انقرہ(شبانہ ایاز)ترک پارلیمان کے متحرک رکن، نیٹو پارلیمانی اسمبلی کے رکن اور پاکستان-ترکیہ پارلیمانی دوستی گروپ کے چیئرمین علی شاہین نے ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مکہ مکرمہ میں طے پانے والے سہ فریقی دفاعی معاہدے پر پاکستانی قوم کو مبارکباد دی ہے۔
اپنے خصوصی ویڈیو پیغام میں علی شاہین نے اس معاہدے کو ایک نہایت اہم اور قیمتی قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسلم دنیا کے مسائل مسلم معاشروں کے اپنے افراد، اپنے نظام اور اپنے اداروں کے ذریعے حل ہونے چاہئیں۔
پاکستان سے گہری وابستگی رکھنے والے علی شاہین، جنہوں نے کراچی یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور خود کو ’’پاکستان کا بیٹا‘‘ قرار دیا، نے کہا کہ مسئلہ کشمیر، فلسطین اور عالمِ اسلام کے دیگر تنازعات کے حل کے لیے ایک مؤثر علاقائی نظام کی طویل عرصے سے ضرورت تھی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ اس سمت میں پہلا قدم تھا، جبکہ ترکیہ کی شمولیت نے علاقائی دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔
علی شاہین نے واضح کیا کہ مکہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف جارحانہ اتحاد نہیں بلکہ دفاعی تعاون کا فریم ورک ہے۔ ان کے مطابق تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا اور مشترکہ دفاعی ردِعمل دیا جائے گا۔
انہوں نے مستقبل میں اس دفاعی تعاون کے مصر، قطر، کویت، بحرین، اردن، شام، عراق اور آذربائیجان سمیت دیگر ممالک تک پھیلنے کے امکانات کا بھی ذکر کیا۔
علی شاہین نے دعا کی کہ ’’معاہدۂ مکہ خیر و برکت کا وسیلہ ثابت ہو‘‘ اور یہ معاہدہ علاقائی و عالمی امن، استحکام اور عالمِ اسلام کو درپیش بحرانوں کے حل میں اہم کردار ادا کرے۔
