تہران:ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر علی اکبر ولایتی نے متحدہ عرب امارات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن اور تل ابیب پر سکیورٹی کے لیے انحصار کرنے والے ممالک بالآخر اپنی داخلی اور خارجہ پالیسی میں مشکلات اور بے یقینی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
سپریم لیڈر کے مشیر کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ایران اور امارات کے درمیان علاقائی سکیورٹی اور تین متنازع جزائر کے معاملے پر کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ دونوں ممالک گریٹر تنب، لیزر تنب اور ابوموسیٰ جزائر پر ایک دوسرے سے مختلف مؤقف رکھتے ہیں۔
علی اکبر ولایتی نے ایکس پر متعدد پیغامات میں گریٹر تنب، لیزر تنب اور ابوموسیٰ جزائر پر ایران کے دعوے کو دہراتے ہوئے کہا کہ یہ جزائر ایران کے تھے اور ایران کے ہی رہیں گے۔
انہوں نے امارات کی جانب سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ان جزائر پر ملکیت کے دعوے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بیانات سے جغرافیہ تبدیل نہیں ہوتا۔
یہ تین جزائر خلیج فارس کے ایک اہم حصے میں واقع ہیں جس پر ایران کا کنٹرول ہے، ان جزائر کا انتظام 1971 سے ایران کے پاس ہے جبکہ متحدہ عرب امارات بھی ان جزائر کو اپنی سرزمین کا حصہ قرار دیتا ہے۔ تینوں جزائر آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہیں، جس کی وجہ سے ان کی جغرافیائی اور عسکری اہمیت بہت زیادہ ہے۔ ابوموسیٰ اور تنبِ بزرگ پر ایران کی عسکری موجودگی بھی اس تنازع کو محض تاریخی یا سفارتی مسئلہ نہیں رہنے دیتی۔
حالیہ جنرل اسمبلی اجلاس میں اماراتی حکام نے اس تنازع کو مذاکرات یا عالمی عدالت انصاف کے ذریعے پرامن طور پر حل کرنے پر زور دیا تھا، جبکہ ایران نے اپنے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔
سپریم لیڈر کے مشیر نے اس طرزِ عمل کو متضاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ خطے کے عوام اس صورتحال کو دیکھ رہے ہیں۔ خطے کے تجربے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’’درآمد شدہ سکیورٹی‘‘ کی ایک مدت ہوتی ہے اور ہمسایہ ملک موجود رہتا ہے جبکہ باہر سے آنے والا مہمان چلا جاتا ہے۔
ایرانی رہنما کے مشیر نے امارات پر اس حوالے سے بھی تنقید کی کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے حالیہ دورہہ ابوظہبی کے تقریباً ایک ہفتے بعد امارات عرب حقوق اور اسلامی یکجہتی کی بات کر رہا ہے۔
امریکی اور اسرائیلی سکیورٹی پر انحصار زیادہ دیر نہیں چلے گا ، ایران کی متحدہ عرب امارات کو تنبیہ
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
