ہومبریکنگ نیوزچیئرمین ہو جائیں ہوشیار !!شاملاتی گروپ تیار ۔۔۔۔ڈیڑھ ارب سے زائد کے پلاٹس کی واردات ،، نا ایوارڈ ، نا ریکارڈ پلاٹس کی الاٹمنٹ کی ڈگری کیسے ہوئی ؟ بورڈ فیصلے کا انتظار ،،چشم کشا انکشاف سب نیوز پر

چیئرمین ہو جائیں ہوشیار !!شاملاتی گروپ تیار ۔۔۔۔ڈیڑھ ارب سے زائد کے پلاٹس کی واردات ،، نا ایوارڈ ، نا ریکارڈ پلاٹس کی الاٹمنٹ کی ڈگری کیسے ہوئی ؟ بورڈ فیصلے کا انتظار ،،چشم کشا انکشاف سب نیوز پر

اسلام آباد(ایڈیٹر انوسٹی گیشن) سی ڈی اے کے لینڈ ڈائریکٹوریٹ میں شاملاتی گروپ کی کاروائیاں سامنے انے لگیں ،، جن کو چھپانے کے لیے شاملاتی گروپ کے کارندے ممبر اسٹیٹ کو اپنے حصار میں لیے ہوئے ہیں ،، سب نیوز کو دستیاب دستاویز کے مطابق سی ڈی اے کے لینڈ و اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں ڈیرھ ارب سے زائد کے پلاٹس کی ورادات کا انکشاف اس وقت سامنے آیا جب سابقہ ڈائریکٹر لینڈ اور سابقہ ڈپٹی ڈائریکٹر کو معلوم ہوا کہ ایک سو ایک BUP کے کلیم کی بابت پلاٹس کی ڈگری عدالت سے ہو چکی ہے اور اب اس ڈگری پر عملدرآمد کے لیے سابقہ ڈائریکٹر اور ڈپٹی ڈائریکٹر پر دباؤ ڈالا جا رہا تھا۔

اس ضمن میں ریونیو ریکارڈ چیک کروایا گیا تو معلوم ہوا کہ موضع بادیہ قادر بخش کا یہ کلیم بنام صفیہ بیگم عدالت سے ڈگری ہوا ہے جس کا نا تو ایوارڈ ہوا اور نا ہی اسکا کوئی ریکارڈ ہے جبکہ کلیم کی قبضل وصول بھی ریکارڈ کا حصہ نہیں ،، ان تمام حقائق کے بعد سابقہ ڈپٹی کمشنر و ڈائریکٹر لینڈ کی ہدایت پر سابقہ ڈپٹی ڈائڑیکڑ لینڈ نے تمام حقائق کی ساتھ کیس بورڈ کو بھیج دیا بورڈ کو بھیجے گئے کیس پر ممبر اسٹیٹ محمد زمان وٹو کے بھی دستخط موجود ہیں تین جولائی کو ہونے والی بورڈ میٹنگ کے ایجنڈے میں درج بالا کیس ڈیسکس ہوا جس کا فیصلہ تاحال سامنے نہیں آیا ،، یاد رہے شاملاتی گروپ کے حواریوں کو جب معلوم ہوا کی سابقہ ڈائریکٹر و ڈپٹی ڈائریکٹر کی جانب سے ڈگری کی مثبت عملدرآمد کی بجائے منفی سفارشات بھیجی گئی ہیں تو جی ٹین کے پانچ پلاٹس کی الاٹمنٹ کا معاملہ میڈیا میں اٹھایا گیا جو کہ ممکنہ طور پر شاملاتی گروپ کی ہی کاروائی تھی۔

یاد رہے وہ لیٹرز بھی دو سال پہلے کے افیسران کے دستخط شدہ تھے جن پر عملدرآمد بھی روک دیا گیا تھا ،، شاملاتی گروپ کی وارداتوں میں روکاوٹ کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ ممبر اسٹیٹ کو غلط معلومات فراہم کی جائیں تاکہ سابقہ ڈائریکٹر و ڈپٹی ڈائریکٹر کو تبدیل کروایا جا سکے جبکہ ممبر اسٹیٹ اور لینڈ ڈائریکٹوریٹ نے جی ٹین کے کسی بھی قسم کی الاٹمنٹ کی تصدیق نہیں کی ،، تاہم یہ امر قابل تحقیق ہے کہ درج بالا متاثرین کے کلیم پر ریکارڈ کلئیر نا ہونے کے باوجود ڈگری کیسے ہو گئی ؟ سی ڈی اے کے لاء ونگ نے کیوں اسکا دفاع نہیں کیا ؟ کیا ڈگری کے خلاف پٹیشن دائر کی گئی ؟ اس ضمن میں موجودہ ممبر اسٹیٹ کی جانب سے انکوائری کی بجائے بورڈ میں کیس لے جانے پر بھی شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں ،، یہ امر بھی حقیقت ہے کہ اگر سی ڈی اے بورڈ درج بالا کیس پر الاٹمنٹ کرنے کے احکامات جاری کر دیتا ہے تو تمام بورڈ ممبران اس کے ذمے دار ہونگے سب نیوز انوسٹی گیشن سیل بہت جلد شاملاتی گروپ کے سرغنہ اور حواریوں کے نام بمعہ ثبوت منظر عام پر لائے گا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔