ہومتازہ ترینمستقبل اے آئی ، بائیوٹیکنالوجی اور جدید ٹیکنالوجیز اپنانے والے انٹرپرینیورز کا ھے۔ سردار طاہر محمود

مستقبل اے آئی ، بائیوٹیکنالوجی اور جدید ٹیکنالوجیز اپنانے والے انٹرپرینیورز کا ھے۔ سردار طاہر محمود

اسلام آباد: اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے صدر سردار طاہر محمود نے پاکستان میں کاروباری سوچ اور انٹرپرینیورشپ کے انداز میں بنیادی تبدیلی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوانوں اور کاروباری برادری کو روایتی کاروباری ماڈلز سے آگے بڑھ کر ابھرتے ہوئے “ففتھ ایج” کے تقاضوں کے لیے خود کو تیار کرنا ہوگا، جہاں مصنوعی ذہانت (AI)، بائیوٹیکنالوجی، جینیٹک انجینئرنگ، ہیلتھ کیئر، انفارمیشن ٹیکنالوجی، روبوٹکس اور جدید مینوفیکچرنگ باہم مل کر نئی صنعتیں اور غیر معمولی معاشی مواقع پیدا کر رہے ہیں۔

آئی سی سی آئی میں “How to Become a Real Entrepreneur – Build, Grow & Lead” کے عنوان سے منعقدہ موٹیویشنل سیشن سے خطاب کرتے ہوئے سردار طاہر محمود نے کہا کہ دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں ٹیکنالوجیز الگ الگ ترقی کرنے کے بجائے ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہو کر صنعتوں، کاروبار اور انسانی زندگی کو تبدیل کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو صرف ملازمت کے متلاشی نوجوان پیدا کرنے کے بجائے روزگار پیدا کرنے والے کاروباری افراد تیار کرنا ہوں گے اور انٹرپرینیورشپ، جدت، قیادت، دولت کی تخلیق اور مسائل کے حل کو معاشی ترقی کی حکمت عملی کا بنیادی حصہ بنانا ہوگا۔ “ہمیں ایسی نسل تیار نہیں کرنی جو پوچھے کہ اسے ملازمت کہاں ملے گی؛ ہمیں ایسی نسل تیار کرنی ہے جو پوچھے کہ وہ کتنی ملازمتیں پیدا کر سکتی ہے،” انہوں نے کہا۔
سردار طاہر محمود نے کہا کہ پاکستان کو اپنے مسائل کے بجائے اپنی وسیع اقتصادی صلاحیت اور بے پناہ مواقع پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ نوجوان آبادی، تیزی سے پھیلتے شہر، بڑھتی ہوئی صارف مارکیٹ اور بے شمار غیر پوری ضروریات پاکستان کے لیے بڑے کاروباری مواقع ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ بڑا سوچیں، مثبت اور پُرعزم رہیں، ٹیکنالوجی اپنائیں اور ناکامی کو سیکھنے کا ذریعہ سمجھیں۔ انہوں نے کہا کہ AI، بائیوٹیکنالوجی، جینیٹک انجینئرنگ، ہیلتھ کیئر، جدید مینوفیکچرنگ اور روبوٹکس کا باہمی امتزاج عالمی مسابقت کا نقشہ بدل دے گا۔ “مستقبل اُن لوگوں کا نہیں ہوگا جو اس کا انتظار کریں گے، مستقبل اُن کا ہوگا جو اسے تعمیر کریں گے،” انہوں نے کہا۔
موٹیویشنل اسپیکر مظہر منیر مہدی نے نوجوان کاروباری افراد کو مثبت سوچ اپنانے، مایوسی سے بچنے اور اپنی صلاحیتوں پر اعتماد پیدا کرنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ کامیاب انٹرپرینیور مشکلات اور ناکامیوں سے گھبرانے کے بجائے انہیں سیکھنے اور آگے بڑھنے کے مواقع میں تبدیل کرتا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کو عزم، مستقل مزاجی، خود اعتمادی اور عملی جدوجہد کے ساتھ اپنے مقاصد حاصل کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا، “مواقع کا انتظار نہ کریں، مواقع خود پیدا کریں۔”
آئی سی سی آئی کے نائب صدر طاہر ایوب نے انٹرپرینیورشپ اور جدت کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی نوجوان آبادی ملک کا سب سے بڑا معاشی اثاثہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی صلاحیتوں، تخلیقی سوچ اور ٹیلنٹ کو بامعنی مواقع سے جوڑ کر انہیں قومی معاشی ترقی کا فعال حصہ بنایا جا سکتا ہے ۔
آئی سی سی آئی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے سوشل موبلائزیشن اینڈ کمیونیکیشن کے چیئرمین کاشف قریشی نے سیشن کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایسے پروگراموں کا مقصد نوجوانوں میں کاروباری سوچ کو فروغ دینا اور انہیں محض ملازمت کے متلاشی افراد کے بجائے معیشت میں فعال کردار ادا کرنے والے کاروباری افراد کے طور پر تیار کرنا ہے۔
وائس چیئرپرسن مس مقدس چوہدری نے سیشن کی نظامت کی، جس میں نوجوان کاروباری افراد اور بزنس کمیونٹی کے ارکان نے بھرپور شرکت کی۔ سیشن کے دوران انٹرپرینیورشپ، ذاتی ترقی، قیادت، جدت اور مستقبل کے کاروباری مواقع کے حوالے سے شرکاء کو مفید رہنمائی فراہم کی گئی۔ تقریب میں آئی سی سی آئی کے نائب صدر عرفان چوہدری، ایگزیکٹو ممبران وسیم چوہدری، ذوالقرنین عباسی، عمران منہاس، سابق سینئر نائب صدر خالد چوہدری اور دیگر کاروباری شخصیات بھی موجود تھیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔