مظفرآباد (آئی پی ایس )آزاد کشمیر کے ضلع پونچھ کے علاقے راولاکوٹ میں گزشتہ تقریبا 3 ماہ سے کالعدم ایکشن کمیٹی کے احتجاج اور دھرنوں کے باعث تعلیمی اداروں کی بندش نے طلبہ و طالبات کے تعلیمی مستقبل پر سنگین سوالات کھڑے کردیے ہیں۔طویل عرصے سے اسکول نہ جا سکنے کی وجہ سے طلبا و طالبات میں سخت بے چینی پائی جاتی ہے اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے ادارے کھلوانے کے لیے اب تک کوئی موثر پیشرفت سامنے نہیں آسکی ہے۔
اسی صورتحال کے پیش نظر راولاکوٹ کی ایک کمسن طالبہ عمار فاطمہ نے وزیراعظم آزاد کشمیر کے نام ایک جذباتی خط تحریر کیا ہے۔ خط میں طالبہ نے معصومانہ انداز میں وزیراعظم سے اپیل کی ہے کہ ان کا اسکول کھولا جائے تاکہ وہ اور دیگر بچے اپنی تعلیم دوبارہ شروع کرسکیں اور ان کا تعلیمی سال ضائع ہونے سے بچ سکے۔معصوم طالبہ کا یہ خط سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہورہا ہے، جہاں شہریوں اور تعلیمی حلقوں نے حکومت آزاد کشمیر اور متعلقہ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ سیاسی و انتظامی تنازعات کے باعث بچوں کی تعلیم متاثر ہونا انتہائی تشویشناک ہے۔ ان کے مطابق احتجاج اور دھرنوں کے اپنے مطالبات ہوسکتے ہیں، تاہم تعلیمی اداروں کی طویل بندش سے براہ راست بچوں کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے۔دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ عوامی حقوق کے مطالبات اپنی جگہ، لیکن احتجاج کے نام پر تعلیمی اداروں کی مسلسل بندش اور معمولات زندگی میں خلل قابل تشویش ہے۔
ناقدین کی جانب سے ایکشن کمیٹی سے وابستہ عناصر پر یہ الزام بھی عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ عوامی حقوق کی آڑ میں نظریاتی تخریب کاری کی طرف بڑھ رہے ہیں۔شہریوں کا مطالبہ ہے کہ سیاسی اور انتظامی معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے اور بچوں کی تعلیم کو کسی بھی صورت میں تنازع کا شکار نہ بنایا جائے۔ عوام کا کہنا ہے کہ راولاکوٹ میں تعلیمی سرگرمیوں کی فوری بحالی کے لیے حکومت آزاد کشمیر اور متعلقہ اداروں کو عملی اقدامات اٹھانے چاہییں تاکہ ہزاروں طلبا و طالبات کا تعلیمی سال مزید متاثر ہونے سے بچایا جا سکے۔
