاریاں کی گئیں اور ایم پی او کا استعمال کیا گیا۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولیس کی ذمہ داری آئین کی پاسداری ہے، سیاسی مقاصد کی تکمیل نہیں۔ پارٹی نے ایم پی او کے تحت جاری احکامات کے قانونی جائزے اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی نے تمام غیر قانونی گرفتاریوں اور سیاسی انتقامی کارروائیوں کے فوری خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ عوامی مینڈیٹ اور صوبائی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر قانونی اور آئینی فورم سے رجوع کیا جائے گا۔ پارٹی نے آئین کی بالادستی اور جمہوری اداروں کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار بھی کیا ہے۔
