اسلام آباد (سب نیوز)وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے دہشتگردی کے واقعات میں عام شہریوں اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے لیکن خیبر پختونخوا حکومت دہشتگردوں کے خلاف ایک لفظ نہیں بولتی، پانی سر سے اوپر جا چکا، اب فیصلے کا وقت ہے، 10سال میں کے پی حکومت کو دہشتگردی کے خلاف جنگ کے لیے 800 ارب روپے دیئے جا چکے لیکن صوبائی حکومت نے سی ٹی ڈی کو مضبوط نہیں کیا، افغانستان کو بھی بارہا سمجھایا گیا لیکن انہیں بات سمجھ نہیں آئی، اسلام آباد پر چڑھائی کا ناپاک منصوبہ بنایا گیا، جھتہ اسلام آباد آکر پاکستان کو دوبارہ تباہی کے دہانے پر لانا چاہتا ہے، کیا ملک دشمنی پر خاموش تماشائی بنے بیٹھے رہیں، یہ نہیں چاہتے کہ ترقی اور سفارتی کامیابی آگے بڑھے، ایسا کسی صورت نہیں ہونے دیں گے، قانون ہر صورت میں لاگو کیا جائے گا۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہ یہ لوگ لانگ مارچ کے ذریعے اسلام آباد پر چڑھائی کرکے بھیانک یادوں کو تازہ کرنا چاہتے ہیں، یہ چاہتے ہیں ملک تباہی کی طرف دوبارہ چلا جائے، پانی سر سے اوپر جاچکا ہے، ابھی یا کبھی نہیں، یہ فیصلے کا وقت ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں فورسز کے جوانوں اور شہریوں کو دہشت گرد بے دردی سے شہید کررہے ہیں، افواج پاکستان دہشت گردوں کو چن چن کر جہنم رسید کررہی ہیں، افغانستان کو باور کرایا کہ ہم ہمسائے ہیں مگر انکو بات سمجھ نہیں آرہی اور وہ اغیار کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں، کے پی حکومت بجائے ان دہشت گردوں کو للکارنے کے بالکل خاموش ہے، وہ دہشت گردوں کیخلاف ایک لفظ نہیں بولتے، باقی لوگ نشانے پر ہیں مگر انکے جلوس نکلتے ہیں۔ شہباز شریف نے کہا کہ 10 سال میں کے پی میں دہشت گردی کیخلاف 800 ارب روپے دیے جاچکے ہیں، کیا آپ بار بار ملک کو لاچار اور تباہ کرنا چاہتے ہیں، ایسا نہیں ہوگا اور قانون اپنا راستہ اپنائے گا۔ مولانا فضل الرحمان نے خلوص کے ساتھ بات چیت میں اپنا حصہ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب چین کی طرح پاکستان کا بااعتماد دوست ہے، سعودی عوام اور حکومت نے پاکستان کا ہمیشہ ساتھ دیا، ایران بھی ہمارا برادر اور ہمسایہ ملک ہے، ہمارا ایک ہی مقصد ہے کہ خطے میں امن قائم ہوا، باب المندب میں جو خونی کھیل کھیلا جارہا وہ قابل افسوس ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے ساتھ ہمارا دفاعی معاہدہ ہے، حوثی جو کچھ کررہے ہیں وہ انتہائی قابل مذمت ہے، اس جارحیت کا کوئی جواز نہیں ہے، کون مسلمان ہے جو بیت اللہ کیلئے کٹ مر نہ جائے؟، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور پوری مضبوطی کے ساتھ کھڑا ہے، مکہ مکرمہ کی حرمت کی حفاظت پورے دنیا کے مسلمانوں کی ذمہ داری ہے، ہماری خواہش ہے کہ یہ معاملہ امن و امان اور خوش اسلوبی سے حل ہوجائے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہمارا آئی ایم ایف سے اسٹاف لیول معاہدہ ہوچکا ہے، آئی ایم ایف 1.2 ارب ڈالر کی قسط رواں سال ہی موصول ہوجائے گی، امریکا میں آئی ایم ایف کے ایم ڈی سے ملاقات ہوئی جس میں انہوں نے پاکستان کی معاشی اصلاحات کا اعتراف کیا اور کہا کہ آپ نے پاکستان کو تبدیل کردیا ہے، سیاسی اور ملٹری لیڈر شپ نے ملک کیلئے ملکر کام کیا۔وزیر اعظم نے کہا کہ سربراہان مملکت نے ایران اور امریکا کے درمیان پاکستان کی جنگ بندی کی کوششوں کو سراہا، پاکستان آج بھی ثالثی کیلئے اپنا کردار پورے خلوص کے ساتھ ادا کررہا ہے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ثالثی کی کوششوں میں اہم کردار ادا کیا۔ قبل ازیں وفاقی کابینہ نے خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ایمرجنسی لگانے کی منظوری دی، جس پر وزیراعظم شہباز شریف نے صدرِ مملکت آصف علی زرداری کو خیبرپختونخوا میں حالات کی سنگینی دیکھتے ہوئے ایمرجنسی نافذ کرنے کی باضابطہ سفارش کی۔وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر داخلہ محسن نقوی، مشیر رانا ثنا اللہ، وزیر مملکت طلال چودھری، امیر مقام، سید عمران شاہ، حنیف عباسی، معین وٹو، پرویز خٹک،احد چیمہ، مصطفی کمال اور ہارون اختر شریک ہوئے۔وفاقی کابینہ کو خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال اور دہشت گردی کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔کابینہ نے خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور دہشت گردی کے خلاف جنگ سے صوبائی حکومت کی دانستہ لاتعلقی کے پیش نظر حالات کا تفصیلی جائزہ لیا۔وفاقی کابینہ نے وزیرِ اعظم کو تجویز دی کہ وہ صدر مملکت کو مشورہ دیں کہ حالات کی سنگینی کے پیش نظر صدر مملکت آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے صوبہ خیبر پختونخوا میں آئین پاکستان کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی کا نفاذ کریں۔اس ضمن میں وزیرِ اعظم ہاس سے ایڈوائس ایوان صدر بھجوا دی گئی، وزیرداخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت طلال چودھری ایوانِ صدر پہنچ گئے، صدر مملکت کو وفاقی کابینہ کے فیصلہ سے آگاہ کیا۔اس سے پہلے کابینہ میں یہ تجویز دی گئی کہ خیبر پختونخوا کے حوالے سے کسی بھی حتمی فیصلے سے پہلے مولانا فضل الرحمن کے ذریعے آخری کوشش کی جائے۔اجلاس کے دوران ہی نائب وزیرِ اعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے مولانا فضل الرحمن سے رابطہ کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خلاف خیبر پختونخوا حکومت وفاقی حکومت کا ساتھ دے۔
