ہومبریکنگ نیوزیمن کسی بھی غیر ملکی حمایت یافتہ ملیشیا کو ملک کے کسی کونے پر حکمرانی نہیں کرنے دے گا: یمنی سفیر محمد مطہر العشبی

یمن کسی بھی غیر ملکی حمایت یافتہ ملیشیا کو ملک کے کسی کونے پر حکمرانی نہیں کرنے دے گا: یمنی سفیر محمد مطہر العشبی

اسلام آباد(آئی پی ایس )پاکستان میں جمہوریہ یمن کے سفیر محمد مطہر العشبی نے کہا ہے کہ یمن کسی بھی غیر ملکی حمایت یافتہ ملیشیا کو ملک کے کسی بھی حصے پر حکمرانی کرنے کی اجازت نہیں دے گا اور ریاست اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا ہر صورت تحفظ کرے گی۔ یمنی سفیر نے اسلام آباد میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بعض علاقائی طاقتیں حوثیوں کو اسلحہ، میزائل اور ڈرون فراہم کر رہی ہیں، جبکہ یمن کو توقع ہے کہ عالمی برادری امن کی بحالی کے لیے اپنا مثر کردار ادا کرے گی۔

محمد مطہر العشبی نے کہا کہ یمن اس وقت مسلح گروہوں کی جانب سے سنگین چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، جنہیں مختلف ذرائع سے اسلحہ اور مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف یمن کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری عالمی برادری کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ انہوں نے کہا کہ یمن کی قومی سلامتی خطرے میں ہے، تاہم آبنائے باب المندب کی جغرافیائی اور عالمی تجارتی اہمیت کے پیش نظر یہ صورتحال بین الاقوامی سلامتی کے لیے بھی خطرہ ہے۔

یمنی سفیر نے کہا کہ دنیا کی سمندری تجارت کا ایک بڑا حصہ آبنائے باب المندب سے گزرتا ہے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کی صورتحال کے نتیجے میں پیدا ہونے والے توانائی بحران کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو عام لوگوں کے لیے برداشت کرنا مشکل بنتا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یمن کے مشرقی اور جنوبی علاقوں میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ مسلح ملیشیاں کی غیر ملکی حمایت اور مداخلت کا نتیجہ ہے، جو انسانی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ انہوں نے کسی ملک یا فریق کا نام لیے بغیر کہا کہ بعض عناصر مہلک ہتھیاروں سے لیس جنگجو اور کرائے کے افراد بھیج رہے ہیں اور انہیں مذہبی جذبات کو استعمال کرتے ہوئے ریاست کے خلاف لڑنے پر اکسایا جا رہا ہے۔

سفیر العشبی نے خبردار کیا کہ اگر آبنائے باب المندب حوثیوں کے کنٹرول میں چلی گئی تو یہ صرف یمن کا مسئلہ نہیں رہے گا بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک سنگین بحران بن جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے بعد باب المندب کی بندش ایک بڑے اور انتہائی خطرناک بین الاقوامی تنازعے کو جنم دے سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یمن گزشتہ 12 برس سے اس مشکل صورتحال کا سامنا کر رہا ہے اور یمنی ریاست کے پاس وہ میزائل اور ڈرون موجود نہیں جو حوثیوں کے زیر استعمال ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ حوثیوں کو یہ جدید ہتھیار کہاں سے اور کس کی مدد سے حاصل ہو رہے ہیں۔

محمد مطہر العشبی نے کہا کہ یمن نے ملک میں امن اور اتحاد کی بحالی کے لیے متعدد مرتبہ مذاکرات اور مکالمے کی پیشکش کی، تاہم حوثی امن مذاکرات کے لیے آمادہ نہیں ہوئے۔پاکستان کے کردار سے متعلق ایک سوال کے جواب میں یمنی سفیر نے کہا کہ یمن پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے اور دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مشرق وسطی اور مسلم دنیا کے تناظر میں ایک اہم ملک ہے اور یمن کو امید ہے کہ پاکستان کشیدگی کم کرنے اور خطے میں امن کے لیے مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں اپنا مثر کردار ادا کر سکتا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔