گوجرانوالہ(سب نیوز)ڈپلومیٹک انسائٹ گروپ، گوجرانوالہ کی جی آئی ایف ٹی یونیورسٹی اور گوجرانوالہ بزنس الائنس کے اشتراک سے یونیورسٹی کے کیمپس میں بی آر آئی ایکسی لینس سینٹر کا افتتاح کر دیا گیا۔افتتاحی تقریب کے مہمانِ خصوصی لاہور میں تعینات چین کے قونصل جنرل مسٹر سن یان تھے، جنہوں نے تقریب میں خصوصی شرکت کی۔قونصل جنرل سن یان کے ہمراہ ڈاکٹر فرحت آصف، چیئرپرسن ڈپلومیٹک انسائٹ گروپ، محمد انور ڈار، چیئرمین جی آئی ایف ٹی یونیورسٹی، اور احمد اکرام لون، بانی و چیئرمین گوجرانوالہ بزنس الائنس بھی موجود تھے۔بی آر آئی ایکسی لینس سینٹر کا مقصد گوجرانوالہ میں تعلیمی اداروں، صنعت اور سفارت کاری کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو بی آر آئی کے تعاون کو قومی وژن سے مقامی سطح پر عملی اقدامات تک منتقل کرنا ہے۔
اس سینٹر کا افتتاح پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر ہوا ہے۔ یہ جنوری 2026 میں صنعت، زراعت اور کان کنی کے شعبوں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے اپ گریڈڈ سی پیک فیز 2 شروع کرنے کے معاہدے کے بعد قائم کیا گیا ہے، جبکہ یہ تینوں شعبے گوجرانوالہ کی معیشت میں نمایاں اہمیت رکھتے ہیں۔اپنے خطاب میں قونصل جنرل سن یان نے پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کے قیام کے 75 سال مکمل ہونے کے موقع پربی آر آئی ایکسی لینس سینٹر کے قیام کو ایک اہم اور بروقت اقدام قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سینٹر دونوں ممالک کو تعلیمی اور صنعتی شعبوں میں تبادلوں کے ذریعے مزید قریب لانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ڈپلومیٹک انسائٹ گروپ کی چیئرپرسن ڈاکٹر فرحت آصف نے کہا کہ اس سینٹر کو ایسا پلیٹ فارم بنانا چاہتے ہیں جہاں پاکستانی کاروباری افراد چینی منڈیوں کے امکانات تلاش کر سکیں، طلبہ چینی زبان سیکھنے کے ساتھ عصرِ حاضر کے چین کو سمجھ سکیں، اسٹارٹ اپس ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری سے منسلک ہو سکیں اور چینی اداروں کو پاکستان کے صنعتی مرکز میں قابلِ اعتماد شراکت دار میسر آ سکیں۔بی آر آئی ایکسی لینس سینٹر کے تحت چھ اہم شعبے ایک ہی چھت تلے کام کریں گے، جن میںبی آر آئی ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ سینٹر* چینی زبان و ثقافتی مرکز* اے آئی اور ڈیجیٹل انوویشن سینٹر* الیکٹرک وہیکلز (ای وی )اور گرین ٹیکنالوجی سینٹربی آر آئی ریسرچ اینڈ پالیسی انسٹی ٹیوٹ* انٹرپرینیورشپ اور اسٹارٹ اپ سینٹرشامل ہیں۔
جی آئی ایف ٹی یونیورسٹی کے چیئرمین محمد انور ڈار نے ڈپلومیٹک انسائٹ گروپ کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے یونیورسٹی کے اس وژن کو عملی شکل دینے میں مدد ملے گی جس کے تحت طلبہ کو محض تعلیم فراہم کرنے کے بجائے انہیں اپنے کاروبار قائم کرنے کے قابل بنایا جائے۔گوجرانوالہ پاکستان کی تیار شدہ مصنوعات کی برآمدات میں نمایاں حصہ رکھتا ہے۔ شہر سے ملک کی مجموعی سرجیکل آلات کی برآمدات کا تقریبا 40 فیصد جبکہ کٹلری کی برآمدات کا تقریبا 30 فیصد وابستہ ہے۔گوجرانوالہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے روٹ پر واقع ہے، تاہم اب تک شہر میں کسی چینی ادارے کی منظم موجودگی نہیں تھی۔گوجرانوالہ بزنس الائنس کے چیئرمین احمد اکرام لون نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا، آج ہم صرف ایک سینٹر کا افتتاح نہیں کر رہے بلکہ پاکستان اور چین کے درمیان تعاون، سرگرمیوں اور مشترکہ مواقع کے ایک نئے باب کا آغاز کر رہے ہیں۔انہوں نے نئے قائم ہونے والے سینٹر کو خطے میں اپنی نوعیت کا پہلا مرکز قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا محور چار اہم شعبے ہوں گے، جن میں تجارت، ٹیکنالوجی، تعلیم اور ثقافت شامل ہیں۔
