ہومپاکستانامریکی سفارتخانہ کی جانب سے پاک امریکہ تجارتی تعلقات کو اجاگر کرنے کیلئے اکنامک پالیسی چیلنج مقابلے کا انعقاد

امریکی سفارتخانہ کی جانب سے پاک امریکہ تجارتی تعلقات کو اجاگر کرنے کیلئے اکنامک پالیسی چیلنج مقابلے کا انعقاد

اسلام آباد (سب نیوز)امریکی سفارت خانہ اسلام آباد نے ‘پاکستان-یو ایس ایلومنائی نیٹ ورک(پی یو اے این)اکنامک پالیسی چیلنج’ کے موقع پر اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی غرض سے ایک مقابلے کا انعقاد کیا۔ یہ ایک کیس اسٹڈی پر مبنی دو روزہ مقابلہ تھا جس میں ماہرین کی ٹیموں نے اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی کہ “پاکستان کس طرح ایک زیادہ مسابقتی، خوشحال اور عالمی سطح پر مربوط معیشت تشکیل دے سکتا ہے؟”اس تقریب میں پاکستان بھر سے پی یو اے این کے ستر سابق طالب علموں کے علاوہ بنگلہ دیش، مالدیپ، نیپال اور سری لنکا سے آنے والے چھ دیگر افراد نے بھی شرکت کی۔ مقابلے کے دوران، سابق طالب علموں کی ٹیموں نے معاشی پالیسی کے پیچیدہ چیلنجوں ، جن میں امریکی سرمایہ کاری کا حصول، پاکستان کی عالمی ساکھ کو بہتر بنانا، عالمی سطح پر سرمائے کی تقسیم، مستقبل میں قابل حصول توانائی ، ٹیکس کے نظام کومعقول بنانا اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے ادارہ جاتی تحفظات کو مضبوط کرنا شامل تھے، پر غور و خوض کیا ۔ شرکا نے اپنی تجاویز اہم متعلقہ فریقین کے ایک پینل کوپیش کیں۔

اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسلام آباد میں امریکی سفارتخانہ کے ناظم الامور اینڈی ہیلس نے کہا کہ اس افتتاحی چیلنج نے شرکا کو ایک زیادہ مسابقتی، باہمی طور پر خوشحال اور عالمی سطح پر مربوط پاکستانی معیشت کی تعمیر کے لیے عملی تجاویز تیار کرنے کے قابل بنایا۔ناظم الامور اینڈی ہیلس نے کہا کہ گزشتہ ڈھائی سو سال قبل اپنے قیام کے بعد سے اب تک، امریکہ نے جدت طرازی کے جذبے کو فروغ دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ آج دیکھا گیا کہ کس طرح شرکا نے پاکستان میں اپنے معاشی مسائل کے حل کے لیے اس جذبے کو اپنایا ہے۔ ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ امریکہ کی بنیادی اقدار کس طرح مستقبل کو بہتر بنانے میں اثر ڈالتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال امریکہ کے قیام کی یاد میں فریڈم ٹو ففٹی کے عنوان سے تقریبات کا انعقاد کیا جا رہا ہے تاکہ ان خیالات اور تخلیقی صلاحیتوں کا جشن منایا جا سکے جنہوں نے امریکہ کی تشکیل کی۔اینڈی نے اس بات پر زور دیا کہ اس پروگرام کے توسط سیقائم ہونے والے تعلقات اس کی افادیت کا ایک اہم حصہ ہیں، جو پی یو اے این کے سابق طالب علموں کو ان کے پرانے ساتھیوں ، صنعتی ماہرین اور امریکی کمپنیوں سے جوڑتے ہیں۔ انہوں نے ان روابط کو برقرار رکھنے اور انہیں باہمی طور پر فائدہ مند شراکت داریوں میں تبدیل کرنے کیلئے شرکا کی حوصلہ افزائی کی ۔ناظم الامور نے مزید کہا کہ گزشتہ سال ہمارے دونوں ملکوں کے درمیان دو طرفہ تجارت کا حجم دس ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا، اور امریکہ بدستور پاکستانی برآمدات کے لیے سب سے بڑی انفرادی ملکی منڈی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس مقابلے کے دوران تیار کی گئی تجاویز سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی پروگرام کے سابق شرکا کس طرح متحد ہو کر پاکستان کے کاروباری ماحول میں اصلاحات کے لیے مل کر غور و خوض کر سکتے ہیں، جس سے امریکی کمپنیوں کی رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع میں اضافہ ہوگا۔اینڈی نے ان تنظیموں اور ٹیموں، بشمول احتساب لیب پاکستان اور پاکستان میں یونائیٹڈ اسٹیٹس ایجوکیشنل فانڈیشن، کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے یہ تقریب منعقد کرنے میں معاونت کی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔