اسلام آباد (سب نیوز)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے مذاکرات اور دہشتگردی کے خلاف حکمت عملی کے حوالے سے پی ٹی آئی کے موقف پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کا یہ پرانا عذر کہ تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت ہونی چاہیے، گزشتہ تین سال میں اپنی مدت پوری کرچکا ہے۔سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر سلمان اکرم راجا کو جواب دیتے ہوئے عطااللہ تارڑ نے کہاکہ وفاقی حکومت نے ایسا ہی کیا لیکن پی ٹی آئی نے وفاقی حکومت کی تجاویز کا کبھی جواب نہیں دیا۔ اب جب خیبر پختونخوا حکومت سیاسی طور پر کمزور ہے تو وفاقی حکومت کی جانب سے دہشتگردی کے خلاف مشترکہ طریقہ کار کی کال کا جواب دینا شروع کیا ہے، وہ بھی خیبر پختونخوا میں اپنا سیاسی سرمایہ بچانے کی حکمت عملی کے طور پر ایسا کیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کے اپنے ترجمان اس کی تردید کررہے ہیں اور دہشتگردوں کے حق میں جواز پیش کررہے ہیں۔عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ یہ دہرا معیار اور منافقت معلوم ہوتی ہے کہ ایک طرف کہا جاتا ہے کہ پی ٹی آئی کی خیبر پختونخوا حکومت دہشتگردی کے خلاف اقدامات کر رہی ہے اور اس معاملے میں سنجیدہ ہے، جبکہ دوسری جانب دہشتگردی سے متعلق پی ٹی آئی کا بیانیہ دہشتگردوں کے حق میں ہے۔انہوں نے الزام عائد کیاکہ خیبر پختونخوا حکومت کی پالیسی صوبے میں دہشتگردی کے پھیلا کی حوصلہ افزائی اور حمایت کرتی ہے۔عطااللہ تارڑ نے سوال اٹھایا کہ خیبر پختونخوا حکومت وفاقی اپیکس کمیٹی کے اجلاسوں میں کیوں شرکت نہیں کرتی؟۔انہوں نے کہاکہ دیگر صوبوں کی طرح خیبر پختونخوا حکومت دہشتگردی کا جائزہ لینے کے لیے اپنے اپیکس کمیٹی کے اجلاس کیوں نہیں بلاتی؟۔عطااللہ تارڑ نے سوال کیا کہ وزیراعلی خیبر پختونخوا اور ان کی کابینہ پاکستان میں دہشتگردی کی سرپرستی کرنے والی افغان طالبان حکومت اور اس کی جانب سے سرحد پار حملوں، پوسٹوں پر حملوں اور ڈرون حملوں کی مذمت کیوں نہیں کرتے؟۔انہوں نے کہا کہ کیا خیبرپختونخوا حکومت نے کبھی ان بہادر مسلح افواج اور پولیس کی کھل کر حمایت کا اظہار کیا ہے جنہوں نے خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے خلاف لڑتے ہوئے ہزاروں جانیں قربان کی ہیں؟،عطااللہ تارڑ نے مزید سوال کیاکہ خیبرپختونخوا حکومت نے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کیوں نہیں کیا، جس کے تحت غیر قانونی اسپیکٹرم، غیر قانونی افغان مہاجرین کے خلاف واضح کارروائی اور پولیس و کانٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار بڑھانے کے اقدامات ضروری ہیں؟۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے سوال کیا کہ پی ٹی آئی کے لوگ شہدا کے جنازوں میں کیوں شرکت نہیں کرتے؟ سیکیورٹی فورسز اور پولیس کی چوکیوں پر جا کر ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیوں نہیں کرتے؟۔ انہوں نے پوچھا کہ پی ٹی آئی نے سابق فاٹا کے علاقوں کا کتنی مرتبہ دورہ کیا اور وہاں کے طرز حکمرانی اور ترقیاتی مسائل میں کتنی دلچسپی لی۔ عطااللہ تارڑ نے سوال کیاکہ جب افغان طالبان حکومت، جو خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کی حمایت کرتی ہے، ڈرون اور تشکیلیں بھیجتی ہے تو پی ٹی آئی خاموش کیوں رہتی ہے؟،انہوں نے پوچھا کہ پی ٹی آئی کے رہنماں نے کتنی مرتبہ پاک افغان سرحد پر ان دہشتگردوں کے خلاف پہرہ دینے والے بہادر ایف سی اہلکاروں کے ساتھ کھڑے ہوکر یکجہتی کا اظہار کیا ہے؟،عطااللہ تارڑ نے کہاکہ پہلے ان سوالات کے جوابات دیے جائیں، صرف الجھن پیدا کرنے والی باتیں اور بے فائدہ بیان بازی نہ کی جائے۔وفاقی وزیر نے کہاکہ یہ پی ٹی آئی کی پرانی حکمت عملی ہے کہ جب وہ دبا میں آتی ہے تو مشاورت اور مشترکہ اقدامات کی بات شروع کردیتی ہے، لیکن عملی طور پر اس کے بالکل برعکس اقدامات کرتی ہے۔انہوں نے کہاکہ خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث نہ صرف صوبے میں دہشتگردی پروان چڑھی بلکہ صوبے کی معیشت بھی بری طرح متاثر ہوئی، جس کی ذمہ دار صرف پی ٹی آئی ہے۔عطااللہ تارڑ نے کہاکہ پی ٹی آئی کے اجتماعی مشاورت، جرگوں یا کسی بھی دوسرے طریقہ کار کے بیانیے کو مزید پیش نہ کیا جائے، کیونکہ زمینی سطح پر اس کی کوئی حیثیت نہیں اور یہ صرف تاخیری حربوں کے مترادف ہے۔انہوں نے کہاکہ اس بار ریاست پی ٹی آئی کو اپنے پرانے بیانیے اور طویل بیان بازی کے ذریعے لوگوں کو الجھانے اور گمراہ کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔عطااللہ تارڑ نے کہاکہ یہی بیانیہ اور طویل بیان بازی خیبر پختونخوا کو تباہی کے دہانے تک لے جا چکی ہے۔
