اسلام آباد (سب نیوز)آئی ایم ایف کی شرط پر سرکاری اداروں کے قوانین میں 174 ترمیم کی ڈیڈ لائن کے تناظر میں حکومت متحرک ہوگئی۔
آئی ایم ایف کے مذاکرات کے دوران ہی ترامیم پارلیمنٹ سے پاس کرائی جائیں گی، اسپیکر قومی اسمبلی ایازصادق متحرک، اپوزیشن اوراتحادیوں کو راضی کرینگے،گزشتہ روزاس معاملے پر پیپلز پارٹی وفد سے اسپیکر چیمبر طویل مشاورت ہوئی، پیپلز پارٹی نے حکومت سے قانون سازی میں تعاون نہ کرنیکا اعلان کر رکھا ہے۔ ایاز صادق نے آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے کیلئے قانون سازی میں تعاون مانگا، پیپلز پارٹی راضی ہوئی تو آئندہ قومی اسمبلی اجلاس میں ترامیم پیش کی جائیں گی۔
ذرائع کے مطابق پاکستان نے سرکاری اداروں کے9سے10قوانین میں ترامیم کی چوتھی ڈیڈ لائن بھی پوری نہیں کی، آئی ایم ایف نے ایس اوایزقوانین کومرکزی ایس اوای ایکٹ سے ہم آہنگ کرنے کا مطالبہ کررکھاہے، آئی ایم ایف کی شرط پر میری ٹائم ایکٹ میں بھی ترمیم کی جائے گی۔آئی ایم ایف نے واپڈا کے گورننس ڈھانچے میں موثر اصلاحات کا مطالبہ کر رکھا ہے، حکومت نے ایس او ای قوانین میں ترامیم کے لیے متعدد مرتبہ نئی ڈیڈ لائن لی۔ آئی ایم ایف نے ایس اوای قوانین میں ترامیم نومبرکے وسط تک مکمل کرنیکی ہدایت کررکھی ہے۔
آئی ایم ایف نے نیب چیئرمین کی تقرری کا عمل شفاف اور قواعد پر مبنی بنانے پرپیشرفت کا جائزہ لیا، نیب چیئرمین کی تقرری کے عمل کو شفاف بنانے کے لیے نیب آرڈیننس میں ترمیم زیر غور ہے، ایس او ای قوانین میں ترامیم کیلئے حکومت نے جنوری 2026 میں 6 قوانین پارلیمنٹ کوبھجوائے تھے۔وزارت خزانہ کے مطابق مجموعی طور پر مختلف قوانین میں 174 ترامیم کرنی ہیں، تین سرکاری اداروں سے متعلق مخصوص قوانین میں ترامیم پر مزید پیش رفت درکار ہے۔
چوتھے جائزہ کی منظوری کیلئے آئی ایم ایف بورڈ کا اجلاس نومبر میں ہونے کا امکان ہے، چوتھے جائزہ اور اگلی قسط کی منظوری کامیاب مذاکرات سے مشروط ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پاکستان کو مزید ایک ارب ڈالر کی قسط ملنے کا امکان ہے۔
آئی ایم ایف کی پاکستان کیلئے نئی شرائط، حکومت 174ترامیم جلد پاس کرنے کیلئے متحرک
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
